نیب آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ، 2020ء عوام کا سال، معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائینگے، لوگ خوشخبری سنیں گے: عمران خان 

      نیب آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ، 2020ء عوام کا سال، معاشی ...

  



 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق سمیت ملکی معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔کابینہ کے اجلاس میں 8 نکاتی ایجنڈے کے مطابق نئے نیب آرڈیننس سے متعلق گفتگو ہوئی اور کابینہ نے اقتصادی تعاون کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائیاطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیابریفنگ میں بتایا کہ کابینہ اجلاس سے پہلے ان کیمرہ بریفنگ ہوئی جس میں قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس اورنیب قوانین کاجائزہ لیاگیا اس دوران ارکان  نے کھل کراپنی آرائکا اظہارکیا۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس پر اپوزیشن اندر سے خوش ہے اور اس پربینفشری(فائدہ اٹھانے والے) ہی شورمچا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نیب آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش ہونے جارہاہے،پارلیمنٹ میں جو چیز جائیگی تواس پرپارلیمنٹ کی مہرکے بعد قانون بننا ہے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی نے بتایا کہ انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی کابینہ نے بلوایا تھا اور ڈی جی اے این ایف نے وفاقی کابینہ کو رانا ثناء  اللہ کے کیس بارے بریف کیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس کا معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آئیگا اور اپوزیشن کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے، اس کو بلڈوز ہونے نہیں دیں گے،2020 عوام کی ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا،نئے سال کے پہلے ماہ غریب عوام کیلئے مزید سہولیات کا اعلان کیا جائے گا،یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیا ضروریہ کی مد میں 6 ارب کی رعایت دی جائے گی،جنوری2020 کے آخری ہفتے میں پسے  ہوئے طبقے کی معاشی معاونت کیلئے فنانشل اسسٹنس کارڈ جاری کیا جائے گا،حکومت دیہاڑی دار لوگوں کو لنگرخانوں کے ذریعے طعام فراہم کرنے کا بندوبست بھی کرے گی، وزیر اعظم کی ہدایت کیمطابق معاشی اور اقتصادی بہتری کے ثمرات عوام تک منتقل کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وفاقی کابینہ کا اجلا س وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ اجلاس میں 9نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا،اجلاس میں مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔معاون خصوصی نے کہاکہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت  پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی، عالمی برادری سے کشمیریوں پرظلم و ستم کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی۔معاون خصوصی نے کہاکہ 2020عوام کی ترقی و خوشحالی کا سال ہو گا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان  نے کہاکہ کابینہ نے وزیراعظم کے پناہ گاہ  پروگرام کو سراہا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ یوٹیلٹی سٹورز پر ارزاں نرخوں پر اشیاء ضروریہ کی دستیابی یقینی بنائی جائیگی،یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے صارفین کو 6 ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں  مالیاتی معاونت کارڈ کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سروے کے مطابق ایک نظام کے ذریعے ہم طبقے کی مالی تعاون کریں اور دوسری طرف صحت کارڈ کے ذریعے صحت کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ اس ڈیٹا سسٹم جو رجسٹر نہیں ہیں لیکن مزدوری نہ حاصل کرپانے والے افراد کو اپنے گھر کے افراد کو تعاون کے لیے لنگر کے ذریعے مدد کی جائے، فٹ پاتھ اور دیگر کھلی جگہوں پر سونے والے مزدوروں کے لیے عارضی رہائش کے طور پر پناگاہوں کے ذریعے مدد کی جائے گی اور وزیراعظم کا احساس پروگرام کے تحت ہر شہر میں پناگاہیں بنانے پر بھی کابینہ نے زور دیا۔وزیراعظم نے شوگر ملز بند ہونے کے باعث کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کا نوٹس لیا۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ نیپرا ٹیرف کا معاملہ ای سی سی کو نظر ثانی کیلئے بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔معاون خصوصی نے کہاکہ نیشنل کالج آف آرٹس کو انسٹی ٹیوٹ بنانے کی منظوری دی گئی ہے اور چاروں صوبوں میں اس کے کیمپس کھو لے جائیں گے تاکہ پاکستان کے اندر فن اور فن کار کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ محمد ہاشم رضا کو سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا سربراہ بنانے کی منظوری دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایجنڈے کا پانچواں نکتہ ناروے کے شہری محمد اویس کے حوالے سے تھا جو وہاں ریپ اور گھریلو تشدد کے سنگین الزامات کے بعد پاکستان واپس آیا تھا تاہم کابینہ نے منظوری دی کہ ایڈیشنل کمشنر کے ذریعے معاملے کی انکوائری کروائی جائے جس کے لیے وزارت داخلہ کو متعلقہ ملک نے درخواست کی تھی۔انہوں نے کہاکہ برطانوی حکام کو مطلوب قتل مقدمے میں ملوث سہیل احمد خان کو مجسٹریٹ کے ذریعے انکوائری کے تحت معاملے کو حل کرنے کی درخواست پر تبادلہ خیال کے بعد ایڈیشنل مجسٹریٹ کے تحت معاملے کو حل کرنے کی منظوری دے دی۔انہوں نے کہا کہ آٹھواں نکتہ حکومت کے ایک سال کے اقتصادی اشاریوں پر بریفنگ تھی جس میں بتایا گیا کہ ایک سال میں حکومت نے کیا کھویا اور پایا، ملک کو کہاں چیلنج کا سامنا تھا جس کو ہم نے دور کیا۔اقتصادی اشاریوں کے حوالے سے انہوں نے بتایاکہ وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے وزیراعظم اور کابینہ کو بریفنگ دی۔اسد عمر نے کابینہ کو بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پچھلے سال کے مقابلے میں 73 فیصد بہتری آئی ہے، تجارتی توازن میں 40 فیصد کمی آئی ہے، گزشتہ برس تجارتی توازن 13 اعشاریہ 4 ارب ڈالر تھا جو مالی سال 2019-20 میں 8 ارب ڈالر ہے۔وزیرمنصوبہ بندی ک بریفنگ سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ کو بتایا کہ برآمدا ت میں 4 اعشاریہ 7 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گزشتہ مالی سال میں اعداد وشمار 9 اعشاریہ 9 ارب ڈالر تھے جو اب 10 اعشاریہ 3 ارب تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ درآمدات گزشتہ مالی سال میں 23 اعشاریہ 2 ارب ڈالر تھی اور اس برس 18 اعشاریہ 3 ارب ڈالر ہیں، سروس بیلنس میں 6.6 فیصد بہتر آئی ہے، ترسیلات زر گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہے جو 9 اعشاریہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے، پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کی مد میں اب تک 87 ارب خرچ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بیرونی مالی شعبے میں بہتری سے رئیل سیکٹر میں مثبت اثرات نمایاں ہوئے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاری حوالے سے بتایا گیا کہ 1268 فیصد بہتری آئی جو گزشتہ مالی سال میں محض 147 ملین ڈالر تھی جو اب بڑھ کر فیصد 2 ہزار 6 ملین تک پہنچی ہے اور انہی اشاریوں کی بنیاد پر وزیراعظم نے 2020 کو معیشت کے استحکام کا سال قرار دیا ہے اور اگلے سال کے اوائل میں ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام تک فائدہ پہنچ سکے۔وفاقی کابینہ کے آخری نکتے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شاہد سلیم خان کو منیجنگ ڈائریکٹر، چیف ایگزیکٹو افسر، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس سے قبل ان کیمرا بریفنگ ہوئی جس میں نیب آرڈیننس، نیب قوانین اور اس کے ساتھ جڑے بہتری کے روڈ میپ پر تفصیل سے بحث بھی ہوئی 

اراکین نے اپنا نکتہ نظر بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا۔وزیراعظم نے کاروباری طبقے کو مخاطب کرکے کہا کہ انہوں نے نیب آرڈیننس کے ذریعے ان کے راستے کے کانٹے چننے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ نیب آرڈیننس کا معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آئے گا اور اپوزیشن کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے لیکن اس کو بلڈوز ہونے نہیں دیں گے۔سوشل میڈیا میں وفاقی اور صوبائی وزرا کی مبینہ ویڈیوز کی گردش کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی جہاں زندگی کو آسان بناتی ہے وہی زندگی کو جہنم بھی بنادیتی ہے۔نہوں نے بتایاکہ اسٹیٹ بینک کی 2008 کی مالی اسسمنٹ رپورٹ کی اشاعت کی منظوری دی گوکہ یہ ویب سائٹ میں موجود ہے لیکن اشاعت کے لیے کابینہ کی منظوری درکار تھی جو دی گئی۔انہوں نے کہاکہ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کیلئے ملک میں سرمایہ کاری کا فروغ ترجیح ہے،حق داروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے8لاکھ افراد کو بی آئی ایس پی سے نکالا گیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اور کابینہ نے 5 ماہ سے معصوم اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ دہشتگردی کی شکل میں جاری بھارتی حکومت کے ریاستی جبر کی مذمت کی اور ایک متفقہ قرارداد منظور کی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کایبنہ کو کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح پر جہاں اس مسئلے کو اٹھایا جاسکتا ہے اور جو اقدامات کیے جاسکتے ہیں اس حوالے سے اعتماد میں لیا جبکہ کابینہ نے وزیراعظم کی کاوشوں کو سراہا اور عالمی رہنماؤں اور اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جبر و ستم کا نوٹس لیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ کابینہ نے نریندر مودی کا اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کا قانونی سازی کے ذریعے استحصال اور اس کے ساتھ ہی مودی کے آر ایس ایس اور ہندو توا نظریات کے تحت اقلیتوں سے ناروا سلوک کی مذمت کی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کا کیس بھی زیر بحث آیا۔ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میجر جنرل عارف ملک وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک ہوئے جنہوں نے کابینہ کو رانا ثناء اللہ کیس پر بریفنگ دی۔وفاقی کابینہ میں شامل وزراء نے ڈی جی اے این ایف سے سوال و جواب کیے۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ اے این ایف کی نااہلی رانا ثناء اللہ کیس میں واضح ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا کہ ا ے این ایف والوں نے اس معاملے پر میرے سامنے اپنے بچوں کی قسمیں کھائیں، ان کی قسموں کی وجہ سے میں نے معاملہ من وعن بیان کردیا۔اس پر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ عدالتوں کو خالی قسمیں نہیں ثبوت چاہیے ہوتے ہیں جبکہ وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ اے این ایف نے تو تفتیش کے بنیادی سوالات کو ملحوظ خاطر ہی نہیں رکھا۔فیصل واوڈا نے ڈی جی اے این ایف کو کہا کہ آپ نے اس اہم معاملے پر مبہم ایف آئی آر درج کی۔ بحث کے دوران وفاقی وزراء شیریں مزاری، فواد چوہدری اور مراد سعید نے کہا کہ تفتیش آپ نے کی اب الزام وزیراعظم پر آرہا ہے، ہم جس وزیراعظم کو جانتے ہیں وہ کسی پر ہیروئن کا الزام نہیں لگوا سکتے۔خیال رہے کہ رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے میرا نام لے کر گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء نے استفسار کیا کہ اے این ایف نے بروقت میڈیا کو بریف کیوں نہیں کیا؟ سیف سٹی منصوبے کے کیمروں میں وقت کا فرق کیوں آرہا ہے؟ ڈی جی اے این ایف کا کہنا تھا کہ ہم نے انٹری کی بجائے ایگزٹ کا ٹائم لے لیا تھا، ہمارا مقصد ملک کو منشیات سے پاک کرنا ہے، کسی پرالزام تراشی کرنا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی سیاسی وابستگی نہیں، ہم حکومت کے ملازم ہیں، ہم نے کسی پرسیاسی کیس نہیں ڈالا بلکہ جو کیا وہ حقائق پر مبنی ہے۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈی جی میجر جنرل محمد عارف ملک نے وفاقی کابینہ کو بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کو صرف چار مرلے کا گھر وراثت میں ملا لیکن اب وہ 25 سے 30 ارب روپے کے مالک ہیں۔وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈی جی میجر جنرل محمد عارف ملک نے رانا ثنا اللہ کیس پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ کوئی جج یہ کیس سننے کو تیار نہیں تھا۔ ہمارے پاس ایک لاکھ روپے فیس والا وکیل ہے جبکہ رانا ثنا اللہ کا کیس ایک ریٹائرڈ جج لڑ رہا ہے۔ 9 سی کے ملزم کی آج تک ضمانت نہیں ہوئی۔ڈی جی اے این ایف نے انکشاف کیا کہ رانا ثنا اللہ کو چار مرلے کا مکان وراثت میں ملا لیکن اب ان کے اثاثوں کی مالیت 25 سے 30 ارب روپے ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اے این ایف کا مقابلہ مافیا سے ہے، قانونی معاونت کو بہتر بنائیں۔وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کیس کو درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیا گیا۔ ایف آئی آر اور پریس کانفرنس کے موقف میں واضح تضاد تھا۔شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ آج کل ہر کارروائی کی فوٹیج ضرور بنائی جاتی ہے۔ اے این ایف کارروائی کی فوٹیج کیوں نہیں بنائی گئی؟وفاقی وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ کارروائی اور کیس کی مس ہینڈلنگ کے باعث اپوزیشن کو تنقید کا موقع ملا۔ مافیا نے اے این ایف کی طریقہ کارروائی کو شکست دے دی۔ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس کا کابینہ اراکین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہماری کوئی سیاسی وابستگی نہیں، شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہیں۔کابینہ رکن طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ ہائی پروفائل کیس کو روٹین کے کیس کے طور پر کیوں لیا گیا؟ اس پر ڈی جی اے این ایف نے کہا کہ رانا ثنا اللہ سیاسی شخصیت ہیں، اس لیے کارروائی سے پہلے مکمل تسلی کی۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈی جی میجر جنرل محمد عارف ملک کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس رانا ثنا اللہ کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، ان کے خلاف مضبوط کیس تیار ہے، کیس کا ٹرائل ہوگا تو حقائق قوم کے سامنے آ جائیں گے۔ اے این ایف آزاد ادارہ ہے، قانون کے مطابق کام جاری رکھے گا۔وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر ہدایات جاری کیں کہ ڈی جی اے این ایف قانون کے مطابق کارروائی کریں، حکومت قانون کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اے این ایف ریاستی ادارہ ہے، حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی۔بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان سے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں وزیر مملکت شہریار آفریدی بھی موجود تھے، وزیر اعظم عمران خان کو رانا ثنا اللہ کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور اس کیس کے متعلق تمام تر حقائق وزیر اعظم کے سامنے رکھے گئے۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا ایجنڈا اصلاحات اور عوام کی فلاح و بہبود ہے،مشکل ترین مالی حالات کے باوجود حکومتی کوششوں کے نتیجے میں معیشت کو استحکام ملا ہے،کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے،سال 2020عوام کا سال ہے، آئندہ سال میں حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ جہاں معاشی استحکام کا عمل مزید مستحکم ہو وہاں اس استحکام کے ثمرات عام آدمی تک میسر آئیں۔منگل کو وزیرِ اعظم عمران خان سے پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی مجموعی صورتحال، سال2019میں حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے اور آنے والے سال میں عوامی مسائل سے متعلقہ قانون سازی اور گذشتہ سال کی کامیابیوں کے ثمرات کو عوام تک پہنچانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سال 2020 عوام کا سال ہو گا اور نئے سال میں حقیقی تبدیلی کے ثمرات عوام کو پہنچیں گے۔ ا، ملاقات میں ملکی مجموعی صورتحال، سال2019 میں حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال اور آنے والے سال میں عوامی مسائل سے متعلقہ قانون سازی اور گزشتہ سال کی کامیابیوں کے ثمرات کو عوام تک پہنچانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مشکل ترین مالی حالات کے باوجود حکومتی کوششوں کے نتیجے میں معیشت کو استحکام ملا ہے، کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، معاشی ٹیم کی جدوجہد اور محنت سے اقتصادی اعشاریوں میں آنے والی بہتری کا اعتراف ورلڈ بینک سمیت بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا ایجنڈا اصلاحات اور عوام کی فلاح و بہبود ہے، نیا سال ملکی ترقی و اقتصادی استحکام کا سال ہوگا، آئندہ سال میں حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ جہاں معاشی استحکام کا عمل مزید مستحکم ہو وہاں اس استحکام کے ثمرات عام آدمی تک میسر آئیں اور ان کی زندگیوں میں بہتری واقع ہو، سال 2020عوام کا سال ہے جس میں عوام خوشخبریاں سنیں گے، عوامی مفادات اور عوام سے متعلق مسائل کے حل کرنے اور اس سلسلے میں قانون سازی پر بھرپور توجہ دی جائے اہم حکومتی منصوبے نئے سال میں شروع ہوں گے اور نئے سال میں حقیقی تبدیلی کے ثمرات عوام کو پہنچیں گے۔عمران خان کاکہنا تھا کہ کرپشن کے ناسور نے ملک کی معیشت کو کھوکھلا کیا ہے، کرپشن کا خاتمہ پی ٹی آئی حکومت کے منشور کا بنیادی جزو ہے، کرپٹ عناصر کو قانون کے دائرے میں لانے اور کرپشن کے خلاف بھرپور جدوجہد جاری رہے گی۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول