سوئی ناردرن نے صنعتوں کیلئے گیس فراہمی بحال کر دی

  سوئی ناردرن نے صنعتوں کیلئے گیس فراہمی بحال کر دی

  



لاہور(پ ر) سوئی ناردرن نے صنعتوں کیلئے گیس فراہمی بحال کر دیترجمان سوئی ناردرن کے مطابق سوئی ناردرن نے گیس بحران پر قابو پاتے ہوئے گزشتہ روز صنعتوں کو گیس کی فراہمی بحال کر دی ہے۔شدید سردی کی وجہ سے گھریلو شعبے کی کھپت تقریباً 1263 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ چکی ہے۔گذشتہ سال دسمبر 2018 کے دوران گھریلو شعبے کی اوسط کھپت صرف 831 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔تاہم ایس این جی پی ایل نے گھریلو صارفین کو ریکارڈآر ایل این جی فراہم کر کے طلب میں ہونے والے اچانک اضافے کو پورا کیاہے۔گذشتہ سال دسمبر 2018 کے دوران آر ایل این جی کے ذریعے گھریلو شعبے کو گیس کی کی اوسط فراہمی تقریبا 155 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔ رواں برس دسمبر میں یہ اوسط 300 ایم سی ایم ایف ڈی سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پچھلے 7 دنوں کے دوران یہ 500 ایم سی ایم ایف ڈی سے بھی زیادہ ہے۔ سوئی ناردرن نے گذشتہ سال کے مقابلے میں اس دسمبر میں گھریلو صارفین کو 3 گنا سے زیادہ ایل این جی فراہم کی ہے اور اسی وجہ سے آج گیس فراہمی میں استحکام قائم ہوا ہے اور صنعت کو گیس فراہمی بحال کی گئی ہے۔حکومت پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں عوام کو ایل این جی1950 روپے فی ایم ایم بی ٹی یوکے انتہائی کمنرخ پر فراہم کی جا رہیہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ دنیا کا پانچواں بڑاملک ہے۔موسمی شدت سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت بھی اثر انداز ہوا ہے جہاں نئی دہلی میں کم ترین درجہ حرارت کا 118 سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔۔گزشتہ برس موسم گرما (اپریل تا نومبر)گھریلو شعبے کی اوسط گیس کھپت 488ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔موسم سرما کے دوران اس میں 250فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ دسمبر کے دوران ہمارے نیٹ ورک پر گھریلو، تجارتی، صنعتی اور سی این جی شعبوں (سٹی لوڈ) کی اوسط کھپت 1437 ایم ایم سی ایف ڈی تھیجبکہ اس سال ان شعبوں کی اوسطا کھپت 1600 ایم ایم سی ایف ڈی سے تجاوز کر گئی ہے جو کہ ظاہر کرتی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔پنجاب میں نان زیرو ریٹڈ صنعتی سیکٹر کو گیس بحالی کے بعد سی این جی سیکٹر کو بھی بحال کر دی جائے گی۔پنجاب میں تقریبا ً 120 ایم سی ایم ایف ڈی گیس زیروریٹیڈ انڈسٹریل (80-100 ایم ایم سی ایف ڈی) اور سی این جی سیکٹر (40 ایم ایم سی ایف ڈی) سے حاصل کی گئی تھی۔حالیہ گیس کے بحران کی وجہ دسمبر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی تھی جس پر کمپنی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انتہائی کم درجہ حرارت کے باوجود سوئی ناردرن نے اپنے نظام کوفعال رکھا ہوا ہے۔ لائن پیکس جو 3800 ایم ایم سی ایف تک جا چکے تھے اب بڑھ کر 4300 ایم ایم سی ڈی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں کے دیرینہ مسائل کے حل اور رابطوں کے لئے گریڈ 18اور اس سے اوپر کے افسران کو بطور فوکل پرسنز تعینات کیا جائے۔

مزید : کامرس