چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا مختلف مقدمات پر نیب سے بریفنگ لینے کا فیصلہ ملتوی

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا مختلف مقدمات پر نیب سے بریفنگ لینے کا فیصلہ ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین شہبازشریف نے مختلف مقدمات پر نیب سے بریفنگ لینے کا فیصلہ ملتوی کردیا۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی شہباز شریف کے زیرصدارت اجلاس منعقدہوا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ کمیٹی ایف آئی اے یا نیب کو پہلے اجلاس میں دباؤ میں نہیں لائی، اراکین کمیٹی کے ذہن میں کچھ سوالات تھے جو پوچھے گئے لہٰذا یہ تاثر درست نہیں کہ ہم نے کسی کو بیجا دبایا۔قبل ازیں پارلیمینٹ ہاؤس آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ سندھ میں ایسے کوئی حالات نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہاں گورنر راج لگایا جائے۔ایک صحافی کی جانب سے قائد حزب اختلاف سے ان کی صحت سے متعلق دریافت کرنے پر شہبازشریف نے بتایا کہ ان کی کمر میں درد ہے۔

شہباز شریف

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ، رائل پام گالف کلب اور گرینڈ حیات ہوٹل منصوبوں میں بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے ذیلی کمیٹی قائم کر دی، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ منصوبے پر تخمینے سے 68 ارب روپے زائد خرچ ہوئے ہیں، گر ینڈ حیات ہوٹل کیلئے 13.45ایکڑ اراضی چار ارب 88کروڑ 20لاکھ روپے میں لیز کی گئی،جس پر فائیو سٹار ہوٹل بنایا جانا تھا تاہم رہائشی فلیٹس بنا کر فروخت کر دئیے گئے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین شہباز شریف کے زیرصدارت منعقد ہوا ،اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ادارہ کی کارکردگی پر پی اے سی کو بریفنگ دی ، بریفنگ میں بتایا گیاکہ ہمارے پاس گریڈٖ 22کے دو ایڈیشنل آڈیٹر جنرل ہیں جبکہ محکمہ میں 1463 افسران و ملازمین کی کمی ہے،آڈیٹر جنرل کا 19۔2018 کا بجٹ 4 ارب 63 کروڑ روپے ہے،بجٹ میں سے 75 فیصد اخراجات ملازمین سے متعلق ہیں، بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ آڈٹ نے میٹر و بس ملتان، روالپنڈی ، لاہور ، پشاور کے آڈٹ مکمل کر لئے ہیں ، جبکہ پی سی بی ، اورنج لائن ٹرین ، پی ایس ایل ، سمیت دیگر منصوبوں کے آڈٹ بھی مکمل کر لئے گئے ہیں ، بی آر ٹی پشاور ، بلین ٹری سونامی منصوبوں سمیت دیگر کئی منصوبوں کے آڈٹ جاری ہیں ، بریفنگ میں بتایا گیا کہ آڈٹ نے 2013 سے 2018 تک 394 ارب 73 کروڑ روپے کی وصولیاں کیں،سال 18۔2017 میں آڈٹ کے دوران 160 ارب روپے سے زائد کی وصولیاں کی گئیں۔

ذیلی کمیٹی قائم

مزید :

صفحہ اول -