2018 ‘ ڈالر 28 روپے 36 پیسے مہنگا ‘ مہنگائی کا طوفان ‘ غریبوں کی سانسیں بند

2018 ‘ ڈالر 28 روپے 36 پیسے مہنگا ‘ مہنگائی کا طوفان ‘ غریبوں کی سانسیں بند

  

ملتان (نیوز رپورٹر) اختتام پذیر سال 2018 میں ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا،لہذا روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 28 روپے تک کا اضافہ ہوا جس کے باعث ملکی قرضوں (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

کے حجم میں 2400 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ تفصیلات کے مطابق سال 2018 کے دوران ملک میں ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں 2018 کے دوران ڈالرز کی قدر میں 28 روپے تک کا اضافہ ہوا۔2018 کے دوران انٹر بینک میں ڈالر 28 روپے 36 پیسے مہنگا ہوا جبکہ ایک سال کے دوران انڑ بینک میں ڈالر کی قیمت 26 فیصد بڑھ گئی۔ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بیرونی قرضے 2400 ارب روپے بڑھ گئے۔ دوسری جانب سال 2018 میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر 28 روپے 40 پیسے مہنگا ہوا۔ ایک سال میں اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالرکی قیمت 26 فیصد بڑھی گئی واضح رہے کہ سال 2018 میں روپے کی ایسی بے قدری ہوئی جس نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ایک وقت میں 110 میں ٹریڈ ہونے والا ڈالر ایک سال کے دوران 140 روپے کی ریکارڈ سطح پر ٹریڈ ہونے لگا اور ملک پر عائد واجب الادا قرضے صرف 12 ماہ کی مدت میں 2700 ارب روپے تک بڑھ گئے۔ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ بیرونی ادائیگیوں کا زور اور مالیاتی خسارہ ہے۔ روپیہ کمزور ہونے سے ایک سال کے دوران درآمدی اشیاء جس میں کھانے کا تیل، دالیں، موبائل فونز، موٹر سائیکلیں،گاڑیاں، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء مہنگی ہوگئیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -