2018ء معیشت بحران کا شکار ،قرضوں کا بوجھ 29ہزار 446ارب تک جا پہنچا

2018ء معیشت بحران کا شکار ،قرضوں کا بوجھ 29ہزار 446ارب تک جا پہنچا

  

کراچی (تجزیاتی رپورٹ : غلام مرتضی ) سال 2018 ء کے دوران پاکستان کی معیشت مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 29 ہزار 446 ارب تک پہنچ گیا ۔ سال 2018 کے دوران سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدنظمی کے باعث مہنگائی کی شرح 6.8 فیصد تک جاپہنچی اور مہنگائی کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے عوام کے کندھے شل ہو گئے ۔ سال 2018 ء میں نئی حکومت آنے کے بعد ڈالر کی اڑان 142 روپے تک پرواز کر گئی جبکہ روپیہ پورا (بقیہ نمبر44صفحہ7پر )

سال نا قدری کا شکار رہا ۔ معاشی بحران اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت بیرونی قرضوں کے لیے بھاگ دوڑ کرتی رہی لیکن اس کے باوجود سیاسی ، معاشرتی اور معاشی بحران جوں کا توں رہا ۔ زیر تبصرہ سال 2018 ء کے دوران بجٹ خسارہ 2200 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر آ گیا جبکہ بلیک لسٹ ہونے کی تلوار بھی سر پر لٹکتی رہی ۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر بھی سیاسی عدم استحکام کے سائے منڈلاتے رہے اور گذشتہ کاروباری ہفتے کے دوران مارکیٹ 1200 سے زائد پوائنٹس گنوا بیٹھی اور ابھی تک اسٹاک مارکیٹ عدم استحکام کا شکار ہے ۔ اقتصادی شرح نمو 5.8 فیصد پہنچنے کے باوجود سال کے اختتام پر معاشی صورت حال غیر تسلی بخش رہی ۔ پے در پے معاشی تنزلی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا جبکہ مالیاتی پیکیج کے لیے سعودی عرب ، چین ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک سے بھی رابطہ کیا گیا ۔ سال 2018 کے دوران ایک بار پھر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا اور بلیک لسٹ کی تلوار مسلسل سر پر لٹک رہی ہے ۔ گذشتہ سال کی نسبت برآمدات میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہونے کے باعث صنعتی شعبہ بروقت انٹرنیشنل آرڈرز پورے نہ ہونے کا شکورہ کرتا رہا اور اب بھی کراچی سمیت ملک بھر کے صنعتی علاقوں میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں ۔ موجودہ حکومت نے منی بجٹ پیش کیا جبکہ دوسرے منی بجٹ کی تیاری بھی 2018 میں ہی کی گئی ۔ مہنگائی شرح میں اضافے سے اشیاء نے خورو نوش اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں اور عام آدمی ہمیشہ کی طرح یہی شکوہ کرتا دکھائی دیا ۔ حکومت نے غریب عوام کے لیے کچھ نہیں کیا

مزید :

صفحہ آخر -