جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ، وزیر اطلاعات کے دورہ سندھ قکیوں منسوخ کیا؟

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ، وزیر اطلاعات کے دورہ سندھ قکیوں منسوخ ...

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے معاملے پر پیر کے روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے جو ریمارکس دئیے اور پھر وزیر اطلاعات کا دورۂ سندھ منسوخ ہوگیا، اس پر قیاس آرائیاں شروع ہیں، لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ جن پتوں پر تکیہ کیا جا رہا تھا، انہی نے ہوا دینا شروع کر دی تھی تو پھر دورۂ سندھ سے کیا حاصل ہوتا؟ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے جن کا سیاسی سرگرمیوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے، گھوٹکی کے مہر سرداروں کی میزبانی کا دو دن تک لطف اٹھایا اور کراچی واپس آگئے، اس دورے کے بعد وزیر اطلاعات نے کراچی اور اندرونِ سندھ جاکر سارے معاملے کو دوآتشہ اور سہ آتشہ بنانا تھا، لیکن دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ ایک ٹی وی چینل کا خیال ہے کہ پیر پگارہ نے اس سلسلے میں ملاقات سے معذرت کرلی تھی اور حلیف جماعت ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کہہ دیا تھا کہ وہ سندھ حکومت غیر جمہوری طریقے سے گرانے کے معاملے پر ساتھ نہیں دے گی۔ ایسے میں سندھ جاکر بے مقصد پھرنے سے بہتر تھا کہ اسلام آباد ہی میں بیٹھ کر دل کی بھڑاس نکال لی جائے۔ سو ایسا ہی کیا گیا اور اعلان کر دیا گیا کہ ہم تو سندھ حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے، صرف یہ معصوم سی خواہش ہے کہ مراد علی شاہ استعفا دے دیں، ان کی جگہ ایک دوسرے سید کو وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس معاملے سے وفاقی حکومت کا براہ راست تعلق کیا ہے؟ سندھ میں ایک اسمبلی ہے جو اسی طریقے سے منتخب ہوئی ہے جس سے باقی اسمبلیاں وجود میں آئی ہیں۔ اگر پورے ملک میں انتخابی دھاندلی ہوئی ہے تو سندھ میں بھی ہوئی ہوگی، اگر باقی صوبوں میں انتخابی قواعد و ضوابط کا مذاق اڑایا گیا ہے تو باقی صوبوں میں بھی ایسا ہی ہوا ہوگا، اگر سندھ میں انتخابی عمل کے نتیجے میں چور اور ڈاکو منتخب ہوکر آئے ہیں تو باقی صوبوں میں کون سے دودھ کے دھلے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ایک زمانے میں مرحوم پیر پگارہ نے تاریخی جملہ کہا تھا، جنہوں نے کیک کا ٹکڑا کھایا ان کا احتساب ہو رہا ہے اور جو پوری بیکری کھا گئے، وہ حکومت میں بیٹھے ہیں۔ کیا بیکری کھانے والے آج حکومت میں نہیں ہیں؟ اگر مراد علی شاہ پر کچھ الزامات ہیں تو کیا کے پی کے میں وزیراعلیٰ سمیت بہت سے وزیروں پر ایسے الزامات نہیں ہیں، کیا پنجاب میں علیم خان سمیت کئی وزیروں پر اس طرح کے الزامات نہیں ہیں اور تو اور کیا وزیر دفاع پر بعض الزامات نہیں ہیں اور کیا وزیراعظم ہر قسم کے الزامات سے بری الذمہ ہوگئے، اگر محض الزامات کی بنیاد پر کسی دوسرے کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا تو سندھ کے وزیراعلیٰ کا نام کیوں ڈال دیا گیا۔ جے آئی ٹی کے سربراہ نے اگر ایک خط لکھ کر حکومت کو نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی تو چیف جسٹس نے بجاطور پر سوال کیا ہے کہ کیا وہاں کسی نے اپنا ذہن استعمال نہیں کیا۔

سندھ اسمبلی نے اگر اپنا قائد ایوان تبدیل کرنا ہے تو اس کا ایک طے شدہ طریق کار ہے۔ یہ یقین دہانی غیر متعلقہ لوگ کیوں کرا رہے ہیں کہ ’’شاہ کی جگہ دوسرا شاہ‘‘ آجائے گا۔ جب تک مراد علی شاہ خود برضا و رغبت استعفا نہیں دیتے یا پارٹی ان سے استعفا نہیں لیتی یا اسمبلی کے اندر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور نہیں ہو جاتی، اس وقت تک انہیں وزیراعلیٰ رہنے کا اسی طرح حق ہے جس طرح باقی صوبوں کے وزیر اعلیٰ یہ حق رکھتے ہیں، جب ان کے خلاف الزامات ثابت ہوں گے اور ان ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر سپریم کورٹ کوئی حکم جاری کرے گی، اس وقت تک ان کے خلاف جو کچھ بھی کہا جائے، ان کی حیثیت یا تو الزامات کی ہے یا صرف سیاسی بیانات کی؟ اگر محض مطالبات پر ہی لوگ استعفا دینے لگے تو کل بہت سے لوگ یہ مطالبہ لے کر میدان میں آجائیں گے کہ وزیراعظم فلاں فلاں الزامات کی بنیاد پر استعفا دیں۔ تو کیا وہ ایسا کریں گے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا سپریم کورٹ میں پیش ہوتا تھا کہ یہ میڈیا کے پاس پہنچ گئی یا ان لوگوں نے پہنچا دی، جنہوں نے بعد میں کوئی وقت ضائع کئے بغیر اس پر حاشیہ آرائی شروع کر دی اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو استعفے کے لئے پیر کے دن کی ’’ڈیڈ لائن‘‘ بھی دے دی، لیکن اس روز سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی نے جلد بازوں کا پورا گیم پلان الٹ دیا جو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب وہاں تحریک انصاف کی حکومت بن جائے گی، جس رکن کا نام ’’وزیراعلیٰ‘‘ کے طور پر لیا جا رہا ہے، ان کی پارٹی تو سندھ اسمبلی میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ ان کا تعلق جی ڈی اے سے ہے، جو سندھ میں بری طرح ہار گیا تھا، حالانکہ الیکشن سے پہلے اس غبارے میں کافی ہوا بھری گئی تھی، لیکن انتخاب کا نتیجہ آیا تو پتہ چلا ہوا زیادہ بھر دی گئی تھی، زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا تھا، پھر جی ڈی اے نے الیکشن میں دھاندلی کی شکایت کی اور مظاہرے بھی کئے، چونکہ جی ڈی اے کا اپنا وجود سندھ تک محدود ہے، اس لئے مظاہرے بھی اسی صوبے کے چند مخصوص علاقوں میں کئے گئے جب کہ مولانا فضل الرحمن تو پورے ملک کے انتخابات پر ہی شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے تھے۔ وفاقی حکومت کے جذباتی وزیروں کو اگر بہت جلدی نہ ہوتی تو شاید اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا جاسکتا۔ اب تو لگتا ہے سارا معاملہ فائر بیک کر جائے گا۔ بلاول زرداری نے تو کہہ دیا ہے کہ آصف زرداری حکم کریں تو ایک ہفتے میں وفاقی حکومت بھی گرا سکتے ہیں، یہ اگرچہ جذباتی بات ہے، لیکن کیا جذباتی تقریروں کا جواب جذبات کے سوا کسی اور انداز میں بھی دیا جاسکتا ہے؟

پتے ہوا دینے لگے

مزید :

تجزیہ -