نیا سال مبارک

نیا سال مبارک
نیا سال مبارک

  



دُنیا بھر میں نئے سال کے آغاز پر مبارکباد دی جاتی ہے۔ یہ ماہ و سال درحقیقت وقت کو ماپنے کے انسانی پیمانے ہیں، وگرنہ آج جو سورج طلوع ہوا ہے، کل بھی وہی تھا۔ کیلنڈر پر ہندے بدل جاتے ہیں، روز و شب وہی رہتے ہیں،تاہم سال کی تکمیل کے بعد ایک موقع ایسا آتا ہے،جب نئی امید پیدا ہوتی ہے، کچھ بدلنے،کچھ نیا ہونے کا احساس جنم لیتا ہے، پھر نئے سال کے365 دن گزارنے ہوتے ہیں،جو نجانے اپنے جلو میں کیا کچھ لاتے ہیں، سو یہ خواہش اور دُعا کی جاتی ہے کہ نیا سال خوشیاں لائے۔ خوشحالی و ترقی کی علامت بن جائے اور ہر ایک کے لئے مبارک ثابت ہو،اس لئے آج سب سے پہلے تو آپ سب نئے سال کی مبارکباد قبول فرمائیں،اللہ کرے2020ء ایک خوشیوں بھرا اور امن و سلامتی کا سال بن کر ہماری زندگی میں آئے۔

ہم پاکستانیوں کے لئے ایک امید بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ہم بہت رجائی واقع ہوئے ہیں، بُرے سے بُرے حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتے، وگرنہ ہماری 72سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ قدم قدم پر عوام کو دھوکے ملے ہیں،اُن کی امیدیں ٹوٹی ہیں،اُن سے وعدے کرنے والوں نے وعدہ خلافی کرنے کی روش اپنائے رکھی ہے،مگر اس سب کے باوجود کوئی بھی آج تک پاکستانیوں سے اُن کی امید اور اچھے دِنوں کی آس کو نہیں چھین سکا۔ نیا سال آئے یا نیا حکمران، عوام اُس سے امید باندھ لیتے ہیں، ماضی کے تجربات کو اپنی امید پر غالب نہیں آنے دیتے…… مثلاً ”نیا پاکستان“ کا نعرہ اُن کے لئے بہت پُرکشش تھا، اُس کے لئے سڑکوں پر نکلے، ووٹ دیئے، عمران خان کو وزیراعظم بنایا، امیدیں وابستہ کیں،وقت گزرا تو یہ نعرہ اُلٹ ثابت ہوا، نیا پاکستان تو نہ ملا، البتہ پرانا بھی کہیں گم ہو گیا اور عوام کی مشکلات بڑھتی گئیں،لیکن یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ عوام مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی امید کو زندہ رکھا، آج بھی جب وہ نئے سال کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں تو انہیں کچھ بہتر ہو جانے کی آس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہمارے حکمران خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسے عوام ملے ہوئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں، پاکستانی عوام لائی لگ اور معصوم ہیں۔مَیں کہتا ہوں پاکستان کے لوگ باہمت اور باحوصلہ ہیں۔نامساعد حالات میں زندہ رہنا جانتے ہیں۔وہ ستم گر کا ستم نہیں،بلکہ اپنا صبر آزماتے ہیں۔ انہیں جمہوریت سے محبت ہے۔ جمہوریت کے نام پر اپنے سیاست دانوں کا اعتبار کر لیتے ہیں، انہیں یقین ہے کہ ایک دن یہی جمہوریت انہیں وہ خوشیاں اور خوشحالی دے گی، جس کا اُن سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

قومیں ہر نئے سال کے آغاز پر اپنے گزرے برسوں میں سود و زیاں کا حساب کرتی ہیں،نئے سال کے لئے منصوبے بناتی ہیں، اپنی کوتاہیوں سے سبق سیکھتی ہیں اور مستقبل میں انہیں دہرانے سے اجتناب کا عہد کرتی ہیں۔یہ کام صرف حکومتیں نہیں کرتیں، بلکہ معاشرے کے سب طبقے اپنی اپنی جگہ پر اس خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ کیا ہمارے ہاں بھی اس قسم کا اندازِ زندگی پروان چڑھے گا؟کیا ہم سب بھی حساب سود و زیاں کریں گے،کیا ہمارے لئے بھی نیا سال ایک چیلنج بن کر آئے گا؟یا ہم اپنی پرانی ڈگر پر چلتے رہیں گے اور یہ توقع بھی رکھیں گے کہ نیا سال آیا ہے تو سب کچھ بدل جائے؟ سب کچھ کیسے بدل سکتا ہے، جب تک ہم خود نہیں بدلیں گے۔سب سے پہلے تو ہماری سیاست کے چلن کو بدلنا چاہئے۔ اس میں خود غرضی بہت زیادہ ہے اور یہ دائمی مرض ہے، جو شروع دن سے لاحق چلا آ رہا ہے۔ہماری سیاست انتشار کو جنم دیتی ہے، حالانکہ اسے اتفاق و اتحاد کی وجہ بننا چاہئے۔ جس ملک کی پارلیمینٹ سیاسی انتشار کی وجہ سے نہ چل پا رہی ہو، اُس ملک میں جمہوریت کیسے پنپ سکتی ہے؟کہنے کو ہر سیاسی رہنما ”پارلیمینٹ سپریم ہے“ کا نعرہ ضرور لگاتا ہے،مگر اس سپریم ادارے کی حرمت پامال کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔

جب پارلیمینٹ کام کر رہی ہو تو پھر معاملات سڑکوں پر کیوں لائے جاتے ہیں، دھرنے اور جلسے جلوسوں کی نوبت کیوں آتی ہے؟ پھر یہ کیسی جمہوریت یا سیاست ہے کہ جس میں ایک دوسرے سے بول چال تک بند کر دی جاتی ہے۔ سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ نئے سال سے ایک دن پہلے تک کے سیاسی بیانات کو دیکھئے اندازہ ہو جائے گا کہ نئے سال میں بھی یہ رویہ تبدیل ہونے والا نہیں۔ پرانے اور نئے سال میں شاید اور بہت سی چیزیں بدل جائیں، لیکن ایسے روّیے ہرگز تبدیل نہیں ہوں گے……اکثر لوگوں کی خواہش تو یہی ہوتی ہے کہ جب نئے سال کی کرنیں پھوٹیں تو سب کچھ بدلا بدلا نظر آئے۔ دفاتر کے حالات کار بدل چکے ہوں، ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو گیا ہو، پولیس کے مظالم ختم ہو گئے ہوں، عوام کو انصاف کے لئے دھکے ملنا بند ہو چکے ہوں، علاج معالجے، اور روزگار کی صورتِ حال مثالی نظر آئے،یہ اور نجانے ایسے کتنے خواب و خیال نئے سال کی دہلیز پر کھڑے ہو کر عوام کے ذہنوں میں گھومتے ہیں۔

یہ سب تبدیلیاں ممکن ہیں، مگر ان کے لئے حکومت ِ وقت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ کیلنڈر بدلنے کے باوجود اٹھائے نہیں جاتے،اس کی ڈگر وہی ہوتی ہے تو پھر تبدیلی کیسے ممکن ہے؟ صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ معاشرے کے وہ با اثر طبقے جو تبدیلی لا سکتے ہیں،اگر خود کو تبدیل نہیں کرتے، بس نئے سال کی تاریخ بدلنے پر اکتفا کرتے ہیں،تو نیا سال بھی پرانے سال کا عکس ہی ثابت ہو گا۔نئے سال کا مقصد ہوتا ہے، کچھ نیا کرنا، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی،اگر ارتقائی عمل جاری نہیں رہتا، تو کیلنڈر پر ہندسے بدلنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ 2019ء کی خامیوں کو اگر 2020ء میں بھی ساتھ لے کر چلنا ہے تو پھر اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں۔ حکومت تو نوید سنا رہی ہے کہ 2020ء خوشحالی کا سال ہو گا، اچھی بات ہے، مگر اپوزیشن تو ہرگز نہیں چاہے گی کہ ایسا ہو، کیونکہ ہمارے ہاں ملک و قوم کی بھلائی یا خوشحالی کی باتیں بھی سیاسی تناظر میں دیکھی جاتی ہیں …… اگر حکومت کچھ اچھا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ حکومت کے سیاسی مخالفین کو گوارا نہیں ہوگا،وہ تو حکومت کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں،یہ سوچے بغیر کہ حکومت ناکام ہوئی تو ملک بھی ناکام ہوگا، عوام کی مشکلات بھی بڑھیں گی،چونکہ معاملہ سیاست چمکانے کا ہے،

اِس لئے سال نیا ہو یا پرانا، سیاست دانوں نے اپنی خو نہیں چھوڑنی……یہ سب حقیقتیں اپنی جگہ، تاہم ان سب میں بڑی حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ایک اور سال گزر گیا ہے اور ہم ایک نئے سال میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم نئے سال کے آغاز پر مثبت انداز فکر اپنائیں۔ منفی اور ذاتی حوالے سے زندگی گزارنے کی نفی کریں۔ قومی سوچ اور مفاد کو اولیت دیں۔ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا سنجیدہ کردار ادا کریں، جو مملکت ِ خدا دادِ پاکستان کے اساسی نظریئے کے عین مطابق ہو۔ 2020ء میں دُنیا کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہمارے لئے کشمیر کا مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 2019ء کے اواخر سے جس ظلم و تشدد کا آغاز کیا تھا، وہ 2020ء میں بھی جاری ہے،جو کسی بڑے سانحہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے،اس مقصد کے لئے پاکستان کا سیاسی استحکام بہت ضروری ہے۔ اللہ کرے یہ نیا سال کشمیریوں کی آزادی کا سال بھی ثابت ہو۔ امیدوں، محبتوں اور دُعاؤں کے ساتھ نیا سال مبارک۔

مزید : رائے /کالم