سمگلنگ کو قومی معیشت کیلئے ناسورہے،ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز 

سمگلنگ کو قومی معیشت کیلئے ناسورہے،ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز 

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ)کسٹمز کے اینٹی سمگلنگ سٹاف نے موجودہ چھ ماہ کے دوران 400ملین کے کیس پکڑے ہیں جبکہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران صرف 30سے 40ملین کے کیس پکڑے گئے تھے۔ یہ بات ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز اینٹی سمگلنگ غلام نبی کمبوہ نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے سمگلنگ کو قومی معیشت کیلئے ناسور قرار دیا اور کہا کہ اس کا خاتمہ صرف حکومتی اور ریاستی اداروں کا ہی کام نہیں بلکہ اس میں پاکستان کے ہر محب وطن شہری کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ جو لوگ سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں وہ دراصل پاکستان میں قانونی طو ر پر تجارت کرنے والوں کیلئے معاشی خطرہ بنے ہوئے ہیں اور اُن کا سدباب انتہائی ناگزیر ہے۔

 تاکہ قومی معیشت کو ترقی دے کر ملکی ترقی کیلئے ضروری محاصل کی وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے فیصل آباد میں اپنے سٹاف کے بارے میں بتایا کہ یہاں اُن کے پاس صرف نو افراد کا سٹاف ہے اور وہ ان کے ذریعے فیصل آباد کے تمام داخلی راستوں کی مکمل طور پر نگرانی بھی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کام کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے چھ ماہ کے مقابلے میں اس چھ ماہ کے دوران ان کی کارکردگی میں 800فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس میں مزید بہتری کی اب بھی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے قانونی درآمدات کرنے والوں کیلئے سمگلنگ کو سب سے بڑاخطرہ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے حال میں ہی فیصل آباد کی گنجان آباد مارکیٹ سے 500سمگل شدہ ایل سی ڈی برآمد کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف حکومت کا کام نہیں کہ وہ چور سپاہی کا کھیل کھیلے۔ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے تاجروں کو بھی آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے عناصر کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد کے ایک ہی گودام سے بڑی مقدار میں سمگل شدہ ڈرائی فروٹ برآمد کیا گیا ہے۔ جبکہ ان کے پاس ایک بھی درآمدی دستاویز نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اُن کا عملہ چنگ چی اور ریڑھیوں پر لادے تھوڑے مال کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا اور اس قسم کی کوئی شکایت ہو تو اسے فوری طور پر اُن کے نوٹس میں لایا جائے۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے بتایا کہ تاجر کمیونٹی کا یہ منتخب ادارہ اس علاقے کے ڈیڑھ کروڑ عوام کی نمائندگی کرتا ہے۔ فیصل آباد چونکہ بہت بڑی منڈی ہے اس لئے یہاں سے ہر قسم کی اشیاء درآمد اور برآمد بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں سے دور ہونے کے باوجود جب یہ سامان فیصل آباد پہنچتا ہے تو تمام ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں سرحدوں پر ہی کیوں نہیں روکا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی محب وطن سمگلنگ کا دفاع نہیں کرتا مگر کیونکہ بہر حال ہمیں اپنی ترقی کیلئے خود ہی اپنے لئے مالی وسائل پیدا کرنے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمگلنگ کی آڑ میں اُن چھوٹے تاجروں کو پریشان کیا جاتا ہے جو سرحدی علاقوں سے درآمدی سامان خرید کر لاتے ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد کی ڈرائی پورٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ 1994میں قائم ہوئی۔شروع میں یہاں سے روزانہ ہزاروں درآمدی اور برآمدی کنٹینر آتے اور جاتے تھے مگر اب اُن کی تعداد کم ہو کر صرف چند کنٹینروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو بھی ان وجوہات کی نشاندہی کرنی چاہیے جن کی وجہ سے فیصل آباد کے تاجر اپنے شہر میں دستیاب سہولت کی بجائے کراچی اور سمبڑیال کی ڈرائی پورٹوں سے فائدہ اٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم رانا محمد سکندر اعظم خاں نے ایڈیشنل کلکٹر کو سمگلنگ کے خاتمے کے سلسلہ میں اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ سوال و جواب کی نشست میں سینئر نائب صدر ظفر اقبال سرور، چوہدری محمد بوٹا، رانا محمد اسلم، سیٹھ محمد طفیل، نثار افضل، محمد اصغر، غلام حسین، بابر شہزاداور اسماعیل سہروردی نے حصہ لیا۔ جبکہ نائب صدر بلال وحید شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں صدر رانا سکندراعظم خاں نے ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز اینٹی سمگلنگ غلام نبی کمبوہ کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ 

مزید : کامرس