آگاہی نے اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس رپورٹ 2019 کا اعلان کر دیا

آگاہی نے اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس رپورٹ 2019 کا اعلان کر دیا

  



کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس  کی دوسری رپورٹ میں  مستقبل میں ہونے والی پیشرفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔  جو آنے والے سالوں میں  ملک کے نقطہ نظر پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔  انڈیکس میں دو نئے متغیرات اندرونی اور بیرونی قرض شامل کئے گئے ہیں۔ ایڈیشن دو ہزار انتیس میں بتیس متغیرات کو پرکھا گیا ہے۔جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ  کا اخراج، متبادل اور جوہری توانائی, خوراک کی پیداوار، جنگلات کا رقبہ، اظہار رائے کی آزادی، جی ڈی پی فی کس، توانائی کے استعمال کی فی یونٹ جی ڈی پی، مردم کشی، اموات کی شرح، انٹرنیٹ صارفِین کی تعداد، ملک کی پالیسی اور ادارہ جاتی تشخیص (شفافیت، احتساب، اور بدعنوانی)، پیدائش کے وقت  متوقع زندگی، نوجوانوں کی خواندگی کی شرح، مہاجرین کی تعداد،، دہشت گرد حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد اور معالجین، آبادی میں اضافے، پانی کے بہتر ذرائع، غربت  کی شرح تناسب، ملیریا، تحقیق اور ترقیاتی اخراجات، پوسٹ سیکنڈری تعلیم، پارلیمنٹ میں خواتین کی نشستوں کا تناسب، کل قرض کی حجم، بے روزگاری، درآمدات، برآمدات، وفاقی ٹیکس، افراط زر، داخلی قرض، بیرونی قرض شامل ہیں۔دو ہزار سترہ میں آگاہی نے اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس  کی پہلی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کوشش کا مقصدعوامی پالیسی کے معاملات میں مستقبل کی سوچ کو قائم کرنا تھا۔ نئی رپورٹ کے بتیس متغیرات میں  مقامی، علاقائی اور  عالمی پیشرفت کے اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔  رپورٹ ملکی پالیسی کیلئے بہتر طریقہ کار  اپنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔  پریوش چوہدری بانی و صدر آگاہی اور بانی فور سائٹ لیب کا کہنا تھا کہ جیسا کہ ہم نے  رپورٹ میں پیشرفت کو پرکھنے پر زور دیا ہے۔  ہماری کوششیں ہمیں اس یقین کی طرف لے جاتی ہیں کہ  تمام تر بحران کے باوجود ملک اب بھی بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ٹرینڈ امپیکٹ انیلیسز میں پچاس ممکنہ پیش رفتیں شامل ہیں۔  آگاہی نے اسٹریٹیجک وژن انسٹیٹیوٹ  کے تعاون سے جولائی دو ہزار انیس میں  ایک معلوماتی سیشن کا انعقاد کیا تھا جس کا مقصد مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرنا تھا جس کا اثر پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود پر پڑتا ہے۔  سیشن میں مختلف جامعات، سول بیوروکریسی، قومی سلامتی کے تجزیہ کار، معیشت دان، سائنسدان، اسکالز، کاروباری افراد، سیاسی قیادت اور طلباء نے شرکت کی۔ ڈیٹا تجزیہ کار مازیہ مشکور کا کہنا تھا کہ منتخب کردہ متغیرات کی ماورائے قدر کی کچھ ممکنہ پیش رفتوں کے اثرات  کو شامل کرنے سے نتائج کی  ایک رینج پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ٹی آئی اے کے طریقہ کار کی دریافت ہے۔پاکستان اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس کو ملینیم پروجیکٹ کی اہم اشاعت اسٹیٹ آف فیوچر 19.0 کے  دوسریاڈیشن میں شامل کیا گیا تھا۔ جو فیصلہ سازوں، رائے قائدین، کے لئے اعداد و شمار اور معلومات کا ایک غیر معمولی مجموعہ ہے۔  دنیا کے مستقبل پر اجتماعی انٹیلی جنس نظام کو بہتر بنانے میں 60 سے زیادہ ملینیم پروجیکٹ نوڈس شریک ہیں۔ ملینیئم پروجیکٹ کے سی ای او جیروم سی گلن نے کہنا ہے  '' پاکستانی اسٹیٹ آف دی فیوچر انڈیکس اور اس کا ٹرینڈ امپیکٹ  انیلیسیز مستقبل کی تعمیرایک منظم طریقہ ہے''۔ مستقبل کی بدلتی ہوئی حالت کی پیمائش کرنے کی کوشش کے طور پر اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس اور ٹرینڈ امپیکٹ انیلیسیز AGAHI کے پارٹنر انسٹی ٹیوٹ ملینیم پروجیکٹ نے تیار کیا تھا۔ انڈیکس عالمی اور قومی سطح کے حالات بہتر ہ یا بدتر ہونے  کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...