صوبائی دارالحکومت میں پولیس اقدامات کی بدولت ٹارگٹ کلنگ میں 20فیصد کمی

  صوبائی دارالحکومت میں پولیس اقدامات کی بدولت ٹارگٹ کلنگ میں 20فیصد کمی

  



پشاور(کامران علی)صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹارگٹ کلنگ میں 20 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، اسی طرح امسال 58 اندھے قتل کا سراغ لگا کر ان میں ملوث 83 ملزمان کو گرفتار کیا گیاہے جبکہ بھتہ خوری میں ملوث افراد کے خلاف 36 مقدمات درج کر کے ملزمان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا، اسی طرح دہشت گردی کے واقعات میں بھی نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی 80 فیصد کمی کے ساتھ صرف ایک کیس رجسٹرہواجس کے مطابق گزشتہ سال کے 5 کیسز کے مقابلے میں صرف ایک کیس رجسٹرڈ ہوا ہے، اعداد و شمار کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اسی طرح سال 2019 میں مجموعی طور پرتین عدد خودکش جیکٹس سمیت مختلف جگہوں سے 5 بم برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ 200 کلو گرام بارودی مواد برآمد کر کے ناکارہ بنایا گیا ہے، سماج دشمن عناصر کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے دوران گرفتار کئے گئے ملزمان کے قبضہ سے 53دستی بم اور 33 راکٹ شیل برآمد کرنے سمیت سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث پانچ ہزار ایک سو سے زائد ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے 565 کلاشنکوف،41کالاکوف،540رائفل، 613 شارٹ گن،5318 پستول اور ساڑھے چار لاکھ سے زائد مختلف بور کے کارتوس برآمد کئے ہیں، اسی طرح سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزمان کے خلاف بھی بھر پور کارروائیاں کرتے ہوئے امسال 3 ہزار 7 سو سے زائد اشتہاری ملزمان کوگرفتار کیا گیا ہے،جبکہ بارہ ہزار نو سو سے زائد منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے 6 ہزارچار سو کلو گرام سے زائد چرس،308 کلو گرام ہیروئن،249کلوگرام افیون، ڈھائی ہزار لیٹر اور 2 ہزار8 سو سے زائد بوتل شراب برآمد کی گئی ہے،اسی طرح پشاور پولیس نے آئس جیسے مضر اور خطرناک نشہ کی روک تھام سمیت جہاں مختلف تعلیمی اداروں میں آگہی و شعور دینے کا سلسلہ جاری رکھا وہیں آئس کے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاون کا بھی سلسلہ جاری رکھا جس کے دوران سال کے اوائل میں فقیر آباد کے علاقہ میں ایک رہائشی گھر میں قائم آئس فیکٹری کو سیل کر کے کروڑوں روپے مالیت کی آئس برآمد کی، اسی طرح سال بھر جاری رہنے والے کریک ڈاون کے دوران کوئٹہ کے راستے ہمسایہ ملک سے غیر قانونی طریقوں سے آئس سمگل کر کے ملک کے دیگر شہروں کو سپلائی کرنے والے گینگ سمیت 1442 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے مجموعی طور پر 54 کلو گرام سے زائد آئس برآمد کی گئی جو آئس کے خلاف جاری جنگ میں پشاور پولیس کی سنجیدگی کا بین مظہر ہیاسی طرح ڈکیتیوں,راہزنی اور چوریوں میں ملوث متعدد گروہوں کو بے نقاب کرتے ہوئے چوری، راہزنی اور ڈکیتی میں ملوث 1432 ملزمان کوگرفتار کیا گیا جنہوں نے تفتیش کے دوران 599 عدد مختلف کیسز میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے قبضہ سے مختلف وارداتوں کے دوران چھینے اور چوری کئے گئے 332 عدد موبائل فونز، 114 تولہ سونا اور 2کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد نقد رقم برآمد کی گئی ہے پشاور پولیس نے سال 2019 کے دوران موٹر کار اور موٹر سائیکل چوروں کے خلاف بھی خصوصی کارروائیوں کے سلسلہ جاری رکھا جس کے دوران 387 چوروں کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے 120 عدد موٹر سائیکل اور 64 عدد موٹر کار برآمد کئے گئے ہیں،اسی طرح پشاور پولیس نے امن و امان کے قیام سمیت دیگر مختلف چیلنجز سے نمٹنے سمیت سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچاتے ہوئے غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائیوں کے دوران کروڑوں روپے مالیت کا غیر قانونی سامان برآمد کر کے سرکاری خزانہ کو بھاری نقصان سے بچاتے ہوئے کسٹم حکام کے حوالہ کیاتفصیلات کے مطابق پشاور پولیس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی جس کے مطابق جرائم کی بیخ کنی اور تدارک کی خاطر پشاور پولیس کی جانب سے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، گزشتہ سال کے دوران محرم الحرام، پولیو مہم، عیدین، عید میلاد النبی، کرسمس اور دیگر متعدد اہم تقاریب اور پروگراموں میں مصروف رہنے کے باوجود سماج دشمن عناصر اور منشیات فروشوں سمیت مختلف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاون کا سلسلہ جاری رکھا، اسی طرح پشاور پولیس نے دہشت گردی کے متعدد کارروائیوں کو ناکام بناتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جس کے دوران حیات آباد کے ایک رہائشی گھر میں موجود دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے ان کے عزائم کو ناکام بنایا،اسی طرح دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے سامنے ہونے والے دھماکہ کے مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا، کامیاب حکمت عملی کی بدولت سال 2018 کی بہ نسبت رواں سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی، پولیس کی جانب سے کارروائیوں کے دوران سال2019 کے دوران تین خودکش جیکٹ، 200کلو گرام بارودی مواد،53 عدددستی بم، 33 راکٹ شیل، متعدد فیوز، پرائما کارڈ اور ڈیٹو نیٹرز برآمد کر کے ناکارہ بنائے گئے ہیں، پولیس کی بروقت کارروائیوں کی بدولت ناکام کئے جانے والے منصوبوں میں پشاور جنرل بس اسٹینڈ سے ایک خاتون دہشت گرد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو لاہور کے ایک عوامی جگہ پر دہشت گردی کرنا چاہتی تھیں، اسی طرح قتل، اقدام قتل سمیت دیگرسنگین جرائم میں مطلوب تین ہزار سات سو سے زائد اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا جو کہ سال 2018کی بہ نسبت 4 سو سے زائد اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے منشیات فروشوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے دوران 12980 منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے سے 6 ہزارچار سو کلو گرام سے زائد چرس،308 کلو گرام ہیروئن،249کلوگرام افیون، ڈھائی ہزار لیٹر اور 2 ہزار8 سو سے زائد بوتل شراب برآمد کی گئی ہے، اسی طرح منشیات فروشوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے دوران تھانہ انقلاب اور تھانہ بھانہ ماڑی کی حدود میں گھروں میں قائم ہیروئن فیکٹریوں کو سیل کرکے ملوث ملزما ن کو گرفتار کیا گیاپشاور پولیس کی جانب سے نوجوان نسل خصوصاََ طلباء کوآئس جیسے نشہ کی تباہ کاریوں سے بچانے کی خاطر مختلف تعلیمی اداروں میں آئس کے خلاف شعور و آگاہی اجاگر کرنے کے لئے نہ صرف خصوصی سیمینارز کا انعقاد کیا گیا بلکہ آئس کے روک تھام اور اس کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف بھی کریک ڈاون جاری رکھا گیا جس کے دوران 1442ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے54 کلو گرام سے زائد آئس برآمد کی گئی جن میں کوئٹہ کے راستے ہمسایہ ملک سے آئس سمگل کرنے والے گروہ سمیت فقیر آباد کی حدود قاضی کلے میں ایک گھر میں قائم کی گی آئس فیکٹری بھی سیل کر کے وہاں سے پندرہ کلو گرام اعلی کوالٹی آئس برآمد کر کے ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا اس سال اغوائیگی کے واقعات میں واضؑح کمی دیکھنے میں آئی، سال 2017 میں اغوا کے 12 جبکہ سال 2018 کے دوران صرف5 کیسز کے مقابلے میں 80فیصد کمی کے ساتھ سال 2019 میں اغوا ء برائے تاوان کا صرف ایک کیسزرجسٹرڈ ہوا پشاور پولیس کی جانب سے ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیوں کے دوران متعدد گروہوں کا سراغ لگا کر ان میں ملوث ریکارڈ 1432 ملزمان کوگرفتار کیا گیا جنہوں نے تفتیش کے دوران 599 عدد مختلف کیسز میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی نشاندہی پر مختلف وارداتوں کے دوران چھینے اور چوری کئے گئے 332 عدد موبائل فونز، 114 تولہ سونا اور 2کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد نقد رقم برآمد کی گئی ہے گزشتہ سال موٹر کار اور موٹر سائیکل چوری میں ملوث 387 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضہ سے 64عدد موٹرکار،120 موٹر سائیکل برآمد کیے گئے ہیں، گرفتار ملزمان میں گاڑیاں چوری کرکے ان کے چیسز نمبرات تبدیل کرنے اور جعلی کاغذات بنوانے کے بعد ملک کے دیگر شہروں کو منتقل کرنے میں ملوث ملزمان بھی شامل ہیں پشا ور پولیس نے گزشتہ سال کے دوران ملکی خزانہ کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بھی بھر پور کارروائیاں کی ہیں جن کے دوران پشاور پولیس نے کروڑوں روپے مالیت کا غیر قانونی سامان برآمد کرکے مزید کارروائی کی خاطر کسٹم حکام کے حوالہ کیں ہیں غیر قانونی سامان کسٹم ڈیوٹی ادا کئے بغیر غیر قانونی طریقے سے ملک کے دیگر شہروں کو سمگل کئے جا رہے تھے کو تحویل میں لے کر کسٹم حکام کے حوالہ کی گئیں ہیں پشاور پولیس گزشتہ سال کے دوران اخلاقی طور پر سپورٹ کرنے اور معاشرے میں جرائم کی بیخ کنی اور تدارک سمیت مختلف معاشرتی اور سماجی برائیوں کی نشاندہی کرنے پر میڈیا نمائندگان کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہے، اور امیدہے کہ آئندہ سال بھی میڈیا سے وابستہ صحافی حضرات معاشرے میں قیام امن اور جرائم کی نشاندہی کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...