اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 103

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 103

  

میں نے باتوں ہی باتوں میں ایک پجاری سے کہا کہ میں دیوتاؤں کے حکم پر اس مقدس مندروں کے شہر کی یاترا کو آیا ہوں۔ مجھے بتایا جائے کہ کیا شہر کے باہر بھی کوئی ایسا مندر موجود ہے جو میرے علم میں نہیں ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ شہر سے دور جنگل میں سرخ چٹانوں کے پہلو میں مینا دیوی کا ایک مندر ہے جہاں کبھی کبھی راجہ گولیار مہاراج ارجن پوجاپاٹھ کرنے جایا کرتے تھے۔

میرا ماتھا ٹھنکا۔ مجھے اس اطلاع کی ضرورت تھی۔ میں اس وقت مینا دیوی کے مندر کی طرف چل پڑا۔ یہ مندر جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں گوالیار کے گھنے جنگل میں واقع تھا۔ میں نے مندر کو تلاش کرلیا۔ میں ایک عالم پنڈت یعنی رشی کے بھیس میں تھا۔ میں نے مندر کے دروازے پر پہنچتے ہی بلند آواز سے بھگوت گیتا کے اشلوک پڑھنے شروع کردئیے۔ خالص سنسکرت میں اشلوک پڑھے جانے کی آواز سن کر بوڑھا پجاری مندر سے نکل آیا اور اس نے اپنے سامنے ایک سرمنڈا رشی دیکھا جس کے ہاتھ میں کرمنڈل اور دوسرے ہاتھ میں ترشول پکڑا تھا تو وہ ہاتھ باندھ کر میرے آگے جھک گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے آشیرباد دی اور کہا

’’دیوتا شنکر نے مجھے اجڑے ہوئے مندروں کی یاتراکو بھیجا ہے۔ نراش نہ ہو۔ دیوتا اپنی اپنی مورتیاں لے کر سارے مندروں میں واپس آرہے ہیں۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 102 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بوڑھا پجاری بہت خوش ہوا۔ اسے کبھی شبہ تک نہیں ہوسکتا تھا کہ میں سلطان محمود کے دربار کا ایک مسلمان امیر ہوں۔ جس روانی سے میں سنسکرت کے اشلوک پڑھ رہا تھا۔ اتنی روانی سے اس زمانے کے ہندو پجاری اور پروہت بھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔ وہ ہاتھ باندھ کر بولا ’’مہاراج! مندر میں پدھاریئے۔‘‘ وہ مجھے مندر میں لے گیا۔ اس نے میرے آگے بکری کا دودھ اور جنگل سے توڑے گئے پھل لاکر رکھے۔ میں نے فوراً اپنی حکمت عملی پر کام شروع کردیا اور باتوں ہی باتو میں شہزادی شگفتہ کے اغوا کے موضوع پر آگیا اور اسے کہا 

’’اے پجاری! دیوتا شنکر مسلمان شہزادی کے اغوا پر بڑے خوش ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر مجھے اس آدمی کو مبارکباد پہنچانے کی تاکید کی ہے جس نے مسلمان شہزادی کو اغوا کیا اور دیوتاؤں کو آکاش میں خوش کیا‘‘یہ سن کر پجاری خوشی سے پھول گیا۔ دیوتا شنکر کی آشیر باد اور مبارک باد کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اس نے فوراً پوچھا ’’کیا دیوتا شنکر واقعی مجھ پر خوش ہیں؟‘‘

میں کچھ چونک سا پڑا۔ میں نے پجاری کی طرف گھور کر دیکھتے ہوئے پوچھا ’’تو کیا تم ہی وہ دیوتاؤں کے پیارے منش ہو جس نے ہندو مذہب کی لاج رکھ لی ہے اور آکاش پر دیوتا شنکر کو خوش کیا ہے؟‘‘

بوڑھے پجاری نے کہا ’’ہاں مہاراج! میں نے ہی مسلمان قلعے دار کی بیٹی شہزادی شگفتہ کو اغوا کروایاہے۔‘‘

میری منزل اور میرے گوہر مراد کو جانے والا دروازہ میرے سامنے کھل گیا تھا۔ اب میرے لئے یہ معلوم کرنا کوئی مشکل مرحلہ نہیں تھا کہ شہزادی شگفتہ اغوا کئے جانے کے بعد کہاں ہے۔ پجاری نے ساری بات بیان کردی اور بتایا کہ اس وقت گنگو اور اس کے چار سپاہی شہزادی شگفتہ کو لے کر سومنات کے بڑے مندر کے پنڈت کی طرف چلے جارہے ہوں گے۔ 

’’وہاں مسلمان شہزادی کی بڑے پجاری سے شادی کی جائے گی اور جب وہ امید سے ہو گی تو اسے دیوتا سومنات کے استھان کے سامنے ذبح کردیا جائے گا تاکہ دیوتا سومنات کا مندر پھر سے آباد ہو اور فضا دیوی دیوتاؤں کے بھجنوں اور سنکھ و ناقوس کی آوازوں سے گونج اٹھیں۔‘‘

میرے پاؤں تلے سے ایک بار تو زمین کھسک گئی۔ ان بدبختوں نے کس قد ربھیانک اور ذلت آمیز منصوبہ بنایا تھا۔ حالات کا تقاضہ تھا کہ میں ایک پل کی بھی تاخیر نہ کروں کیونکہ گوالیار سے احمد آباد کے مندر سومنات کا فاصلہ چار دنوں میں طے ہوجاتا تھا اور اس وقت پجاری کے آدمیوں کو شہزادی شگفتہ کو اپنے آدمیوں کے ساتھ روانہ کئے ایک روز گزرچکا تھا۔ میں نے پجاری سے اجازت لی پھر آنے کا وعدہ کیا اور وہاں سے نکل کر شہر میں آگیا۔

اس وقت دن ڈھل رہا تھا اور اسلامی لشکر کے خیموں کے باہر آگ کے الاؤ روشن ہونا شروع ہوگئے تھے۔ میرا غلام میری اس پراسرار مہم سے واقف تھا۔ میں نے اس کو شاہی اصطبل میں بھیج کر ایک برق رفتار عربی گھوڑا منگوایا اور اپنے سفر پر روانہ ہوگیا۔ میں نے مینا دیوی کے مندر سے پجاری سے جنگل سے گزرنے والا وہ راستہ معلوم کرلیا تھا جو وہاں سے چار دنوں کی مسافت پر سومنات کے مندر کو جاتا تھا۔ میں گھوڑے کو شہر میں سرپٹ دوڑاتا نکل گیا اور جب شام کے اندھیرے چاروں طرف اتر آئے تو میں گھنے جنگل میں داخل ہوچکا تھا۔

میں اندھیری رات میں جنگل کے جس راستے پر گھوڑا دوڑائے چلا جارہا تھا وہ اگرچہ اتنا کشادہ نہیں تھا مگر درختوں اور جھاڑیوں سے صاف تھا۔ مجھے بھوک، پیاس اور تھکاوٹ کی کوئی فکر نہیں تھی چنانچہ میں نے جنگل میں گھوڑا دوڑائے چلے جارہا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ شہزادی شگفتہ کو ایک اونٹ پر لاد کر لے جاجارہا ہے۔ اس اعتبار سے ان لوگوں کی رفتار تیز نہیں ہوسکتی تھی اور میں انہیں سومنات پہنچنے سے پہلے پہلے راستے میں ہی پکڑسکتا تھا۔ میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی کہ جس طرح بھی ہوسکے ایک مسلمان لڑکی کی عزت بچائی جائے۔ ساری رات میں جنگل میں سفر کرتا رہا۔ پوپھٹی تو میں گھوڑے سے اترپڑا۔ گھوڑے کو کھلا چھوڑ دیا۔ کچھ دیر چرنے اور تالاب پر پانی وغیرہ پینے کے بعد عربی گھوڑا پھر سے سفر کے لئے تیار ہوگیا۔ میں اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگادی۔

اس طرح دو دن کے سفر کے بعد مجھے ایک جگہ اونٹ اور گھوڑے کے سم دکھائی دئیے۔ میں شروع ہی سے سفر سے پریشان تھا کہ اگر وہ لوگ شہزادی کو اغوا کرکے اسی راستے سے گئے ہیں اور کچے راستے پر گھوڑوں کے سموں اور اونٹ کے پاؤں کے نشانات کیوں نہیں ہیں۔ اب یہ بھید کھلا کہ وہ لوگ سیدھا راستہ چھوڑ کر جنگل کی بائیں جانب والے پہاڑی سلسلے کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے اب جنگل کے کچے راستے پر نکل آئے تھے۔ میں نے گھوڑے سے اتر کر نشانوں کا جائزہ لیا۔ ان نشانوں میں ایک اونٹ کے نشان تھے اورباقی پانچ گھوڑوں کے سموں کے نشانات تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ چھ آدمی شہزادی شگفتہ کو اغوا کر کے لئے جارہے ہیں۔ میں نے گھوڑے پر سوار ہوکر اسے ایڑ لگائی اور آگے کو چل پڑا۔ وہ دن بھی گزرگیا۔

جب تیسرا دن طلو ع ہوا اور مجھے ان لوگوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا تو میں کچھ پریشان ہوا کیونکہ سفر میں مجھے اگر تین دن گزرگئے تھے تو ان لوگوں کے چار دنوں کی مسافت پوری ہوچکی تھی۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ سومنات کے مندر میں شہزادی کو لے کر پہنچ چکے ہوں گے۔میں نے گھوڑے کو سرپٹ دوڑانا شروع کردیا۔

سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے جب میں جنگل سے باہر نکلا تو دیکھا کہ دور سومنات کا مندر ہے جس کی اونچی دیوار پر ایک مشعل روشن تھی۔ میں فکر مند ہوا کہ وہ لوگ سومنات کے مندر میں پہنچ گئے ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ شہزادی شگفتہ کی شادی کردی گئی ہو۔ سومنات مندر میرے لئے کوئی نئی جگہ نہیں تھی اس سے پہلے بھی میں سلطان محمود کے ساتھ اس مندر میں آچکا تھا جب اس نے اپنے گرز کی ایک ہی ضرب سے مندر کے سب سے بڑے بت کو پاش پاش کردی تھا۔ مندر کی دیوار کے پاس پہنچ کر میں نے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔

میں چونکہ ایک رشی منی کے بھیس میں تھا اس لئے بلا جھجک مندر کے دروازے کی طرف بڑھا۔ مندر کا دروازہ بند تھا۔ یہ ڈیوڑھی کا دروازہ تھا۔ یہاں دروازے میں ایک بہت بڑا گھنٹہ لٹک رہا تھا۔ میں نے جاتے ہی گھنٹے کو بجانا شروع کردیا۔ اس کی آواز سے مندر کے درودیوار لرز اٹھے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا او ایک موٹی توند اور چھوٹی چھوٹی مکار آنکھوں والے پنڈت نے ترش لہجے میں کہا ’’کون ہو تم گستاخ جو اتنی زور سے۔۔۔‘‘ اپنے سامنے ایک رشی منی کو دیکھ کر فقرہ اس کے منہ میں ادھورا ہی رہ گیا۔ میں نے کرمنڈل والا ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا 

’’دیوتا شنکر کی آشیر باد تمہارے لئے ہے۔ میں کیلاش پربت کا رشی ہوں۔ سومنات کی یاترا کو مجھے دیوتا شنکر نے بھیجا ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی میں نے بڑی روانی سے اور خالص رشی منوں کے انداز میں بھگوت گیتا کے تین اشلوک پڑھ دئیے۔ پنڈت بہت متاثر ہوا۔ اس نے ہاتھ باندھ کر بڑے ادب سے میرے آگے سرجھکا دیا اور دروازے سے الگ ہٹ کر ڈیوڑھی میں کھڑا ہوگیا او ربولا

’’مہاراج! پدھارئیے۔ ہمارے دھن بھاگ کہ آپ دیوتا شنکر کی آشیر باد لے کر سومنات میں آئے۔‘‘

میں دروازے میں سے گزر کر ڈیوڑھی میں داخل ہوگیا۔ میں نے ڈیوڑھی میں ایک جانب ایک اونٹ، پانچ گھوڑے بندھے ہوئے دیکھے۔ اسی جگہ ایک کافی بڑا ٹوکرا بھی پڑا تھا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ شہزادی شگفتہ سومنات کے مندر میں پہنچ چکی ہے اور اس پنڈت کی تحویل میں ہے اور چاروں محافظ ہندو سپاہی بھی وہیں موجود ہیں۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 104 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار