بھارت میں زندگی اور موت سے لڑتا پاکستانی نوجوان مسیحا کا منتظر

بھارت میں زندگی اور موت سے لڑتا پاکستانی نوجوان مسیحا کا منتظر

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)حیدرآباد کا 17 سالہ نوجوان منان علی میرانی نومبر (بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

سے بھارت کے اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے اور علاج کے اخراجات نے منان کے والدین کی مفلسی میں مزید اضافہ کردیا ہے جس کے باعث ان کی آنکھیں بسترِ مرگ پر لیٹے اپنے جواں سال کے علاج کیلئے کسی مسیحا یا حکومتی امداد کی منتظر ہیں۔حیدرآباد کے رہائشی مدد علی میرانی محکمہ تعلیم میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات ہیں، 2016 میں مدد علی کے گھر اس وقت مصیبتوں نے بسیرا کرلیا جب ڈاکٹروں نے انہیں ان کے 17 سالہ بیٹے منان علی کی بیماری کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک دل کی نہایت پیچیدہ اور جان لیوا بیماری کا شکار ہے، ڈاکٹروں نے منان کے فوری آپریشن کا مشورہ دیا لیکن نوجوان کے دل کا آپریشن صرف پڑوسی ملک بھارت میں ہی ممکن تھا۔مدد علی نے اپنے لختِ جگر کے علاج کیلئے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے 55 کلومیٹر دور واقع جے پی اسپتال سے رابطہ کیا اور معلومات حاصل کیں، بے بس باپ نے منان کے علاج کیلئے رقم اسپتال میں جمع کرائی اور بیٹے کی زندگی بچانے کی آس لیے بھارت جا پہنچا۔منان علی میران کا پہلا آپریشن تو کامیاب ہوا لیکن جے پی اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے اگلے برس یعنی 2017 میں دوسرے آپریشن کیلئے دوبارہ اسپتال آنے کا کہا۔اسپتال انتظامیہ نے منان کے دوسرے آپریشن پر 12 لاکھ روپے کی خطیر رقم کا خرچ بتایا ، مدد علی نے اپنی آنکھوں کی روشنی اپنی اولاد کو بچانے کیلئے اپنی اہلیہ کے زیور اور اپنی جمع پونجی لگا کر بیٹے کے علاج کیلئے 12 لاکھ بھارتی روپے اسپتال میں جمع کرائے۔منان کی بیماری مزید خطرناک صورت اختیار کرگئی۔نومبر 2018 کو مدد علی اپنے جگر گوشے کو لیکر جے پی اسپتال پہنچے جہاں 15 تاریخ کو نوجوان کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔ڈاکٹروں کے مطابق منان کے پھیپھڑوں میں خون کا رساؤ شروع ہوگیا ۔اسپتال انتظامیہ نے والدین کو ایک بار پھر 15 سے 20 لاکھ روپے جمع کرانے کا کہا جس سے ان کے حوصلے معدوم ہوگئے اور وہ اپنے جواں سال بیٹے کی زندگی کا دیا روشن رکھنے کیلئے مسیحا یا حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

امداد کی اپیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -