پانی کی قلت کے خاتمے کیلئے منظور کردہ منصوبہ K-4 تاحال تعطل کا شکار

پانی کی قلت کے خاتمے کیلئے منظور کردہ منصوبہ K-4 تاحال تعطل کا شکار

  



کراچی (نمائندہ خصوصی) کراچی میں پانی کی قلت کے خاتمے کیلئے منظور کردہ منصوبہ K-4 تاحال تعطل کا شکار، وفاق اور صوبے کی کھینچا تانی میں رقم فراہم نہ ہوسکی۔ 2 سال سے کام ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ قومی سرمایہ کے 5 ارب رو پے ضائع کردیے گئے۔ ایڈاونس دی جانے والی رقم کی واپسی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی شہر کو پانی کی فراہمی کیلئے تیار جانے والا K-4 منصوبہ متعدد تیکنیکی نقائص کے باوجود 2007 میں منظور کیا گیا جس کا ٹوپیکل سروے، روٹ میپ اور PC-II عثمانی اینڈ کمپنی کی ذمہ داری تھی، سندھ حکومت نے اس کام کے لیے کمپنی کو 37 ملین روپے ایڈوانس ادا بھی کردیے۔ کمپنی نے K-4 پروجیکٹ میں نہ تو ہادیرو اور نہ ہی ہالیجی جھیل کو شامل یا منسلک کیا گیا اور نہ ہی اتنے بڑے منصوبے کیلئے الگ سے 50میگا واٹ بجلی گھر کا ذکر کیا گیا۔ پورے منصوبے پر 25 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہونی تھی، K-4 کے نہری نظام میں بالائی گذرگاہوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ رہائشی کالونیوں، گوٹھوں اور قبرستانوں کو بھی غیر معیاری ٹروپوگرافی میں شامل نہیں کیا گیا۔شہر کے لیے آب رسانی کے اس منصوبے کو تین مراحل میں مکمل ہونا تھا، جس میں 260 ملین گیلن کی دو الگ الگ لائنیں، پھر تیسرے مرحلے میں 130 ملین گیلن یومیہ پانی کی ترسیل کو یقینی بنانا تھا۔ تقریباً 6 سال کے بعد 2011 میں عثمان اینڈ کمپنی نے 260ملین گیلن کے پہلے مرحلے کی PC1 سیکریٹری پلاننگ کے دستخط کے بعد وفاقی حکومت کو ارسال کردی۔ چار سال بعد یعنی 2014 میں کام کا باقاعدہ آعاز ہوا، تقریباً ا یک ارب24 کروڑ روپے مقامی اسٹیل کمپنی کو ایڈوانس دیئے گئے، چار ارب روپے ایف ڈبلیو او کو دیئے گئے۔ 2017 تک پانچ فیصد کام کیا گیا۔ پھر وفاق اور صوبے کی طرف سے رقم نہ ملنے کے باعث کام روک دیا گیا جو کہ تاحال معطلی کا شکار ہے۔ اب یہ منصوبہ 25ارب 55 کروڑ کی جگہ 125 ارب روپے ہونے کا قومی امکان ہے جبکہ سابقہ تمام سروے اور اخراجات معہ ایڈوانس دی جانے والی رقم ضائع ہوجائیگی۔ K4پروجیکٹ کی فزیبلٹی اور ٹروپیکل سروے میں نشاندہی کے باوجود نشاندہی کے باوجود بے قاعدگیوں اور غلطیوں نے سابقہ حکمرانوں اور افسران کو فائدہ لیکن قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اب نئے سرے سے K-4کے کام کا آغاز کرنے کے لیے مزید رقم درکا ہوگی ساتھ ہی ساتھ اس میں لگنے والی خطیر رقوم ضائع ہوجائے گی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر