اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 70

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 70
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 70

  

ایک دفعہ دحضرت شیخ شاہی ؒ کے دوست آپ کو کہیں باہر لے گئے اور وہاں جاکر انہوں نے دودھ والے میٹھے چاول پکائے۔ جب دستر خوان چنا گیا تو شیخ شاہیؒ نے اس کھانے کو دیکھ کر فرمایا ’’اس میں خیانت ہوئی ہے ہم اس کو نہیں کھائیں گے۔‘‘ دوست حیران رہ گئے ور کہنے لگے ’’ہم میں سے تو کسی نے خیانت نہیں کی۔‘‘

لیکن ان میں سے دو دوست جنہوں نے وہ چاول پکائے تھے آگے بڑھے اور عرض کیا ’’دودھ میں جوش آگیا تھا اور جھاگ باہر بہہ رہی تھی۔ ہمارے پاس کوئی برتن نہیں تھا کہ جس میں دودھ نکال لیتے۔ جب وہ دودھ زمین پر گرنے لگا تو ہم نے سوچا کہ شیرہ زمین پر گر رہا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اسے کھالیں۔ یہ سوچ کر ہم نے وہ شیرہ کھالیا۔‘‘ اس پر آپ نے فرمایا ’’اس سے پہلے کہ کھانا دوستوں کے سامنے رکھا جائے۔ جو کوئی کھاتا ہے خیانت کرتا ہے۔‘‘

ان کا عذر قبول نہ ہوا جس پر وہ سخت شرمندہ ہوئے۔ چونکہ موسم گرم تھا اس لئے انہیں پسینہ آگیا۔ جب آپ نے فرمایا ’’مَیں نے معاف کردیا پھر کبھی ایسا نہ کرنا۔‘‘

بعد میں آپ نے حجام کو بلوا کر فرمایا ’’جتنا پسینہ میرے دوستوں کا بہا ہے اتنا ہی میرا خون زمین پر گرادو۔‘‘

شیخ نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں ’’محبت کا یہ عالم کہ اپنا خون بہادینے کا حکم دے دیا اور آداب کا اس قدر لحاظ کہ ان کا عذر قبول نہ فرمایا‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 69 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ایک دن حضرت ابو العباس السیارویؒ اخروٹ خریدنے کے لئے ایک دکان پر گئے۔ اخروٹ لینے سے پہلے آپ نے رقم دکاندار کو دے دی۔ دکاندار نے اپنے ملازم سے کہا ’’آپ کو اچھے اچھے اخروٹ دے دو۔‘‘

اس پر آپؒ نے دکاندار سے پوچھا ’’کیا تم ہر خریدار کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہو؟‘‘

اس نے جواب دیا ’’نہیں، لیکن آپ کو عالم ہونے کی وجہ سے خراب چیز دینا پسند نہیں کرتا۔‘‘

آپ ؒ نے فرمایا ’’مَیں اپنے علم کو اخروٹ کے معاوضہ میں فروخت کرنا برا تصور کرتا ہوں۔‘‘یہ فرما کر آپ پیسے بھی چھوڑ کر چلے گئے۔

***

امام خرامیؒ فرماتے ہیں ’’ایک مرتبہ مَیں شہتوت توڑ رہا تھا کہ حضرت ابوالفضل حسن سرخسیؒ کا میرے پاس سے گزر ہوا لیکن آپ نے مجھے دیکھے بغیر کہا’’اے اللہ! مَیں سال بھر سے حجامت بنوانے کے لیے تجھ سے ایک دانگ طلب کر رہا ہوں لیکن تو نہیں دیتا۔ کیا دوستوں کے ہمراہ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔‘‘امام خرامیؒ کہتے ہیں کہ اس وقت جب میری نظر درخت پر پڑی تو اس کی تمام شاخین اور پتے سونے کے بن گئے لیکن آپ نے اللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا ’’قلب کی آسودگی کے لیے تجھ سے کوئی بات نہ کہنی چاہیے۔‘‘

***

حضرت ابو القاسمؒ نصر آبادی نے ستر حج کیے۔ ایک مرتبہ سفر حج کے دوران ایک کتے کو بھوک سے نڈھال دیکھ کر فرمایا ’’ہے کوئی جو ایک روٹی کے معاوضہ میں مجھ سے چالیس حج کا ثواب خرید لے۔‘‘یہ سن کر ایک شخص نے حامی بھرتے ہوئے آپ کی خدمت میں ایک روٹی پیش کردی اور آپ نے چالیس حج کا ثواب اس کی نذر کردیا۔ روٹی لے کر آپ نے اس فاقہ زدہ کتے کو کھلادی۔

یہ واقعہ جب ایک بزرگ نے سنا تو وہ آپ کے پاس پہنچے اور انتہائی غصے کے ساتھ فرمایا ’’کیا تم نے اپنے نزدیک یہ بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے حالانکہ تم یہ نہیں جانتے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حضرت آدمؑ نے گیہوں کے دو دانوں کے عوض آٹھ جنتوں کو فروخت کردیا تھا۔‘‘آپ نے یہ سنا تو سرجھکا کر ایک کونے میں جابیٹھے۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 71 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے