ملکہ برطانیہ کو چڑیا گھر کو تحفے میں دیئے گئے کانسی شیروں کے مجسموں کو دوبارہ نصب کر دیا گیا

ملکہ برطانیہ کو چڑیا گھر کو تحفے میں دیئے گئے کانسی شیروں کے مجسموں کو دوبارہ ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر )میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ 100 سال قبل ملکہ برطانیہ کی جانب سے کراچی چڑیا گھر کو کانسی سے بنے شیروں کے دو مجسموں کا تحفہ دیا گیا تھا جنہیں چڑیا گھر میں دوبارہ نصب کر دیا گیا ہے،ملکہ برطانیہ کی طرف سے کراچی کے عوام کو دیا جانے والا یہ تحفہ 2004 میں کمروں میں بند کر دیا گیا تھا بظاہر تو یہ چھوٹی سی چیز ہے مگر اس کی ایک تاریخی اہمیت ہے کہ دنیا کی ایک بڑی شخصیت کا عوام کے لئے تحفہ ہے لہٰذا اسے عوام کے درمیان موجود رہنا چاہئے ملکہ برطانیہ کا یہ تحفہ دنیا کے دو زولوجیکل گارڈن ،برطانیہ اور کراچی زو کے لئے تھا جو آج کراچی کے عوام کو واپس کر دیا گیا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی شام کراچی چڑیا گھر میں کانسی سے بنے دو شیروں کے مجسموں کی دوبارہ تنصیب کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹرسید سیف الرحمن، سینئر ڈائریکٹر مسعود عالم کے علاوہ بچوں اور خواتین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی جبکہ بچوں نے ان شیروں کے ساتھ تصویریں بھی بنوائیں، میئر کراچی نے کہا کہ ان مجسموں کو عمر رسیدہ افراد زیادہ دیکھنے آئیں گے جن کی طالب علمی کے زمانے کی یاداشتیں شیروں کے ان مجسموں سے وابستہ ہیں اور جن لوگوں نے 60 سال پہلے کراچی چڑیا گھر میں ان کے ساتھ تصویریں بنوائی تھیں آج وہ ان کو دیکھ کر خوش ہوں گے، انہوں نے کہا کہ یہ بہت قیمتی ورثہ ہے اور ہر حال میں اس کی حفاظت کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ کراچی چڑیا گھر میں مزید جانور لانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس حوالے سے انٹرنیشنل زو ایسوسی ایشن سے رابطہ ہے جبکہ حکومت بھی اس حوالے سے مدد کررہی ہے ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ہر محکمہ کو بہتر کررہے ہیں اور ترقی دے رہے ہیں، ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر شہر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری ہے اس حوالے سے کوئی دباؤ نہیں، شہر سے تجاوزات کے خاتمے پر صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور کے ایم سی ایک پیج پر ہیں، صدر مملکت، وزیراعلیٰ سب اس بات پر متفق ہیں کہ انکروچمنٹ مافیا کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہئے، صدر مملکت عارف علوی صاحب نے اس پر مبارک باد دی ہے کہ بہت اچھا کام ہوا ، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر شہر کے مختلف علاقوں سے ملبہ اٹھانے کے لئے 20 کروڑ روپے سندھ حکومت سے ابھی تک نہیں ملے، یہ رقم ملنے پر صدر کے علاقے میں بحالی کا کام اور دیگر علاقوں سے ملبہ اٹھانے کا کام فوری شروع کر دیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -