آڈٹ رپورٹ، پنجاب میں دو سال میں ساڑھے 18کھرب کی کرپشن ہوئی 

آڈٹ رپورٹ، پنجاب میں دو سال میں ساڑھے 18کھرب کی کرپشن ہوئی 

  



لاہور(آئی این پی) پنجاب حکومت نے 2والیمز اور 1040صفحات پر مشتمل آڈٹ رپورٹ برائے 2017ء اور2018ء جاری کردی رپورٹ میں پنجاب کی سابق حکومت کی بے ضابطگیوں بے قاعدگیوں خلاف قانون ادائیگیوں اور کرپشن کے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں،دستاویزات کے مطابق سابق دور حکومت میں 18 کھرب 48 ارب 92 کروڑ 22 لاکھ 41 ہزار 37 روپے کرپشن ہوئی۔پنجاب حکومت میں پبلک فنانشل مینجمنٹ کے معاملات میں 8 کھرب 86 ارب 79 کروڑ 20 لاکھ کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔محکمہ زراعت میں 8 ارب 91 کروڑ 75 لاکھ 8 ہزار 220 روپے کی خردبرد کا انکشاف ہوا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں پیٹرول، اضافی اخراجات اور ریکارڈ مرتب ناں ہونے باعث 6 ارب 87 کروڑ 41 لاکھ 30 ہزار روہے کا نقصان ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق قرضہ جات کی ادائیگیوں، بجٹ، سپلیمنٹری بجٹ، قرضہ جات کی فراہمی سمیت دیگر میں بھی کھربوں کی کرپشن کی گئی۔ پارلیمنٹری افئیر، پرائمری ایجوکیشن اور مائنز اینڈ منرلز کے محکمے میں بھی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق فنانس ڈیپارٹمنٹ میں 5 کھرب 50 ارب 4 کروڑ سے زائد کی خرد برد ہوئی۔ محکمہ فوڈ میں 2 کھرب 40 ارب 31 کروڑ 93 سے زائد کی خردبرد ہوئی۔اضافی اخراجات، اشیا کی جانچ پڑتال کے بغیر خریداری، خلاف قانون تعیناتیاں اور ادائیگییاں،اور جرمانوں کی مد میں بھی بے بضابطگیاں منظرعام پرآئیں۔ پولیس کی تنخواہوں، لانسسز، جیلوں کے کھانوں اور غیر قانونی ادائیگیوں سمیت دیگر معاملات میں خرد برد سامنے آئی۔رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب میں 18 ارب 20 کروڑ 28 لاکھ 69 ہزار سے زائد، محکمہ صحت میں 28 ارب 55 کروڑ سے زائد، ہائیر ایجوکیشن میں 27 ارب 89 کروڑ 78 لاکھ سے زائد، انفارمیشن اینڈ کلچر میں 12 ارب 65 کروڑ 87 لاکھ سے زائد جبکہ ہائیکورٹ میں 14 ارب 17 کروڑ سے زائد کی بے ضابطگیاں سامے آئیں لائیو اسٹاک میں 3 رب 54 کروڑ 78 لاکھ، پاپولیشن ویلفیر ڈپارٹمنٹ میں 1 ارب 14 کروڑ، پی اینڈ ڈی میں 70 کروڑ 54 لاکھ سے زائد اور  ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں 37 ارب 83 کروڑ 38 لاکھ 95 ہزار 892 روپے کی کرپشن ہوئی۔ جبکہ زکو ۃ وعشر میں 4 ارب 98 کروڑ جبکہ محکمہ کھیل میں 41 کروڑ 70 لاکھ سے زائد کی بضابطگیاں منظر عام پر آئیں۔

کرپشن 

 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور میں صرف 6 کمپنیوں کو کم مارک ریٹ پر مجموعی طور پر 53 ارب 28 کروڑ 27 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بطور قرضہ دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔نجی ٹی وی کو موصول ہونیوالی رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے اربوں روپے کے قرضہ جات پر سوالات اٹھا دئیے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کی کمپنیوں کے ذریعے لاہور کی صفائی کرنیوالی کمپنی ایل ڈبلیو ایم سی کو انتہائی کم سود پر 29 ارب 93 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کا قرض دیا گیا،ایل ڈبلیو ایم سی کو 2016-17 کے دوران بھی 31 کروڑ روپے کا قرض دیا گیا، پنجاب لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کو بھی 2016 سے 2017 کے دوران 7 ارب 65 کروڑ  روپے دئیے گئے۔راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو بھی 5 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد کا قرض دیا گیا، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلمپنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی نے بھی 6 ارب 46 کروڑ 68 لاکھ روپے سے زائد قرضہ حاصل کیا، پنجاب منرل کمپنی کو 1 ارب 63 کروڑ 30 کروڑ روپے قرض کی صورت میں دیا گیا،آشیانہ اقبال سکینڈل میں ملوث کمپنی پنجاب لینڈ ڈویلمپنٹ کمپنی کو بھی 83 کروڑ 99 لاکھ روپے کے قرض سے نوازا گیا، سیالکوٹ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو 50 کروڑ روپے قرض کی صورت میں دئیے گئے۔

کم سود قرضے

مزید : صفحہ اول


loading...