مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 150روز، 10اضلاع میں 3ارب ڈالر کا نقصان 

مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 150روز، 10اضلاع میں 3ارب ڈالر کا نقصان 

  



سرینگر،نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں خصوصا مقبوضہ وادی اور جموں کے علاقے میں منگل کو149 ویں روز بھی بھارتی فوج کی پابندیوں برقرار رہیں۔مسلسل بھارتی فوج کے محاصرے کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں جموں کے ضلع اودھم پور میں بھارتی فوج کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی جس میں پیرا ملٹری فورس (CRPF) کے 6 اہلکار شدید زخمی  ہوگئے۔ حادثہ گزشتہ رات اسوقت پیش آیا جب قابض فوج کی گاڑی وادی کشمیر سے جموں کیطرف آرہی تھی۔مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت  سرینگر کے علاقے حبہ کدل میں پولیس اوربھارتی سکیورٹی فورسز نے مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں گھر گھر جا کر تلاشی لے رہے ہیں جس پر علاقے میں عوام اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جھڑپوں کے دوران بھارتی فوج پر شدید پتھراو بھی کیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں حالیہ متعدد غیر جریدہ آسامیوں پر غیر ریاستی باشندوں سے بھرتی کیلئے درخواستیں طلب کئے جانے پر تمام مقامی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو سرکاری ملازمتوں کی فراہمی ناقابل قبول ہے کیونکہ اس سے کشمیری نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں وکشمیر پردیش کانگرس کمیٹی کے ترجمان رویندر شرما نے جموں میں ایک میڈیا انٹرویو میں بھرتی کے نوٹیفیکیشن پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مقامی نوجوانوں کوسرکاری ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنانے سے متعلق بی جے پی لیڈروں کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کی طرف سے سرکاری نوکریوں میں مقامی نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کے وعدے کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہاکہ غیر کشمیریوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کے حالیہ اشتہار نے سب کچھ واضح کر دیا ہے کہ اب بھارت کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والے نوجوان مقبوضہ کشمیرمیں سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں جموں و کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے نریندر مودی کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ خطے میں سکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی نصابی کتب کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے بھارت کی انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت نے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT)کو ہدایت کی ہے جو جموں وکشمیر اور لداخ میں تعلیم کے بارے میں پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا جائزہ لیتی ہے۔ جائزے میں سوشل سائنس کے مضامین خا ص طورپرتاریخ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ این سی ای آر ٹی کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پہلے ہی  مشاورت شروع کردی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے سکولوں میں پڑھائی جانے والی نصابی کتب میں کیا کیا تبدیلیاں لائی جانی چاہیے اور اس بات کا اشارہ دیا ان میں زیادہ تر تاریخ کی کتب ہونگی۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں نصابی کتب کو ہندوتواایجنڈے کے مطابق ڈھالنا ہے۔ادھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے 4 مقامی رہنماؤں کو وادی کے دورے سے قبل نظر بند کردیا گیا۔ ریاستی قانون ساز کونسل کے سابق رکن اور جموں و کشمیر کانگریس کے چیف ترجمان رویندر شرما نے بتایا کہ 'جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر اور سابق وزیر غلام احمد میر، قانون ساز اسمبلی کے سابق اسپیکر تارا چند، سابق وزیر رمن بھلہ اور پی وائی سی کے صدر اْدے بھانو چِھب کو آج صبح گھر میں نظربند کیا گیا'۔انہوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کے بہت سے دیگر رہنماؤں پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

کشمیر 

 سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے رواں سال 2019کے دوران3خواتین اور9لڑکوں سمیت210بے گناہ کشمیریوں کو شہید کردیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے منگل کو جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ان شہادتوں کی وجہ سے14خواتین بیوہ اور29بچے یتیم ہوئے جبکہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے اس دوران64خواتین کی بے حرمتیاں کیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکارو ں نے پرامن مظاہرین کے خلاف گولیوں،پیلٹ گنز، پاواشیلوں اور آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال اورگھروں پرچھاپوں اور کریک ڈاؤنز کی کارروائیوں کے دوران2ہزار417شہریوں کو زخمی کیا۔ پیلٹ گنز کے باعث کم سے کم 827افراد زخمی ہو ئے جن میں سے 162افراد ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران249 مکانوں کو تباہ کیا۔رپورٹ کے مطابق اس سال حریت کارکنوں، طلباء، نوجوانوں اور خواتین سمیت 12ہزار892 شہریوں کو گرفتارکیاگیا،جن میں سے بیشتر اب بھی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔دوسری طرف 2019ء کے دوران مقبوضہ کشمیر میں اگرچہ حالیہ برسوں کے مقابلے میں سب سے کم جانی نقصان ہوا تاہم سیاسی لحاظ سے ریاست اور اس کے عوام کے لیے ایک اہم بلکہ غیر معمولی سال ثابت ہوا۔امریکی نشریاتی ادارے  وی او اے کی  رپورٹ کے مطابق   کشمیر کی خصوصی حیثیت  کے خاتمے اور پابندیوں پر  بین الاقوامی سطح پر بھی نئی دہلی کو اقدام کا دفاع کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ خود مقبوضہ وادی میں گزشتہ تقریبا پانچ ماہ سے عائد بندشوں اور ہڑتالوں کی وجہ سے اقتصادیات پر منفی اثر پڑا ہے، تعلیم اور زندگی کے تقریبا تمام دوسرے شعبے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

سال 2019

مزید : صفحہ اول


loading...