یوتھ ایڈووکیسی کونسل 80 ہزار ڈالر سے زائد کی گرانٹس حاصل کرنے کیلئے منتخب 

یوتھ ایڈووکیسی کونسل 80 ہزار ڈالر سے زائد کی گرانٹس حاصل کرنے کیلئے منتخب 

  



لاہور(پ ر)گلیاڈ سائنسز نامی بین الاقوامی ادارہ نے اپنے گلیاڈ ایشیاء پیسفک رینبو گرانٹ پروگرام 2019  میں منتخب ہونے والے درخواست گزاروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اس خطے میں برادریوں کی قیادت میں چلنے والے ترقیاتی  پروگراموں کا حصہ ہے، جو  ایشیاء پیسفک خطے میں HIV بیماری سے متاثرہ افراد کی معاونت کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ؛ پاکستان میں  غیر حکومتی  اور  دیگر حمایتی اداروں کو بھی دعوت دی گئی کہ؛ مالیاتی معاونت حاصل کرنے کے لئے اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔ اس حوالہ سے پاکستان سے جمع کروائی جانے والی 15 درخواستوں میں سے منتخب ہو کر گرانٹ حاصل کرنے والی تین درخواستوں میں:  یوتھ  ایڈووکیسی  کونسل (YAC) بھی شامل ہے۔اس سال کے پروگرام کے ذریعے، گلیاڈ  سائنسز 14 لاکھ امریکی  ڈالر کی امدادی رقوم دے کر، پورے ایشیاء پیسفک خطے میں 40 ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں معاونت کرے گا۔ ان میں سے 80 ہزار ڈالر کی رقم سے مستفید ہونے کے لئے تین پاکستانی اداروں میں تقسیم کی جائے گی۔گلیاڈ سے حاصل شدہ رقم سے  YAC  اپنے منصوبوں کو پایہ ء تکمیل تک پہنچا نے کی کاوشوں میں اضافہ کر سکے گا۔ان منصوبوں میں؛HIV اورAIDS سے تحفظ  کے لئے پاکستان میں  خواجہ سراؤں کی برادری کو علاج کی بہتر سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کے لئے، مشاورتی خدمات اور قریبی افراد سے سہارا دلوانے کے پروگراموں کے علاوہ، متعلقہ افراد کی شراکت سے  ہمدردی، تحفظ اور معلومات پر مبنی ورک شاپوں کا انعقاد شامل ہے۔

 اس گرانٹ کے حوالہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے YAC کے شریک بانی اور قائم مقام چیف ایگزیکٹیوآفیسر  -  محسن خان نے کہا کہ؛  پاکستان میں خواجہ سراؤں کی برادری صحت اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ایک سخت جنگ لڑ رہی ہے۔سماجی رسوائی کے علاوہ اس طبقہ کو صحت کے حوالہ سے HIV اور ایڈز جیسی شدید بیماریوں اور خطرات کا بھی سامنا ہے۔ یہ گرانٹ ہماری استعداد میں اضافہ کرے گی جس سے ہم اپنے جدید اور مربوط اقدامات کی تکمیل کر سکیں گے۔  خواجہ سراؤں کے ساتھ جنسی بنیاد پربرتے جانے والے تعصب اور توہین آمیز روئیے کوختم کرنا ہماری تنظیم کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہے، جبکہ ہم اس طبقے کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کا بھی عزم رکھتے ہیں۔گلیاڈ کی جانب سے اس مخلصانہ امداد کا ہم تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس مالیاتی تعاون کے نتیجہ میں ہم خواجہ سراؤں کے ساتھ روابط قائم کرکے انہیں تعلیم اور خود انحصاری کے ذریعے باعزت زندگی کے قابل بناسکیں گے۔خصوصاً، ان میں موجود نوجوانوں کی خوشحالی کے لئے ہم مشترکہ کاوشوں کو فروغ دیں گے اور انہیں معاشرے کا فعال شہری بننے میں مدد کریں گے، تاکہ انہیں معاشی انصاف مہیا کرتے ہوئے، پاکستان کو ایک متحرک  اور  طبقاتی ہم آہنگی پر مبنی قوم بنایا جائے۔سنہء 2018  میں قائم ہونے والا،  گلیاڈ ایشیاء پیسفک رینبو گرانٹ پروگرام،سماجی  برادریوں کی قیادت میں چلنے والے،  HIV سے متعلقہ منصوبوں کی براہ راست معاونت کرتا ہے۔ یہ پروگرام  گلیاڈ کی وسیع تر کاوشوں  کا حصہ ہے، جن کے ذریعے، ایشیاء پیسفک خطہ میں،  حکومتی اور نجی  اشتراک کو فروغ دے کر، HIV سے متاثرہ حلقوں کی زندگی سے  مشکلات کو دور کیا جارہا ہے۔رواں سال، گلیاڈ ایشیاء پیسفک رینبو گرانٹ 2019  کا عزم ہے کہ؛ HIV سے متاثرہ افراد کا معیار زندگی بلند کیا جائے۔ اس حوالہ سے تین اہم ترجیحات پر توجہ دی جارہی ہے۔1)    حقوق تک رسائی اور معیار زندگی؛  2) کثیر الضابطہ  دیکھ بھال؛  اور  3)    تنوع اور  شمولیت۔  اس گرانٹ کا مقصد  Fourth 90  کے آگے بڑھنے کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہے، جو کہ  90-90-90  سلسلے کا اضافی اقدام ہے۔ یہ اقدامات  HIVکے خاتمے اور معالجہ کے حوالہ سے UNAIDS کے عالمی اہداف کا حصہ ہیں۔ ان اہداف کے مقاصد میں: 2030 تک، دنیا بھر میں HIV کے 90 فیصد مریضوں کو  ان کی بیماری کی صورتحال سے آگاہ کرنا،  اپنی HIV بیماری کی موجودگی سے اگاہ ہونے والے90 فیصد افراد کے علاج کا آغازکرنا  اور  ان زیر علاج مریضوں میں سے 90 فیصد افراد کے وائرل لوڈ میں نمایاں کمی کو یقینی بنانا، شامل ہیں۔ اسی طرح جو  چوتھا 90  ہدف ہے اس کا مقصد HIV کے 90 فیصد مریضوں کو اچھی صحت کے ساتھ معیاری زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔گلیاڈ سائنسز  انکارپوریٹڈ  میں پبلک افیئرز کی  سینئر نائب صدر -   ایمی فلڈ نے کہا کہ؛  ایسے تمام افراد جوHIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، ان کے لئے یہ وائرس ان لاتعداد عناصر میں سے صرف ایک ہے،جو ان کی مجموعی صحت اور  خوشحالی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایشیاء پیسفک رینبو گرانٹ پروگرام HIV کے مریضوں کو بہتر زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرنے کے لئے ایک وسیع تر حکمت عملی کی ضرورت سے آگاہ ہے-   یہ وسیع البنیاد  اقدام HIV پر قابو پانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکزی ہدف؛  برادریوں پر مبنی اداروں کے کردار کو موثر بنانا ہے، جو معیار زندگی میں کمی لانے والی مختلف سماجی آزمائشوں کے تدارک کے لئے کوشاں ہیں۔ان میں ذہنی حوصلہ بڑھانے کے علاوہ  HIV کے باعث امتیازی سلوک  میں کمی بھی شامل ہیں۔گرانٹ کی درخواستیں جمع کروانے کی معیاد کے دوران، پورے ایشیاء پیسفک خطے میں 136   درخواستیں موصول ہوئیں۔گلیاڈ نے اس گرانٹس پروگرام کو اس خطے کے 18 ممالک یا علاقوں تک پھیلا دیاہے۔ یعنی گذشتہ سال کے مقابلہ میں، اس پروگرام کی جغرافیائی  وسعت اور دائرہ کار کو تقریباً دوگناکر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا سال ہے، کہ گلیاڈ نے اس ترقیاتی امداد اور مالیاتی گرانٹ کو پاکستان میں بھی پیش کیا ہے۔ 

مزید : کامرس