نیا سال ، کیلنڈربدل گیا لیکن قوم کے حالات نہیں ، یہ نظام ایسے ہی چلتارہے گا ؟

نیا سال ، کیلنڈربدل گیا لیکن قوم کے حالات نہیں ، یہ نظام ایسے ہی چلتارہے گا ؟
 نیا سال ، کیلنڈربدل گیا لیکن قوم کے حالات نہیں ، یہ نظام ایسے ہی چلتارہے گا ؟

  

تجزیہ :ایثار رانا

2019ء سیاستدانوں کیلئے کوئی اچھا پیغام لے کر نہیں آ رہا،احتساب ایک بھیانک سایہ ہے جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔چاہے وہ دھوپ سے نکل کر اندھیرے میں ہی کیوں نہ چھپ جائیں منظر بدل رہے ہیں،کلینڈر بدل رہے ہیں ،نہیں بدل رہے تو قوم کے حالات نہیں بدل رہے۔2019 ء مزید قرضے ،مزید مایوسیاں لیکر اس قوم کی زندگی میں داخل ہو گا۔مٹھی بھر طاقتور وڈیرے پہلے سے زیادہ مستحکم ہیں،سندھ ہو یاکے پی کے یاپھر بلوچستان ہویا پنجاب ،مٹھی بھر طاقتور تمام نظام پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔یہی حال کسی حد تک اداروں کا بھی ہے،کسے راہبر مانیں کس سے رہبری چاہیں۔جب سے دھرتی وجود میں آئی تب سے اگر کسی ایک صنعت نے ترقی کی ہے تو وہ ہے کرپشن کی صنعت،کبھی کسی سیاستدان کو کرپٹ ثابت کرنے کیلئے اتنا ہی کافی ہوتا تھا کہ اس نے ایک پرمٹ اپنے نام ریلیز کرایا ہے۔اب حالات یہ ہیں کہ اگر معلوم ہو کہ فلاں سیاستدان نے کروڑ روپے کی کرپشن کی تو وہ معصوم سادہ اور شریف لگتا ہے،بات اب کروڑوں سے نکل کر اربوں میں پہنچ چکی ہے ، سیاستدانوں کی لوٹ مار اپنی جگہ اداروں پر بیٹھے افراد کی لوٹ مار اپنی جگہ۔سندھ میں آج جو ہو رہا ہے وہ کچھ نیا نہیں،یہ اومنی گروپ اور اس طرح کے سکینڈل پہلی بار سامنے نہیں آئے،اگر آج زرداری یا بلاول کو گرفتار کر بھی لیا جائے تو کیا ہو گا،کیا شرجیل میمن کو سزا ہو سکی کیا ڈاکٹر عاصم اپنے انجام کو پہنچے کیا ایان علی کا کچھ بگاڑا جا سکا۔میری بات لکھ لیں یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا ،رہی بات کرپشن کے الزامات کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ کے مستعفی ہونے کی تو کیا ہم اخلاقیات کی اس منزل تک پہنچ گئے ہیں جہاں ہماری عزت نفس دنیاوی چکا چوند سے کہیں اہم ہوتی ہے،وہ اگر آصف زرداری ٹیم کا اہم ترین پرزہ ہیں جب کرپشن کا پہیہ چلا ہو گا تو اس پرزے نے فنکشن کیوں نہیں کیا ہو گا،میرا یقین ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ پر کرپشن ثابت ہو بھی جائے تو وہ استعفیٰ نہیں دیں گے،وہ کسی طرح بھی اسحاق ڈار سے کمتر درجہ کے سیاستدان نہیں،نئے سال کا آغاز ہو چکا ،دل پر پتھر رکھ کر لکھ رہا ہوں۔ کلینڈر بدلنے پر دنیا بھر میں جشن منایا جا رہا ہے اور پاکستان کی بے بس مخلوق ٹھٹھرتی سردی میں پھٹے لحافوں میں دبکے اپنے زندہ رہنے کا جواز تلاش کر رہے ہیں۔تمام تر مایوسیوں اور بے چارگی کے یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ اس قوم پر اپنا رحم کرے اس قوم پر جو خود اپنے پر رحم نہیں کرتی ۔

تجزیہ ؛۔ایثار رانا

مزید :

تجزیہ -