صدر مملکت نے جمیل نقش کی تصاویر کی نمائش کا افتتاح کر دیا

صدر مملکت نے جمیل نقش کی تصاویر کی نمائش کا افتتاح کر دیا

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر )صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ جمالیاتی اظہار معاشرہ میں سماجی انصاف، ہم آہنگی، معیار زندگی، حب الوطنی وغیرہ جیسے معاملات کے بارے میں آگاہی میں اضافہ کر کے ثقافت کی اہمیت اور بھی اضافہ کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ بہت بھرپور ہے اور پاکستان کی صدیوں پرانی روایات دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں، مثلاً مہر گڑھ، موئن جو دڑو، اور ہڑپہ سے پیدا ہو ئی ہیں۔ آثار قدیمہ کے یہ مقامات ہماری قوم کا بیش قیمت خزانہ ہیں اور ان کا لازماً اور ہر قیمت پر تحفظ کرنا چاہیے، اس متاثر کن ورثہ میں عالمی آرٹ کمیونٹی کو بھی شریک کرنا چاہیے اور اس کے لیے جمیل نقش جیسے فنکار سفیروں کے کام سے استفادہ کرنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز’’فشر ویمن آف مائی موئن جو دڑو‘‘ کے عنوان سے جمیل نقش میوزیم میں منعقدہ تصاویر کی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صدر نے اس بات پر بھی خصوصی زور دیا کہ ہے دور حاضر سے تعلق رکھنے والے ہمارے مصوروں، مجسمہ سازوں، مصنفوں، موسیقاروں،خوراک تیار کرنے کے ماہرین اور دیگر کے فن پاروں کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے کیوں کہ یہ فنون اور دستکاری شاندار ٹیلنٹ، مسحور کن زمینی مناظر اور اس علاقہ کی جانب سے پیش کیے گئے متنوع تجربات کا خوبصورتی سے اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زورد یا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت، پیشہ ور افراد کی ہجرت اور علاقائی و سیاسی تنوع کے باوجود ہمارے لوگ اپنی اس زرخیز زمین کی مضبوط جڑوں سے وابستہ رہے ہیں۔ہماری ممتاز ثقافت کی پرورش انسانی محبت کے مضبوط رشتوں کے ساتھ ہوئی ہے جب کہ ہمارے کھانوں اور ذائقوں نے بھی ہماری فراخدلانہ میزبانی کی خوشبو کو پھیلایا ہے۔صدر نے جمیل نقش کے لیے بھی اپنی ستائش کا اظہار کیا جنہوں نے سنہ 1989ء میں ''صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی'' اور سنہ 2009ء میں ''ستارہ امتیاز'' حاصل کرنے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی شہرت حاصل کی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ان کا کام ہمارے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتا ہیجو اپنے دیکھنے والوں کے ذہنوں کو گہری بصیرت سے مالا مال کر دیتا ہے۔انہوں یہ بات زور دے کر کہی کہ ہمیں اپنے ایسے قومی ہیروز کا جشن منانے کیلیے مزید مواقع مزید تلاش کرنا چاہیے جو پاکستان کا نرم پہلو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں زبردست کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔اس نمائش کے انعقاد کا بنیادی مقصد وادء سندھ کی تہذیب میں پائے جانیرومانوی حسن کے حامل طرز زندگی کو اجاگر کرنا ہے جو دنیا بھر سے فنو و ثقافت کے اسکالرز اور ممتاز ماہرین آثار قدیمہ کو راغب کر ر ہا ہے۔جمیل نقش کے تخلیقی روثہ کی خاص بات خاتون کا چہرہ ہے ۔اس بار انہوں نے موہنجوداڑوکی رکس کرتی لڑکی کا ایک کانسی کا مجسمہ تخلیق کیا ہے جس کو ماہی گیر عورت کی طرح پیش کیا گیا ہے ۔ان کا نظریہ ہے کہ یہ تہذیب 2500سال قبل مسیح میں دریائے سندھ کے ساتھ فروغ پائی اس لیے ان کا بنیادی پیشہ ماہی گیری تھا۔تصویروں کی اس سیریز میں موہنجوداڑو کی قدیم تہذیب کے دیگر اثار قدیمہ بھی پیش کیے گیے جن میں مچھلی اور بیل بھی شامل تھے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -