نیا سال تو آگیا، مگر عوام کے دن اور حکومتی رویے کب بدلیں گے؟

نیا سال تو آگیا، مگر عوام کے دن اور حکومتی رویے کب بدلیں گے؟

  



تجزیہ۔ایثار رانا

کہنے کو سال بدل گیا ہے۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ اس غریب عوام کے دن کب بدلیں گے؟؟حکمرانوں کے روئیے کب بدلیں گے۔راہنماؤں کے بھیس میں لٹیروں کے سانس کب بند ہونگے۔انصاف صحت تعلیم کے خواب کب پورے ہونگے۔۔بس سوال ہی سوال ہیں اور جواب ناجانے کہاں گم ہوکے رہ گئے۔۔پوری دنیا آج جشن منا رہی ہے چراغاں ہورہا ہے اور ہماری کٹیا کا ماحول ٹھتراا دے رہاہے۔مہنگائی بدامنی بے برکتی اور مایوسی۔۔اب ایسے ماہ و سال بدلنے سے خاک ماری مخلوق کو کیا فرق پڑتا ہے۔میڈیا کوئی خوشی ہوتو دکھائے لیکن وہ تو بس خوف پھیلانے میں مصروف ہے۔سچی بات ہے عمران خان حکومت نے مایوس تو کیا ہی اسکے ساتھ اسنے آئے روز خواب  بھی توڑے۔ اسکے مشیروں نے وہی کیا جو گذشتہ حکومتیں کرتی رہیں چلیں انکا حساب ضرور ہوگا۔ کیا یہ عمران خان کے خلاف سازش نہیں اسکے مشیروں نے پٹرول کی قیمت نیو ائر نائٹ پر بڑھائیں تاکہ ایک طرف نیو ائر پہ خاک پڑے دوسری طرف انہیں اپنی بے بسی کا احساس ہو تیسرا حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو۔تمام تر مایوسی کے باوجود نجانے کیوں یہ یقین ہے عمران خان پانسہ ضرور پلٹے گا۔اسکے بندھے ہاتھ ضرور کھلیں گے۔کیسی بدقسمتی ہے ہم وہ قوم ہیں جو نئے سال کے کا آغاز قہقہوں مبارکبادوں کے بجائے پھیکی پھیکی مسکراہٹوں کے ساتھ بس ایک موہوم سی آس ایک نامعلوم سی امید کے سائے میں بھاگ رہے ہیں۔مجھے اس سسٹم پر یقین ہے نہ اسکے اصل بینیفشریز سے لیکن مجھے یقین ہے تو بس  محمد علی جناح کی بات پہ کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔مشکل وقت ضرور ہے لیکن یہ مستقل رہنے والا نہیں۔دن بدلیں گے اچھا وقت آئیے گا۔اچھی قیادت بھی آئے گی۔خوشحالی اس گھر کے آنگن میں ضرور آئے گی۔آسودگی کا مینہ بھی برسے گا۔سب کچھ بدلے لیکن تب جب ہم خود کو بدلیں گے۔مشکل وقت مستقل رہنے والا نہیں۔یہ اللہ کا وعدہ ہے یہ لوح ازل پہ لکھا۔وہ کہتا ہے ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔پھر یہ خاک نشین جشن منائیں گے چراغاں  بھی کرینگے۔۔امید  ضرور کم ہوئی ہے لیکن آس ابھی ٹوٹی نہیں۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...