ہندوستان کے محب وطن سیکولر ہندو اور اقلیتیں

ہندوستان کے محب وطن سیکولر ہندو اور اقلیتیں
ہندوستان کے محب وطن سیکولر ہندو اور اقلیتیں

  



ہندوستان کے مسلمانوں نے نہیں، بلکہ ہندوستان کے ہندوؤں نے کمال کر دیا ہے۔ شہریت کے ترمیمی بل کی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد وہاں کے محب وطن سیکولر ہندوؤں نے اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ویسے جب یہ بل ایوانِ بالا میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا تو اس کے 100 سے زائد ممبران نے اس کی مخالفت کی اور اسے نہ صرف ہندوستان کے قومی مفادات کے خلاف قرار دیا، بلکہ بھارتی آئین کی روح سے بھی متصادم کہہ کر مسترد کیا، کیونکہ ممبران کی اکثریت نے اس کی تائید کی، اس لئے یہ منظور ہو گیا اوراب نافذ العمل قرار پا گیا ہے۔ اس بل کے مطابق 2015ء سے پہلے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے مہاجرین بھارتی شہریت اختیار کر سکیں گے، لیکن مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا۔

گویا یہ بل / قانون،مذہبی تعصب پر مبنی ہے،یعنی اسلام کے ماننے والوں کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے الگ کرنے کی کوشش ہے، اس لئے اسے انڈیا کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دے کر اپوزیشن جماعتیں اس کی منسوخی کے لئے میدان میں اتر آئی ہیں۔ہندوستان کے مسلمان پسے ہوئے ہیں، دبے ہوئے ہیں، بابری مسجد کے مسئلے پر جنونی ہندورائے عامہ تیار کرتے رہے، متعصب ہندوؤں کو منظم کرتے رہے، مسلمانوں کے خلاف نفرت پروان چڑھاتے رہے، حتیٰ کہ انہوں نے بابری مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا۔ مسلمان اس تاریخی مسجد کو بچانے کے لئے کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس مسئلے پر مسلمانوں کا خاصا جانی و مالی نقصان ہوا، وہ خوف زدہ ہو گئے۔ مودی نے بطور وزیراعلیٰ گجرات کے طور پر وہاں مسلمانوں کا قتلِ عام کر کے اپنا جنونی مذہبی چہرہ عیاں کیا۔ ہندو ووٹ اکٹھا کر کے وہ بھارتی سرکار میں داخل ہو گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مودی کی قیادت میں بھارت سرکار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے تاریخی عزائم کو حقیقت کا رنگ دینا شروع کر دیا ہے۔

گزرے پانچ سال کے دوران مودی سرکار نے ریاست کو ہندو بنانے کی منظم کاوشیں کی ہیں۔ تاریخی اعتبار سے بھارت ایک سیکولر جمہوری ریاست ہے،جس میں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ موجودہ بھارت کے قیام میں مسلمانوں نے بھی دل و جان سے کاوشیں کی ہیں۔ آل انڈیاکانگریس اس ملک کی بانی جماعت ہے، جس کے سرکردہ رہنماؤں میں کئی قد آور مسلم شخصیات شامل تھیں۔ جمعیت علمائے ہند کا تحریک آزادیء ہند میں کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔آج ہندوستان میں 200 ملین سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ یہ کسی طور بھی ممکن نہیں کہ کوئی بھی جماعت انہیں نظر انداز کر کے بھارت کو تعمیر و ترقی کی راہوں پر چلا سکے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی جو دراصل آر ایس ایس کا پولیٹیکل چہرہ ہے، پورے ہندوستان کو ہندو بنانے پر تلی ہوئی ہے، اس کا اولین ہدف مسلمان ہیں، اسلام ہے۔ وہ دھرتی ماتا کو مسلمانوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، ایسا نہیں ہے کہ مودی نے وزیراعلیٰ کے طور پر اچھی کارکردگی دکھائی،بلکہ مسلمانوں کے خلاف مورچہ لگایا،ان پر عرصہء حیات تنگ کیا، متعصب ہندوؤں کے دل جیتے،ایودھیا میں بابری مسجد کو ایشو بنایا گیا، رتھ یاترا کے ذریعے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا گیا، پھر بلوہ کر کے مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اس طرح متعصب ہندوؤں کے حوصلے بڑھے۔ مودی سرکار نے حکمران بن کر ہندو توا کے نظریے پر عمل درآمد کرنا شروع کر دیا۔

بھارتی آئین میں 5 اگست 2019ء کو تبدیلی کے بعد جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر کے 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر عرصہء حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ 5 اگست سے وادی میں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں، کرفیو نافذ ہے، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔ پورے جمو ں کشمیر کو عقویت خانہ بنا دیا گیا ہے،اس واقعے کو 5 مہینے ہونے کو ہیں، کشمیر پر جبرو قہر کا شکنجہ کسا ہوا ہے، دیکھنے، سننے اور بولنے پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ پاکستان کے کمزور ری ایکشن اور عالم اسلام کی بے حسی نے مودی سرکار کو اور بھی شہ دی ہے۔ عالمی برادری بھی مسئلہ کشمیر، کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پائمالیوں پر خاموش ہے اور سب سے اہم کشمیریوں کا لاک ڈاؤن کے سامنے دب جانا، بھارتی حکمرانوں کے لئے انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے مودی سرکار نے شہریت کا ترمیمی بل بھی پارلیمنٹ میں پیش کر کے منظور کرالیا اور پھر اسے نافذ العمل بھی کر دیا۔ مودی سرکار کو حسب سابق مسلمانوں سے کسی احتجاج یا ری ایکشن کی توقع نہیں تھی اور وہ اس حوالے سے نہ صرف پرُ جوش تھے، بلکہ پرُامید بھی تھے کہ بھارتی مسلمانوں میں اس قدر دم خم نہیں ہے کہ وہ مودی سرکار کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ بابری مسجد کے انہدام پر بھارتی مسلمانوں کا کمزور اور بزدلانہ ری ایکشن اور جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن پر کشمیری مسلمانوں کا رویہ دیکھتے ہوئے مودی سرکار شہریت کے ترمیمی بل کے نفاذ پر بھی مسلمانوں سے کسی قسم کے ری ایکشن کی توقع نہیں رکھتی تھی، لیکن بھارتی سیکولر ہندوؤں نے صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی پیدا کی۔ ہندوؤں کی اس بل کے خلاف آواز نے مسلمانوں کو ہمت دی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کے طلبہ و طالبات نے احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ پھر مظاہرے پورے ہندوستان میں پھیل گئے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے ہندو اور تمام اقلیتیں بیک زبان شہریت بل کی منسوخی کے لئے متحد ہو چکی ہیں۔عوامی اجتماعی مظاہروں سے پوری دنیا میں شہری ترمیمی بل زیر بحث ہے۔ ان مظاہروں میں ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، بدھ، تمام مذاہب کے پیروکار، مسلمانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ان مظاہروں میں مظاہرین پرُ امن ہیں، لیکن سیکیورٹی اداروں کے ہتھکنڈوں کے باعث ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں اور شہری زخمی بھی ہو رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے جتھوں نے مارچ شروع کر دئیے ہیں۔ اطلاعات آرہی ہیں کہ جس طرح مقبوضہ کشمیر میں آرایس ایس کے غنڈے بھارتی فوجی یونیفارم میں کشمیریوں پر تشدد کرتے پائے گئے ہیں، اسی طرح ہندوستان میں مظاہرین پر بھی آر ایس ایس کے غنڈے پولیس کے ساتھ مل کر تشدد کی کارروائیاں کر رہے ہیں،جس سے اس طرح مظاہروں میں آہستہ آہستہ گرمی پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث عمومی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ بھارت میں ایوی ایشن انڈسٹری اور ٹورازم کا شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ گزرے دو ہفتوں کے دوران دو لاکھ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے تاج محل آنے کا اپنا پروگرام منسوخ کیا ہے۔ دسمبر میں لوگوں کی کثیر تعداد تاج محل کا رخ کرتی ہے،

گزرے سال 2018ء کے مقابلے میں اس بار یہاں دسمبر کے مہینے میں تاج محل کا رخ کرنے والوں میں 60 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاج محل کے قریب واقع ایک پولیس سٹیشن کے انچارج دنیش کمار کا انٹرویو عالمی پریس میں چھپا ہے، اس نے بتایا ہے کہ اس کے پاس یہاں آنے والے سیاحوں کا مکمل ڈیٹا ہوتا ہے۔ گزرے سال دسمبر کے مقابلے میں اس بار دسمبر میں یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں شدید کمی آئی ہے اور جو سیاح یہاں آئے ہیں، وہ بہت ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں، پولیس کو باربار سیکیورٹی کے حوالے سے کالیں کرتے ہیں۔ ریٹائرڈ غیر ملکی سیاحوں پر مشتمل ایک گروپ نے بتایا ہے کہ وہ یہاں لمبے ٹور کے لئے آئے تھے، لیکن حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا وزٹ مختصر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ سب واپس جا رہے ہیں۔

تاج محل آگرہ شہر میں واقع ہے، جسے دیکھنے کے لئے سالانہ 65 لاکھ سیاح آتے ہیں اور بھارت سرکار کو صرف انٹری فیس کی مد میں 14 ملین ڈالر آمدنی ہوتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سیاحوں نے نہ صرف اپنی ہوٹل ریزرویشنز منسوخ کرنا شروع کر دی ہیں، بلکہ پہلے سے مقیم باسیوں نے اپنے قیام کی مدت مختصر کر کے چیک آؤٹ ہونا شروع کر دیا ہے اور وہ اپنے اپنے ممالک واپس جانا شروع ہو گئے ہیں۔ سات مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو ہندوستان جانے کے حوالے سے خبردار کرنا شروع کر دیا ہے، اس طرح بھارتی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ 9 لاکھ فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کرنے کے اخراجات ایک طرف، معاشی سرگرمیوں میں سست روی کے باعث 3.4 فیصد پر چلتی ہوئی بھارتی معیشت گزرے چھ سال کے پست ترین مقام تک پہنچی ہوئی ہے۔ جاری احتجاجی تحریک کے پھیلاؤ کے باعث معاشی معاملات میں اور بھی بگاڑ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کا پاکستان کے خلاف جنگی جنون بھی زوروں پر ہے۔

ایل او سی کی سرحدی باڑ کاٹ کر میزائل نصب کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان پر حملے کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ کشمیر ہڑپ کرنے کے بعد بھارتی مسلمانوں پر شکنجہ کسنا مودی سرکار کے گلے پڑ گیا ہے۔ پوری اپوزیشن سڑکوں پر آرہی ہے۔ تمام بھارتی شہری، بلا تمیز مذہب و ملت شہریت بل اور مودی سرکار کی " ہندوتوا" پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرے دن بدن شدید ہوتے جا رہے ہیں، ان میں تشدد کا عنصر بھی ابھرتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ آر ایس ایس بھی لنگر لنگوٹ کس رہی ہے، جس سے خون ریزی کا عنصر بھی بڑھے گا۔ تاریخی اعتبار سے اس طرح تحریکیں تیز ہوتی ہیں، ان میں تشدد کا عنصر نئی روح پھونکتا ہے او وہ آگے بڑھتی ہیں۔ مودی سرکار کی متشددانہ اپروچ بھارت کے لئے، بھارتی یونین کے لئے کسی طور پر بھی درست نہیں۔ دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...