پک اینڈ چوز نہیں چلے گا،رحمن ملک سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے ای سی ایل ترمیمی بل18ء متفقہ طور پر منظور کرلیا

پک اینڈ چوز نہیں چلے گا،رحمن ملک سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے ای سی ایل ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ای سی ایل ترمیمی بل2018ء متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے،کمیٹی نے ڈپلومیٹک انکلیو میں سٹل سروس کو ختم کرنے کی سفارش کردی ہے،کمیٹی نے حویلیاں میں تین سال کی بچی فریال کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کی خیبرپختونخوا پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے،کمیٹی نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل قدر میں کمی کے حوالے سے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرلی ہے،کمیٹی میں شہداء کشمیر اور سابق ایم این اے علی رضا عابدی کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا،جس میں اکثریتی ممبران نے شرکت کی۔کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی کی جانب سے ای سی ایل کے قانون میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیاگیا،کمیٹی نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کی پالیسی پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ ای سی ایل میں پک اینڈ چوز کسی کو نہیں کرنے دیں گے،ای سی ایل میں نام قانون کے مطابق ڈالا جانا چاہئے نہ کہ اپنی ذاتی خواہشات پر ،یہاں ایک کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور دوسرے کو روک لیا جاتا ہے،ان سب لوگوں کے نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالے گئے جن کے خلاف نیب میں انکوائریاں چل رہی ہیں،کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا،ہمیں ای سی ایل کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ چاہئے کہ نیب اور ایف آئی اے نے کن لوگوں کے نام ڈالنے کی سفارش کی ہے،ای سی ایل کو غلط استعمال نہ کیا جائے۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا کوئی طریقہ کار ہونا چاہئے جس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اس کو وزارت داخلہ میں اپیل کا حق ہونا چاہئے اور ای سی ایل میں نام ڈالنے کے بعد 24گھنٹوں کے اندر متعلقہ آر سی کو اطلاع دی جانی چاہئے،15دن کے اندر ای سی ایل میں نام ڈالنے کا فیصلہ کیا جانا چاہئے۔کمیٹی نے ای اسی ایل ترمیمی بل2019ء منظور کرلیا اور سینیٹر میاں رضا ربانی کو نہایت عمدہ بل لانے پر مبارکباد پیش کی گئی۔رحمان ملک نے کہا کہ سی ڈی اے مستقبل میں جو پل یا روڈ بنائے تو اس میں پیدل چلنے والے اور سائیکل سواروں کا خیال رکھے۔انہوں نے کہا کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں شٹل سروس پیسے بھی لیتے ہیں اور اپنی مرضی کے اوقات پر چلتے ہیں،اب سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہے تو لوگوں کو اندر جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔کمیٹی نے شٹل سروس ختم کرنے کی سفارش کردی ہے۔کمیٹی نے حویلیاں میں ننھی بچی فریال کی جنسی تشدد کے بعد قتل کی مذمت کرتی ہے۔حکومت خیبرپختونخوا بچی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرے،اس طرح کے لوگوں کو سرعام پھانسی دی جانی چاہئے۔آئی جی خیبرپختونخوا خود فریال بچی کے قتل کی تفتیش کی نگرانی کریں۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ

مزید :

صفحہ اول -