ماڈل کورٹس میں تیز ترین، معیاری انصاف کی بدولت عوام کا عدلیہ پر اعتماد مستحکم ہوا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ماڈل کورٹس میں تیز ترین، معیاری انصاف کی بدولت عوام کا عدلیہ پر اعتماد ...

  



لاہور نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکور ٹ کے سبکدوش ہونیوالے چیف جسٹس سردارشمیم خان نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ ایک قابل اور مثالی شخصیت ہیں،وہ اپنی بھرپور قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت اس ادارے کے وقار میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے اور صوبے کی عوام کی امیدوں کو پورا کریں گے۔جسٹس سردار محمد شیم خان اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پراپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے مزیدکہا کہ لاہور ہائیکورٹ ایک تاریخی ادارہ ہے اور اس کا سربراہ ہونا میرے لیے باعث صد افتخار رہا ہے، انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ صوبے بھر کی عوام کو بہترین انصاف فراہم کرتے ہوئے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کررہی ہے. ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حلف لیتے ہی زیرِ التواء مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے اقدامات کئے اور جلد و معیاری انصاف کی فراہمی کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا جبکہ دوسری ترجیح عدلیہ کو بہترین انفراسٹرکچر کی فراہمی تھی جس کیلئے تمام زیرِ تعمیر منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے موثر اقدامات کئے گئے تاکہ ججز، وکلاء اور سائلین کو عدالتوں میں بہترین ماحول فراہم کیا جاسکے، جسٹس سردار محمد شمیم خان نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے بھی اقدامات کئے گئے، جس کیلئے ضلعی عدلیہ اور لاہور ہائیکورٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کیلئے خصوصی بنچز قائم کئے گئے،ہماری ان کاوشوں کو اندرون و بیرون ملک پذیرائی حاصل ہورہی ہے، مقدمات کے جلد فیصلوں کے لئے ماڈل کورٹس اور اے ڈی آر سنٹرز کو موثر انداز میں فعال کیا گیا کیونکہ روایتی انداز میں اتنی کثیر تعداد میں زیرِ التوا ء مقدمات کو نمٹانا تقریباً ناممکن تھا، ماڈل کورٹس میں تیز ترین اور معیاری انصاف کی بدولت عوام کا اعتماد عدلیہ پر مستحکم ہوا، ان کا کہنا تھا کہ ججز کی تربیت کیلئے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، جنرل ٹریننگ پروگرام کو ریسرچ بیسڈ بنایا گیا، مختلف اہم موضوعات پر اکیدمی میں ورکشاپس منعقد کروائی گئیں جس سے ججز کی صلاحیتوں میں نکھار آیا اور آج ہمارے جوڈیشل افسران پہلے سے زیادہ بہتر فیصلے کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں بار اور بنچ کے مابین مثالی تعلقات رہے اور اس ایک سال میں بار اور بنچ کے مثالی روابط کے باعث تمام عدالتوں نے اپنی استعداد کار سے بڑھ کر کام کیا، جوڈیشل افسران کو ہر ممکن سہولیات فراہم فراہم کی گئیں، لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے لئے اٹھائے گئے تمام اقدامات میں جج صاحبان کی معاونت شاملِ حال رہی، جسٹس سردار محمد شمیم خان کا کہنا تھا کہ نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ ایک قابل اور مثالی شخصیت ہیں، انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ جسٹس مامون رشید شیخ اپنی بھرپور قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت اس ادارے کے وقار میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے اور صوبے کی عوام کی امیدوں کو پورا کریں گے، انہوں نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کے انعقاد کواپنے لئے باعثِ فخرقراردیا،نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لئے باعثِ اعزاز ہے کہ وہ چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کے ساتھ ہی بطور جج لاہور ہائیکورٹ تعینات ہوئے اور چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کا تعلق کسی وکالت سے منسلک گھرانے سے نہیں تھا تاہم انہوں نے اپنی قابلیت سے بار اور بنچ میں نمایاں مقام حاصل کیا، بطور جج انہوں بہت اہم اور ہائی پروفائل مقدمات کے فیصلے کئے اور متعدد فل بنچز کی سربراہی کی، جسٹس مامون رشید شیخ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کریمینل لاء پر خصوصی عبور رکھتے ہیں، انہوں نے بہت ساری کریمینل اپیلز اور مرڈر ریفرنسزپر خوبصورت فیصلے کئے، فوجداری مقدمات میں ان کے فیصلے بطور نظیر پیش کئے جاتے ہیں، جسٹس مامون رشید شیخ کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان نے بہترین انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، وہ پورا ایک سال بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ رہے، اس ایک سال کے عرصہ میں عدالت عالیہ اور ضلعی عدلیہ میں قابلِ عمل اصلاحات لائی گئیں اور ججز کو تربیتی کورسز کیلئے متعدد مواقع فراہم کئے گئے، جس سے ضلعی عدلیہ کے ججز کو اعتماد پیدا کیا اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار لایا گیا، ضلعی عدلیہ میں ترقیوں کے عمل کو تیز کیا گیا اور جوڈیشل افسران کی فلاح و بہبود کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے، علاوہ ازیں وکلاء اور سائلین کی سہولت کے لئے مختلف اقدامات بھی اٹھائے گئے، جس سے آسان اور معیاری انصاف کی فراہمی میں مدد ملی، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان نے اپنے دور میں بار اور بنچ کے رشتہ کو مضبوط کیا، ان کے دور میں بار اور بنچ کے مابین کوئی بھی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا،مزید برآں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کالا شاہ کاکو کیمپس کی تعمیر کا معاملہ ہو یا پنجاب بھر کی خواتین ججز کے لئے وومن ججز کانفرنس کا انعقاد ہو، یہ تمام سہرے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان کے سر ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان نے لاہور ہائی کورٹ کے افسران اور ملازمین کے لئے بھی مختلف اقدامات کئے جس سے سٹاف کا معیار زندگی بہتر ہوا، چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کی قابلِ قدر خدمات عدلیہ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،قبل ازیں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب رانا محمد عارف کمال، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اختر جاوید، ممبر پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل شاہنواز اسماعیل، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن حفیظ الرحمن تارڑ، صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بنچ ملک غلام مصطفی اور جنرل سیکریٹری ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور بنچ نے بھی چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کے اعزاز میں ریفرنس پڑھے اوران کی بنچ اور بار کیلئے سرانجام دی گئی خدمات کو سراہا، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالستار نے فل کورٹ ریفرنس کی نظامت کے فرائض سرانجام دیئے،فل کورٹ ریفرنس کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے عہدیدار، پاکستان و پنجاب بار کونسلز کے ممبران، لاء افسر اور سینئروکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔

سردار شمیم

مزید : صفحہ آخر