’’یہ سال بھی گزرا ہے ‘‘ بلدیاتی نمائندے بے اختیاری کا رونا روتے رہے

’’یہ سال بھی گزرا ہے ‘‘ بلدیاتی نمائندے بے اختیاری کا رونا روتے رہے

  

ًً ًً ًلاہور(دیبا مرزا سے)سال 2018 بھی صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہ دے سکا اور اختیارات ملنے کی آس میں صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں نے یہ سال بھی گزار دیا ان بلدیاتی نمائندوں کو تبدیلی سرکار سے بڑی تو قعات تھیں کہ ان کے آنے سے شائد انہیں سابق صدر پرویز مشرف کے دور کے بلدیاتی نمائندوں والے اختیارات مل جائیں گے لیکن تبدیلی سرکار نے بھی ان بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کے بیانات تو بہت دئیے لیکن عملی طور پر انہیں اختیارات دینے کے لئے اسمبلی سے ایک بھی قانون پاس نہ کروایا یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں مئیر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید سپریم کورٹ کے سامنے پھٹ پڑے کہ ان کی تو لاہور میں ایک چھوٹے سے چھوٹا افسر بھی بات نہیں سنتا اور جب وہ کسی بیروم ملک جاتے ہیں تو انہیں وہاں پر ملنے والے پروٹوکول کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ مئیر ہیں وگرنہ جس شہر کے وہ مئیر منتخب ہوئے ہیں وہاں پر توان کی کوئی بات بھی سننے کو تیار نہیں ہے ‘پی ٹی آئی نے حکومت بنانے کے بعد واضح طور پر یہ اعلانات بھی کئیے تھے کہ وہ ترقیاتی فنڈز کو صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ہی خرچ کرے گی لیکن تبدیلی سرکار نے یہ وعدہ بھی پورا نہ کیا اور ذرائع کے مطابق یہ اطلاعات زیر گردش ہیں کہ پچھلے پانچ ماہ سے بلدیاتی نمائندوں کو ایک روپے کا فنڈز بھی جاری نہیں کیا گیا ۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ سابقہ دور حکومت (ن) لیگ میں پنجاب بھر کے بلدیاتی نمائندے لاہور کے اسمبلی ہال کے سامنے اختیارات لینے کے لئے دھرنے اور مظاہرے بھی دیتے رہے ہیں لیکن تبدیلی سرکار کی حکومت آنے کے بعد ان بلدیاتی نمائندوں نے اس لئے کوئی احتجاج اور دھرنا نہیں دیا کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا انتخابی نعرہ ہی یہ تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے فوری بعد بلدیاتی نمائندوں کو مکمل طور پر با اختیار بنا دے گی لیکن بلدیاتی نمائندے اسی آس میں ہی رہے کہ شائد انہیں آج اختیارات مل جائیں لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ان بلدیاتی نمائندوں کے اقتدار کا ایک اور سال بغیر اختیارات کے ہی بیت گیا ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -