مائیکرو فنانس اینڈ انٹر پرائز گروتھ پر کار انداز رپورٹ شائع

      مائیکرو فنانس اینڈ انٹر پرائز گروتھ پر کار انداز رپورٹ شائع

  



لاہور(پ ر)مائیکرو فنانس کے اثرات حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع رہا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران متعدد مطالعے کئے گئے جن میں گھریلو آمدن، ذاتی اثاثہ جات اور سماجی و اقتصادی اشاریوں بشمول معاشی حیثیت،بچوں کی تعلیم، رہائشی سہولیات، خواتین کو بااختیار بنانا، صحت کے اخراجات اور بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے اثرات پر بنیادی توجہ مرکوز کی گئی۔ کار انداز کی جانب سے جاری کئے گئے نئے مطالعے جس کا عنوان ”مائیکرو فنانس اینڈ انٹر پرائز گروتھ۔ پاکستان کے شواہد“ ہے، میں متبادل نکتہ نظر پیش کیا گیا ہے اور اس میں ملازمت کے مواقع اور انٹر پرائز کی ترقی پر مائیکرو فنانس کے اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ چھوٹے پیمانے پر کئے جانے والے کاروبار سے متعلق روزگار کا پروفائل پاکستان جیسے ملک کے لئے خاص طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے جہاں ملازمت کے مواقع بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت کے حامل ہیں۔ اس رپورٹ کی تیاری کے لئے مطالعہ کے دوران چھوٹے کاروبار سے وابستہ 125 انٹر پرائزز کے مقداری اعداد و شمار حاصل کئے گئے اور سیمپل کے دوران مختلف علاقوں، اقتصادی شعبوں، صنف اور چھوٹے کاروبار مہیاء کرنے والے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے اعداد و شمار کے حصول کو یقینی بنایا گیا۔

مائیکرو انٹر پرائزز سٹڈیز کی اوسط انٹریسٹ کوریج 10.2 گنا اور اوسط ڈیبٹ سروس شرح 2 گنا ہے۔ ڈیبٹ ایکویٹی شرح 7 فیصد ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ مائیکرو انٹر پرائزز زیادہ سود مند نہیں ہیں۔ انڈسٹری کے ہر مائیکرو انٹر پرائزز کے اوسط اثاثے 1.5 ملین روپے پر برقرار ہیں۔ صنعت کے لئے اثاثوں کا ٹرن اوور اوسطاً 1.1 گنا ہے۔ مائیکرو انٹر پرائزز کی اوسطاً ماہانہ آمدن تقریباً 13 ہزار روپے ہے (اور اوسطاً قابل تقسیم ماہانہ آمدن 41 ہزار روپے ہے)۔ مجموعی منافع کا مارجن 37 فیصد اور صافی منافع کا مارجن 11 فیصد ہے۔ مالیاتی لاگت مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا 4 فیصد اور آپریٹنگ لاگت کا 77 فیصد تنخواہوں، ادائیگیوں اور مالکان کی طرف سے وصولیوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مائیکرو انٹر پرائز میں اوسطاً کل وقتی بنیاد پر 2.6 افراد ملازم ہیں، ان میں سے 40 فیصد خواتین ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کا بڑا طبقہ موجود ہے اور آبادی کا 69 فیصد سے زائد 30 سال تک کی عمر پر مشتمل ہے، 40 لاکھ سے زائد نوجوان ہر سال جاب مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ تخمینہ کے مطابق ملکی معیشت کو سالانہ 1.5 سے 2.5 ملین ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق مائیکرو انٹر پرائزز شعبہ میں ملازمتوں میں 45 فیصد براہ راست 20 سے 34 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خواتین کی زیر قیادت چلنے والے کاروباروں میں خواتین کو زیادہ مواقع فراہم کئے گئے۔ سیمپل میں خواتین کی زیر قیادت چلنے والے 57 مائیکرو انٹرپرائزز نے 101 خواتین کو ملازمت فراہم کی جبکہ مردوں کی زیر قیادت چلنے والے 68 اداروں میں خواتین کی تعداد محض 15 تھی۔ سروے سے یہ بات واضح ہے کہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے خود روزگار اور انٹر پرینیور شپ کی نمایاں اہمیت ہے۔ آمدن کے حوالے سے رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اوسطاً ایک مائیکرو انٹر پرائزز سے 1.6 ملین روپے کی سالانہ محصولات حاصل ہوتی ہیں۔ تاہم مختلف اقتصادی شعبوں میں یہ شرح نمایاں طور پر مختلف ہے اور ٹریڈنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں خاص طور پر زیادہ ہے۔ سیمپل کے لئے اوسطاً فکسڈ اثاثوں کا تخمینہ 1.5 ملین روپے ہے اور زمین کے مالک ہونے کی وجہ سے زرعی شعبہ اس لحاظ سے نمایاں ہے۔ خواتین کی زیر قیادت کام کرنے والے چھوٹے کاروباری ادارے چھوٹے ہیں اور ایک سال میں مردوں کی زیر قیادت کام کرنے والے اداروں کی بہ نسبت 63 فیصد کم محصولات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں انٹرپرائزز کی بڑی تعداد بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر مشتمل ہے اور مائیکرو فنانس کی صنعت معیشت کے حجم کو بڑا کرنے کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں لاکھوں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ رپورٹ کار انداز ویب سائیٹ https://karandaaz.com.pk/karandaaz-publication/ پر حاصل کی جا سکتی ہے۔کار انداز پاکستان کے سی ای او علی سرفراز نے رپورٹ کی اہمیت کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقی رپورٹ سے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مائیکرو فنانس کے شعبہ کے کردار کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مائیکرو فنانس کے غربت میں خاتمہ میں کردار کے حوالے سے ملے جلے شواہد ہیں، پھر بھی مائیکرو فنانس کی جانب سے مالیات تک رسائی بڑھانے کی خوبی کو نظر انداز کیا گیا۔ کار انداز پاکستان کی جانب سے سپانسر کی گئی رپورٹ کے نتائج اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ مائیکرو فنانس میں ملازمتوں کے فروغ اور مائیکرو انٹرپرائزز کے لئے ریونیو بڑھانے کے لئے ہماری سرمایہ کاریوں کی سمت درست ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مائیکرو فنانس پر مزید تحقیق سے معلومات کی کمی پوری ہو سکے گی جس سے صنعت کو ترسیل کی لاگتوں اور اپنے صارفین کے لئے پیش کردہ مصنوعات کا گہرائی سے جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ کار انداز پاکستان مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، شواہد پر مبنی معلومات کی تیاری و ترسیل اور مالیاتی شعبہ میں جدت کی حوصلہ افزائی کے ذریعے بینک کے دائرہ سے باہر لوگوں کے لئے مالیات تک رسائی بڑھانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ کار انداز پاکستان کو برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔

مزید : کامرس


loading...