فواد چودھری کا دورہ کراچی ملتوی ، حکومت سندھ کی تبدیلی افواہیں دم توڑ گئیں

فواد چودھری کا دورہ کراچی ملتوی ، حکومت سندھ کی تبدیلی افواہیں دم توڑ گئیں

  

کراچی(رپورٹ/نعیم الدین) سال 2018 کے رخصت ہونے پر کراچی کی عوام کی دعا ہے کہ آنے والا نیا سال شہر قائد کے لیے خوش قسمت ثابت ہو اور جو ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار رہے وہ 2019 میں پایہ تکمیل تک پہنچیں ، جن میں گرین بس، سرکلر ریلوے کا نظام، پانی کے منصوبے ودیگر شامل ہیں جبکہ دوسری جانب سندھ میں 2018 کے آخر میں اچانک رونما ہونے والی سیاسی ہلچل میں کچھ ٹھہراؤ آگیا، وفاقی وزیر چوہدری فواد کا کراچی کا دورہ اچانک ملتوی ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیا سندھ صوبے میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونے والی تھی ؟ جسے فی الحال روک دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود سیاسی پنڈتوں کی پیشنگوئی ہے کہ 2019 کے اوائل میں ایسا فارمولا ضرور لایا جائے گا جس سے واضح تبدیلی صوبہ میں آسکے۔ فواد چوہدری نے اپنے دورے کے دوران گورنر سندھ اور بعض اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کرنا تھیں جو کہ تعطل کا شکار ہوگئیں۔ اگر یہ ملاقاتیں پروگرام کے مطابق ہوتیں تو پھر شاید صحیح اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ سندھ میں حقیقت میں کوئی ہلچل مچنے والی ہے۔ لیکن یہ افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ رائے عامہ چیک کرنے کے لیے کوئی تُرپ کا پتہ سیاسی مارکیٹ میں پھینکا گیا تھا ۔ وفاق اور سندھ کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال اس وقت سندھ اسمبلی میں نمبر گیم اہمیت رکھتا تھا ، صوبائی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 99 ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین جن میں پی ٹی آئی کے پاس 30، متحدہ کے پاس 20، جے ڈی اے کے پاس 14، تحریک لبیک کے پاس 3 اور متحدہ مجلس عمل کے پاس 1 نشست ہے۔ اگر کوئی نیا فارورڈ بلاک بنتا ہے تو اس میں پیپلز پارٹی کے کچھ لوگوں کو شامل کرنا ہوگا، جس کا عندیہ وفاقی وزیر فواد چوہدری پہلے ہی دے چکے ہیں کہ ہم سے کچھ ارکان اسمبلی رابطے میں ضرور ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے حکومت کو خبردار کردیا ہے کہ اگر سندھ میں حکومت کو ہلانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی حکومت بھی نہیں بچ سکے گی۔ اور رہنماؤں کو جیل جانا پڑے گا کیونکہ پی ٹی آئی کی نہ ہی وفاق اور نہ ہی پنجاب میں واضح اکثریت ہے ، سارا کھیل پیپلز پارٹی کے پاس ہے ، ایسی صورتحال میں سندھ میں تبدیلی لانا مشکل ہوسکتا ہے یہ ایسا معاملہ ہے جو کہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ پی ٹی آئی سمجھ رہی ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -