ایم کیو ایم کو بلاول بھٹو کی پیشکش

ایم کیو ایم کو بلاول بھٹو کی پیشکش

  



پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں سندھ حکومت کے چار ترقیاتی منصوبوں کو پایہئ تکمیل تک پہنچانے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم تحریک انصاف سے اتحاد ختم کر دے، اور عمران حکومت گرانے میں ان کی جماعت کا ساتھ دے،تو کراچی اور اس کے عوام کی خاطر ہم اتنی ہی وزارتیں سندھ حکومت میں اُسے پیش کر دیں گے، جتنی وفاقی حکومت میں حاصل ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کراچی کے عوام کو دھوکہ دیا ہے،ان کا ہر وعدہ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔جو ظلم کراچی پر ہو رہا ہے،ایم کیو ایم کے ساتھی اسے روک سکتے ہیں۔وہ وفاقی حکومت سے تعاون ختم کر کے عمران حکومت کو گرا دیں۔اس صوبے کو اس کا حصہ دلوا دیں تو ہم ساتھ مل کر صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج نہیں تو کل یہ فیصلہ لینا پڑے گا،پاکستان کو بچانا پڑے گا،اور نئے پاکستان کوختم کرنا پڑے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ (بمع کراچی) کے حوالے سے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ کو وسائل میں سے اس کا حصہ ادا نہیں کیا جا رہا۔ گیس پیدا کرنے والے صوبے کو گیس کی قلت کا سامنا ہے،اس سے گیس چھینی جا رہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے آٹھ لاکھ افراد کے اخراج پر بھی انہوں نے شدید غصے کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ غریبوں کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے۔

پیپلزپارٹی اِس وقت وفاقی سطح پر اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔اس کے متعدد رہنما بھی نیب کی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ان پر الزامات بھی بہت ہیں اور ان کی شکایات بھی بہت ہیں،اس سے قطع نظر کہ ایم کیو ایم کو کی جانے والی پیش کش کو ایک بڑی سیاسی چال کے طور پر دیکھا جائے گا،تحریک انصاف کی حکومتیں وفاق اور صوبہ پنجاب میں چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہیں۔پنجاب میں اگر مسلم لیگ(ق) کے ساتھ اتحاد ختم ہو جائے تو حکومت کو اپنا وجود برقرار رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا،اسی طرح وفاق میں اگر ایم کیو ایم بغاوت کا جھنڈا بلند کر دے،تو حکومت کا وجود شدید خطرے سے دوچار ہو جائے گا…… اور سیاسی صورتِ حال یکسر بدل کر رہ جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو وزارتوں کی جو پیش کش کی ہے، فی الحال اس کے ترجمان نے اِس بہکاوے میں آنے سے انکار کر دیا ہے، مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی مخلصانہ اور حقیقی تعاون چاہتی ہے تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات دے۔ایم کیو ایم کے ترجمان نے کراچی میں میونسپل کارپوریشن کو بااختیار بنانے کے لئے قانون سازی پر زور دیا ہے۔کہا گیا ہے اس حوالے سے تعاون طلب کیا جا سکتا ہے اور دیا بھی جا سکتا ہے۔مرکزی وزارتوں کے عوض صوبائی وزارتوں کے حصول سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے تعلقات کی ایک اپنی تاریخ ہے۔دونوں ایک دوسرے کے مقابل بھی کھڑی رہی ہیں، اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتی رہی ہیں۔صوبے کے علاوہ وفاق میں بھی دونوں اشتراک عمل کا مظاہرہ کر چکی ہیں،لیکن دِلوں کی کدورتیں دور نہیں ہو پائیں۔ سندھ کے اندر دیہی اور شہری کی تقسیم اگرچہ اب پہلے کی طرح شدید نہیں رہی۔لیکن اس کے اثرات اب بھی صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ایم کیو ایم نے مسلسل کئی سال انتخابی کامیابی کے باوجود ایک سیاسی جماعت کے طور پر اپنے آپ کو موثر نہیں بنایا۔کراچی میں جو کچھ ہوتا رہا اور جس طرح اس شہر کو تاراج کیا گیا، دہشت گردی کے ذریعے قبضہ پکا کرنے کی جو کوششیں جاری رکھی گئیں، یہاں کی فضا میں جو زہر گھولا گیا، اس کی تفصیل بیان سے باہر ہے۔ہم اِس وقت اس کا ذکر کے ماحول کو بدمزہ بھی نہیں کرنا چاہتے۔ ایم کیو ایم کے بانی اب لندن میں جس حال میں ہیں، اور جس درجہ اپنے آپ کو گرا چکے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔ ایم کیو ایم بھی ان کے چنگل سے آزاد ہو کر اپنا سیاسی تشخص منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اعتماد سازی آسان نہیں،لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ سیاست میں کچھ حرفِ آخر نہیں ہوتا، تو اس کے مصداق تعاون کے راستے ہمیشہ کے لیے بند بھی نہیں سمجھے جا سکتے۔

حکومت گرانے اور بنانے سے الگ ہٹ کر ہماری سیاسی جماعتوں کو عوام کے مفاد میں سوچنا اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے مکالمے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری ایک نئے سیاست دان ہیں۔ان میں بہت کچھ نیا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ماضی کے بوجھ سے اپنے آپ کو آزاد کر کے وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ایم کیو ایم کی قیادت بھی اب آزاد ہو چکی ہے،اس میں بھی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کا جذبہ جنم لے سکتا ہے۔اس لیے اگر مقامی حکومتوں کے اختیارات کے حوالے سے دونوں میں معنی خیز مذاکرات کا آغاز ہو تو اس سے عوام کے مسائل کے حل میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔کراچی اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔گندہ شہر ایک جوہڑ بنتا جا رہا ہے۔اس کے ماضی کی روشنیاں اس کو لوٹانا پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کو بھی عزیز ہونا چاہیے کہ اس شہر نے گذشتہ انتخابات میں اسے بھی اپنی بھرپور نمائندگی کا اختیار دیا ہے۔ تینوں سیاسی جماعتوں کے زعما اگر خود غرضانہ سیاست کے خول سے باہر نکل کر آپس میں مشاورت کا اہتمام کریں، تو جہاں وفاق اور سندھ کی باہمی شکایات کا ازالہ ممکن ہو گا، وہیں شہر کراچی کے مسائل کے حل کے لیے بھی مشترکہ اقدام کیا جا سکے گا۔ کسی کی حکومت گرانے یا بنانے سے شاید کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکے۔حکومت بدلنے سے زیادہ سوچ اور انداز بدلنے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ