2019سیشن عدالتوں میں 5ہزار سے زائد مقدمات التواء کاشکار

      2019سیشن عدالتوں میں 5ہزار سے زائد مقدمات التواء کاشکار

  



ملتان ( خبر نگار خصو صی)سیشن عدالتوں میں 2019 کے اختتام پر 5 ہزار سے زائد مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ سابق (چیف جسٹس آف پاکستان) آصف سعید کھوسہ کے حکم پر بننے والی ماڈل کورٹس نے قتل اور منشیات سمیت کئی سنگین جرم والے مقدمات کے فیصلے بھی سنائے اسی وجہ سے 2019 میں التوا مقدمات کی تعداد سال 2018 سے کم ہے۔شہریوں کی قانون پر عمل درآمد کرنے میں عدم دلچسپی، وکلاء ہڑتالیں، کم عدالتیں اور پولیس کا عدالتوں سے عدم تعاون مقدمات کو لٹکانے کی اہم وجہ بن رہا ہے۔ ایک(بقیہ نمبر36صفحہ12پر)

محتاط اندازے کے مطابق 2019 میں 90 روز وکلاء کی مکمل و جزوی ہڑتالیں رہیں۔ سال 2019 میں ملتان کی عدالتوں میں اہم کیسز کے فیصلے کئے گئے جن میں واپڈا ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں ملزموں کی بریت کا فیصلہ، چھوٹو گینگ کے ملزموں کو 18 بار سزائے موت کا فیصلہ،قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، توہین رسالت کے مقدمہ میں ملوث سابق وزیٹنگ لیکچرر جامعہ زکریا ملزم جنید حفیظ کو سزائے موت و 35 سال قید کا فیصلہ دیا گیا، کرپشن کیس میں گرفتار سابق جنرل منیجر سوئی گیس میر بہادر بگٹی کی بریت کا فیصلہ سنایا گیا،سابق ایم این اے دیوان عاشق کی جعلی سند اور سابق وزیر جیل خانہ جات چوہدری عبدالوحید کے خلاف دو شناختی کارڈ رکھنے کے مقدمات میں بریت کے فیصلے سنائے گئے۔ سیشن عدالتوں میں جنوری میں 2834 کیس دائر جبکہ 3411 کیسز کا فیصلہ، فروری میں 2534 کیسز کا اندراج، 2781 کیسز کے فیصلے،مارچ میں 2781 کیسز دائر جبکہ 2944 کیسز کے فیصلے،اپریل میں 2340 کیسز دائر جبکہ 2537 کیسز کے فیصلے،مئی میں 2677 کیسز دائر جبکہ 2,694 کیسز کے فیصلے،جون میں 2344 کیسز دائر جبکہ 2310 کیسز کے فیصلے،جولائی میں 3204 کیسز دائر ہوئے جبکہ 2413 کیسز کے فیصلے، اگست میں 2293 کیسز دائر جبکہ 2280 کیسز کے فیصلے، ستمبر میں 2681 کیسز دائر جبکہ 3049 کیسز کے فیصلے، اکتوبر میں 3717 کیسز دائر جبکہ 3681 کیسز کے فیصلے، نومبر میں 2591 کیسز دائر جبکہ 2861 کیسز کے فیصلے سنائے گئے۔ دسمبر میں بھی 2 ہزار سے زائد کیسز کے فیصلے سنائے گئے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...