سندھ حکومت کا وفاق کی جانب سے تعلیمی بجٹ کم دینے پر تشویش کا اظہار

سندھ حکومت کا وفاق کی جانب سے تعلیمی بجٹ کم دینے پر تشویش کا اظہار

  



کراچی (این این آئی) سندھ حکومت نے وفاق کی جانب سے سندھ کو دیگر صوبوں سے تعلیم کے لیے کم بجٹ دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بھی سندھ کی کئی یونیورسٹیاں سخت مالی بحران کا شکار ہیں۔وزیرزراعت سندھ محمد اسماعیل راہو نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ وفاق نے رواں سال تعلیم کے لیے 37 ارب 96 کروڑروپے کے 164 منصوبوں کی منظوری دی، وفاق نے سندھ کے ایجوکیشن کے لیے بجٹ میں دیگر صوبوں سے بھی کم 10 فیصد منصوبے بھی شامل نہیں کیے گئے، وفاق نے میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کے لیے 20 کروڑ میں سے صرف 8 کروڑجاری کیے ہیں. اسماعیل راہو نے کہا کہ ڈاؤیونیورسٹی کراچی کے لیے وفاق نے 13 کروڑ میں سے صرف 9.8 کروڑ جاری کیے, کراچی یونیورسٹی کے لیے 25 کروڑ میں سے صرف 12.5 کروڑ منظور کیے گئے، یونیورسٹی لاڑکانہ کے لیے منظورشدہ بجٹ 15 کروڑ بھی ابھی تک جاری نہیں کی گئی، یونیورسٹی بینظیرآباد کے لیے 60 کروڑ میں سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا.انہوں نے کہا کہ صوبے کو کم بجٹ ملنے پرکئی یونیورسٹیاں تنخواہیں تک نہیں دے پارہی ہیں، موجودہ حکومت نے پنجاب اور کے پی سے بھی کم بجٹ دیکر سندھ دشمنی کا ثبوت دیا ہے، عمران خان کا صوبوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھنے کا دعوی جھوٹا ثابت نکلا، جب تک وفاق سندھ کو حقوق نہیں دیتا تب تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، وفاق نہیں چاہتا کہ سندھ کے نوجوان پنجاب اور کے پی کے نوجوانوں سے آگے نکلیں، وفاق دیگر صوبوں کی طرح سندھ کو بھی تعلیم کے لیے اپنے حصے کی بجٹ دے،ریاست مدینہ کے دعویدار سندھ کے نوجوانوں سے آخر کس بات کا بدلہ لے رہے ہیں، موجودہ حکومت نے سندھ کو اپنے حقوق نہیں دے رہی۔

سندھ تعلیمی بجٹ

مزید : علاقائی