کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں (3)

کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں (3)
کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں (3)

  



جولائی 1929ء میں فلر کو ترقی دے کر بریگیڈیئر بنا دیا گیا اور 2رائن بریگیڈ کی کمانڈ دے کر جرمنی بھیج دیا گیا۔ برطانیہ کی ایک فوجِ (Army)جنگ عظیم اول کے بعد سے جرمنی میں موجود تھی جس کا نام رائن آرمی (Rhine Army) تھا۔ لیکن جلد ہی اس فوج کو جرمنی سے واپس آنا پڑا۔ فلر کو 13انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ دی گئی جو کیٹرک (Catterick) میں مقیم تھا جو شمالی یارک شائر، انگلینڈ کا ایک گاؤں ہے۔ 14ستمبر 1930ء کو فلر کو بطور میجر جنرل پروموٹ کر دیا گیا اور ساتھ ہی یہ ”خوشخبری“ بھی دی گئی کہ آج سے اسے نصف تنخواہ دی جائے گی۔

اس دور میں حاضر سروس افسروں کو جو نصف تنخواہ پر سروس میں رکھے جاتے تھے، ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ سے کلیئرنس لئے بغیر اخبارات و رسائل میں لکھنے پر کچھ پابندی نہ تھی۔ نہ ہی پیشہ ورانہ امور پر کتابیں شائع کرنے پر پابندی تھی۔ شرط صرف یہ تھی کہ یہ مواد باغیانہ نہ ہو اور اس میں جنرل سٹاف مطبوعات میں درج مواد کی نفی نہ کی گئی ہو۔ تاہم جب سے اس کی کتاب Foundations پر تنقید کی گئی تھی، اس نے نہ تو ایسی کوئی اور کتاب لکھی تھی اور نہ اخباری آرٹیکل ایسا لکھا تھا جس میں ان شرائط کو مدنظر نہ رکھا ہو۔ لیکن اس کے باوجود فروری 1931ء میں میجر جنرل فلر کو ملٹری سیکرٹری برانچ سے ایک خط موصول ہوا جس میں اس سے پوچھا گیا کہ اگر اسے ہندوستان میں پوسٹ کر دیا جائے تو کیا وہ وہاں جانے پر تیار ہو گا؟ ہندوستان میں اس وقت بمبئی کو عسکری اعتبار سے ایک سیکنڈ کلاس ڈسٹرکٹ شمارکیا جاتا تھا۔ وہاں کی ملٹری کمانڈ صرف توپخانے کی دو بیٹریوں، ایک انفنٹری بٹالین اور میڈیکل کور کی ایک کمپنی پر مشتمل تھی۔ یہ پوسٹنگ فلر کے لئے توہین آمیز تھی۔ دراصل اربابِ عسکر فلر کی متنازعہ شخصیت اور اس کے ”قلم کی کاٹ“ سے نالاں تھے۔ وہ اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے تھے۔ لیکن فلر نے یہ تحقیر منظور نہ کی۔ اس نے اپنی والدہ کے نام ایک خط میں لکھا:

”جب مجھے بمبئی ڈسٹرکٹ کی ملٹری کمانڈ دی جا رہی تھی تو مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے انکار کر دیا تو مجھے فوج میں مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سو میں نے دوبارہ آزادانہ لکھنا شروع کر دیا ہے۔ وار آفس کو خواہ یہ پسند ہو یا نہ ہو کیونکہ میں نہ تو باغیانہ خیالات رکھتا ہوں اور نہ میں فوج یا کسی اور ادارے کو بدنام کرنے کا سوچ سکتا ہوں۔ نہ ہی کسی کی ذات پر حملہ کرنے کا خیال میرے ذہن میں آ سکتا ہے۔ لیکن آدھی تنخواہ پر میرا گزارہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ مجھے ازراہ مجبوری پروفیشنل تصنیف و تالیف کا سہارا لینا ہو گا اور جہاں تک میری سابقہ تحریروں کا تعلق ہے تو اگر میں یہ نہ لکھتا تو معاشی دباؤ کی وجہ سے کبھی کا فوج کو خیرباد کہہ چکا ہوتا۔ فوج میں اعلیٰ عہدے صرف ان لوگوں کے لئے مختص ہیں جو معاشی اعتبار سے خوشحال ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آج ساری فوج میں میرے سوا کوئی بھی دوسرا میجر جنرل ایسا نہیں ہوگا جو صرف اپنی تنخواہ پر گزر اوقات کر رہا ہو!“

1933ء میں جب جنرل فلر ابھی سروس میں تھا تو اس نے ایک کتاب شائع کی جس کا عنوان جنرل شپ (Generalship) رکھا۔ یہ کتاب کلاسیوٹز وغیرہ کے نظریات کی اساس پر تحریر کی گئی تھی۔ اس میں فلر نے لکھا کہ ایک جرنیل کو دلیر بھی ہونا چاہیے اور اس کا ذہن تخلیقی بھی ہو۔ لیکن یہ دونوں صفات جوانی کے ساتھ خاص ہیں، بڑھاپے کے ساتھ نہیں۔ اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ لڑنے کے لئے نوجوان جرنیلوں کی ضرورت ہے اور ان کو سٹاف کی مدد کے بغیر ٹریننگ دی جائے اور زمانہ امن میں ٹیسٹ بھی کیا جائے۔ اس نے فوج کی قدامت پرستی پر شدید تنقید کی اور لکھا کہ یہ روایات پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں حائل ہیں اور پھر یہ لکھا کہ ہر جرنیل کے ساتھ ایک سیکنڈ ان کمانڈ ہونا چاہیے جو اس کے بعد کمانڈ سنبھال سکے نہ کہ چیف آف سٹاف! اس نے یہ بھی لکھا کہ جنرل سٹاف کا کام جرنیل کو کنٹرول کرنا نہیں۔ اس نے تجویز کیا کہ جرنیلوں کو ایسی چھوٹی افواج کی کمانڈ دی جائے جنہیں وہ خود میدان جنگ میں کمانڈ کر سکیں۔ یہ افواج میکانائزڈ ہوں اور جنرل خود ٹینک میں سوار ہو، جیسا کہ کیمبرائی کی لڑائی میں جنرل ایلس (Elles)نے کیا تھا۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ جنرل سٹاف کی تنظیم کو ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ جنرل کا سٹاف قائم کیا جائے۔ اصل انگریزی جملہ یہ ہے۔

"General Staff Should be abolished and replaced by General`s Staff"

یہ تنقید بھلا سینئر آفیسرز کو کیسے پسند آ سکتی تھی۔ چنانچہ اس کتاب کی اشاعت نے فوج میں فلر کے مستقبل پر مہر لگا دی۔ لڈل ہارٹ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ”اگر آپ مسٹرA کو یہ کہیں کہ مسز B کی ناک پر مہاسا نکلا ہوا ہے تو وہ اسے محض حقیقت ِ حال کا ایک اظہار سمجھے گا اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اگر یہی بات آپ براہ راست مسز B سے کہہ دیں تو وہ اسے اپنی توہین خیال کرے گی!“

تو اس طرح فلر نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مار دیا۔ 14دسمبر 1933ء کو اسے ملازمت سے ریٹائر کر دیا گیا۔ ریٹائرمنٹ پر اس کی عمر 54برس تھی اور اسے ابھی 34برس اور زندہ رہنا تھا!…… بریگیڈیئر انتھونی نے اس کی جو سوانح عمری لکھی ہے، اس میں وہ کہتا ہے:”فلر اپنی ذات کا بہترین دوست اور بدترین دشمن تھا“۔

برطانوی فوج کے ارباب بست و کشاد نے جس جرنیل کو معاشی شکنجے میں کس کر ریٹائر کر دیا تھا، وہ ریٹائرڈ ہونے کے بعد برطانیہ کی دشمن افواج کے لئے ایک سرمایہ بن گیا۔ لیکن اس امر میں کوئی شک نہیں کہ فلر نے برطانوی فوج کو میکانائز کرنے کی دھن میں سینئر آفیسرز کو ناراض کر لیا، جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ دنیا کی کسی بھی فوج میں افسرانِ بالا کو ناراض کرکے اپنی بات، خواہ وہ کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو، نہیں منوائی جا سکتی۔ فلر کو چاہیے تھا کہ وہ سینئر افسروں کو اپنا ہم نوا بناتا، جاری سسٹم پر تنقید بھی کرتا تو اس پیرائے میں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہوتی۔ لیکن فلر نے تو آ بیل مجھے مار کے مصداق کھلی لڑائی مول لے لی۔ یہ فلر کی خوش بختی تھی کہ وہ ایک ایسی فوج کا افسر تھا جس میں اختلاف رائے کے باوجود لوگوں کو برداشت کرنے کی بے پناہ لچک موجود تھی۔ وگرنہ باقی اقوام کی افواج میں یہ طرزِ عمل برداشت نہیں کیا جاتا۔ فلر کو اگر اپنی تحریروں کا اتنا ہی زعم تھا اور اپنی ذہانت و فطانت پر اتنا ہی بھروسہ تھا تو اسے فوج سے فی الفور مستعفی ہو جانا چاہے تھا۔ ہرچند کہ اس کی خواہش نیک تھی، ہرچند کہ وہ ایک وفادار برطانوی شہری تھا اور ہرچند کہ وہ برطانوی فوج کی اعلیٰ قیادت میں انقلابی اوصاف دیکھنے کا آرزو مند بھی تھا لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے جو طرزِعمل اختیار کیا وہ ہرگز قابلِ ستائش نہ تھا بلکہ قابل ستائش وہ سینئر افسرو ں کی کھیپ تھی جس نے فلر کی ان ”حرکتوں“ کے باوجود اسے اپنی آغوش میں پناہ دیئے رکھی۔ فوج ایک لڑنے والی تنظیم ہے، سینئر قیادت سے اختلاف ہو تو یہ تنظیم اس وحدتِ عمل سے عاری ہو جاتی ہے، جو حصولِ مقصد کے لئے شرطِ اول ہے۔ تنقید اور تنقیص میں جو فرق ہے، کاش فلر اسے سمجھ سکتا اور اپنے قلم کو اس طرح بے لگام نہ کرتا!

فوج میں اس کی جو بھی خدمات تھیں وہ صرف لیفٹیننٹ کرنل کے رینک تک تھیں۔ فلر نے فل کرنل سے بریگیڈیئر اور بریگیڈیئر سے میجر جنرل کے رینک میں جانے کے باوجود اس کنٹری بیوشن میں کچھ اضافہ نہ کیا۔ فلر کے نظریات و خیالات اگرچہ نہایت سود مند، نفع بخش اور قیمتی تھے، لیکن کاش اے یہ سمجھ بھی ہوتی کہ آئیڈیا خواہ کتنا بھی قیمتی ہو، اسے انسان ہی بروئے کار لاتے ہیں اور جو لوگ بروئے کار لانے والے ہوں، ان سے ہی اگر لڑائی مول لے لی جائے تو اس سے بڑی نادانی اورکیا ہو گی؟

1933ء میں جب وہ ریٹائر ہوا تو جرمنی میں ہٹلر بھی اسی سال برسراقتدار آیا۔ ہٹلر کے جرنیل خاص طو رپر گڈیرین، موڈل اور رومیل وغیرہ فلر کی تحریروں کا بغور مطالعہ کرتے رہے۔ 1935ء میں جرمنی میں جو بڑے پیمانے پر ٹینکوں کی مشقیں ہوئیں، ان میں جنرل فلر واحد غیر ملکی تھا جو سرکاری طور پر ان مشقوں میں بطور مبصر مدعو کیا گیا تھا۔ وہیں اس کی ملاقات ہٹلر سے ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ جرمنی جاتا رہا۔ اس نے اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی سے بھی ملاقات کی اور جب اطالوی افواج نے ایتھوپیا پر قبضہ کیا تو فلر سرکاری مہمان کی حیثیت سے محاذِ جنگ پر گیا۔ وہ سپین کی خانہ جنگی میں بھی بطور اخباری رپورٹر موجود رہا۔ یہ سول وار تین سال تک (1936-39ء) لڑی جاتی رہی۔ اب وہ باقاعدہ فاشسٹ تحریک کا ممبر بن چکا تھا اور برطانیہ کی فاشسٹ پارٹی کے لیڈر مسٹر موصلی (Mosley) کے اکابر مشیروں میں شامل تھا۔ اگر کسی برطانوی انتخابات میں موصلی کی پارٹی کو کامیابی ہو جاتی تو جنرل فلر لازمی طور پر برطانیہ کا وزیرِ دفاع ہوتا۔ یہی وہ امکان تھا جس نے چرچل اور فلر کو ایک دوسرے کے قریب نہ آنے دیا۔ بطور صحافی فلر نے خاصی شہرت حاصل کی جس سے ایک حد تک اس کی مجروح انا تسکین پاتی رہی۔

روس اور امریکہ میں بھی اس کی بہت پذیرائی کی گئی۔ وہ اگرچہ جمہوری نظام کا نقاد اور روز ویلٹ اور آئزن ہاور کی جنگی اور سٹرٹیجک پالیسیوں کا ایک حد تک مخالف تھا لیکن اس کے باوجود اس کی وفات سے صرف ایک سال پہلے جب 1965ء میں اس کی آخری کتاب ”جولیس سیزر“ شائع ہوئی تو ایک مشہور امریکی نقاد نے اس پر یہ تبصرہ کیا:

”وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلر کے لہجے میں اب نرماہٹ آ چکی ہے۔ 86سال کی عمر میں بھی اس کا دماغ اور ذہن اتنا ہی ترو تازہ ہے، جتنا اس کا قلم…… جس طرح موسیقی کے بعض نغموں میں دھن کبھی کم ہوتی ہے، کبھی تیز اور سُر کبھی اشتعال انگیز حد تک بلند اور تلخ ہوتی ہے اور کبھی سکون بخش حد تک سریلی اور کومل، اسی طرح فلر کی تحریریں بھی تلخ و شیریں، بلند و پست اور خوب و ناخوب کا انداز لئے ہوتی ہیں“۔

10فروری 1966ء کو اس پرنمونیہ کا حملہ ہوا اور اس نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس کی وفات پر ساری دنیا کے عسکری حلقوں نے غم و افسوس کا اظہار کیا۔ وہ 34سال تک پیشہ سپہئ گری سے وابستہ رہا اور اتفاق کہئے کہ 34سال تک ہی پیشہ صحافت سے بھی وابستہ رہا۔ دونوں شعبوں میں اس کی کارکردگی متنازعہ بھی رہی اور مفید بھی۔ اسے اگرچہ کسی جنگ یا امن کے زمانے میں کسی بڑی فارمیشن کی کمانڈ نہ دی گئی تاہم بطور سٹاف آفیسر اس نے اپنے آپ کو کئی حوالوں سے منوایا…… کسی نے سچ کہا ہے۔ عظیم ہستیاں، عظیم شخصی اختلافات کی حامل بھی ہوتی ہیں۔

اب میں ”کنڈکٹ آف وار“ پر کچھ تفصیلی تبصرہ نذرِ قارئین کرنا چاہوں گا۔

جنرل فلر نے کل 45کتابیں تحریر کیں جن میں ”کنڈکٹ آف وار“ کا نمبر44واں ہے۔ مصنف کی وفات سے 5سال قبل اس کا پہلا انگریزی ایڈیشن شائع ہوا۔ اس کے بعد اس کے کئی ایڈیشن نکلے۔ جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور ہسپانوی زبانوں میں اس کے کئی تراجم شائع ہوئےّ پہلا جرمن ایڈیشن 1964ء کے موسم گرما میں منظر عام پر آیا۔ پاک فوج میں 1986ء میں یہ کتاب سروسز بک کلب میں شائع کی گئی۔ برسہا برس تک پاک آرمی کے سٹاف کالج کے لئے داخلہ ٹیسٹ کے لئے یہ کتاب بطور ٹیکسٹ بک شامل رہی۔ مزید برآں کپتان سے میجر کے رینک میں ترقی پانے کے لئے بھی اس کتاب کو ملٹری ہسٹری کے پرچے میں بطور نصابی کتاب شامل کیا جاتا رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ اردو تو کیا خود انگریزی زبان میں کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں جو معلومات، افادیت اور اندازِ بیان میں اس کتاب کے ہم پلہ ہو۔ طبع ہونے سے پہلے اس کی ایک ایڈوانس کاپی کیپٹن لڈل ہارٹ کو بھجوائی گئی جو فلر کا دوست اور اپنے دور کا ایک عظیم عسکری مورخ اور نقاد بھی تھا۔ اس کاپی کے ساتھ فلر نے جو خط لڈل ہارٹ کو لکھا اس میں بیان کیا کہ: ”میں نے کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں فلسفہء جنگ کو فلسفہء امن پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دوں“ لڈل ہارٹ نے کتاب پر مبسوط تبصرہ تحریر کیا۔ چند ایک تجاویز اور ترامیم بھی پیش کیں جو فلر نے قبول کرلیں۔ لڈل ہارٹ نے اپنے خط کے آخر میں لکھا۔ ”یہ آپ کا شاہکار ہے…… 83برس کی عمر میں اس قسم کی کتاب شائع کرنا کمالِ فن ہے اور میں حیران ہوں کہ جب آپ نوے برس کے ہو جائیں گے تو کیسی چیز لکھیں گے!“…… افسوس مصنف نے 88سال کی عمر میں انتقال کیا!

یہ کتاب 1789ء سے لے کر 1961ء تک پھیلے ہوئے تقریباً پونے دو سو سالوں میں جنگ و جدل پر پڑنے والے معاشی، معاشرتی، سیاسی اور فنی اثرات کا ایک شاندار جائزہ ہے۔ مصنف نے کلاسیوٹزکا تفصیل سے ذکر کیا ہے لیکن کہا ہے کہ کلاسیوٹز یہ نہ سمجھ سکا کہ جنگ کا آخری مقصد فتح نہیں بلکہ امن کا قیام ہوتا ہے۔ یہی استدلال اس کو وزیراعظم برطانیہ، مسٹر چرچل پر تنقید کی طرف لے گیا۔ دوسری عالمی جنگ میں چرچل نے کہا تھا کہ جرمنی اور جاپان کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔ جنرل فلر کہتا ہے کہ اگر یہ غیر مشروط والی شرط نہ رکھی جاتی تو جنگ 1945ء سے پہلے ختم ہو جاتی اور دنیا کو ایٹم بم کی تباہی بھی نہ دیکھنی پڑتی۔وہ جرمنی پر اتحادی بمباری کے بھی خلاف تھا۔1789ء سے شروع کرکے جنگ و جدل کی مختلف صورتوں اور ٹیکٹیکس اور سٹرٹیجی پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ عصر حاضر تک آتا ہے تو قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ دو صدیوں کی اس طویل حربی جدوجہد میں انسان نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم