وفاق نے سندھ حکومت گرانے کا کوئی سگنل نہیں دیا،افتخار درانی

وفاق نے سندھ حکومت گرانے کا کوئی سگنل نہیں دیا،افتخار درانی

  

اسلام آباد(آئی این پی ) معاون خصوصی برائے وزیر اعظم افتخار درانی نے کہا ہے کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کی ہدایت ملی ہم نے نام ڈال دئیے۔ وفاق نے سندھ حکومت گرانے کا کوئی سگنل نہیں دیا گیا۔ پیر کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار درانی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی نمائندے کا کیس عدالت میں نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جے آئی ٹی بنائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن کے خلاف جے آئی ٹی بنائی گئی ان کو عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت سوائے وقت مانگنے کے اور کوئی راستہ نہیں۔ بلاول کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پیپلز پارٹی بہت زیادہ پریشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی تحریک عدم اعتماد لا رہا ہے تو کل کے بجائے آج تحریک عدم اعتماد لے کر آئے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماں کے خلاف بھی ریفرنسز ہیں اور وہ استعفیٰ دے رہے ہیں تو ہم بھی دے دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پوری جماعت متحد ہے اور اس میں کوئی ٹوٹ پھوٹ نہیں۔ ہم اپنی قیادت کے ساتھ ہیں اور یہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے 99 اراکین میں سے 50 الگ ہوکر گروپ بنا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب وزیراعلی کے ساتھ ہیں اور ان کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔ عوام نے ہمیں ووٹ دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی کا نام اس لیے ای سی ایل میں ڈالا گیا تاکہ ہمارے علاقوں میں سی پیک سے ہونے والی ترقی کو روکا جاسکے۔تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو دیکھیں اور پی ٹی آئی سے نالاں اراکین اور اتحادیوں کو دیکھا جائے تو ہمارے لیے تحریک عدم اعتماد لانا بہت آسان ہے۔ جے آئی ٹی کے ذریعے سندھ حکومت کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس(ر) شائق عثمانی نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ بہت عجیب و غریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کی کمزوریاں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں اور یہ سپریم کورٹ میں ٹھر نہیں پائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ کا معاملہ ایلگ تھا لیکن العزیزیہ کیس میں الیگ کہانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ فیصلے میں قطرء شہزادے لکے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے لیکن قطری شہزادے کا بیان بھی شامل ہونا چاہیے تھا۔

افتخار درانی

مزید :

صفحہ آخر -