2019میں پتنگ بازی سے 6بیگناہ شہری ہلاک، 87زخمی، 1901مقدمات درج

2019میں پتنگ بازی سے 6بیگناہ شہری ہلاک، 87زخمی، 1901مقدمات درج

  



لاہور(لیاقت کھرل) سال 2019ء میں کائٹ فلائنگ کی روک تھام کے لئے قانون سازی نہ ہو سکی۔ پتنگ سازی اور پتنگ بازی کا سلسلہ عروج پر رہا۔ پتنگ کی ڈور خاموش تلوار کی طرح بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کی گردنوں وار کرتی رہی جس میں 6 بے گناہ شہری جاں بحق جبکہ 87 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے 1901 سے زائد شہریوں کے خلاف پتنگ بازی اور پتنگ سازی کا سامان پکڑنے کے الزام میں مقدمات درج کئے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں سال 2019ء کے دوران کائٹ فلائنگ کی خلاف ورزی کے لئے قانون سازی کے حوالے سے کئے گئے تمام اقدامات محض اعلانات اور فائلوں کی حد تک محدود رہے، جس کے باعث شہر کے 20 سے زائد علاقوں میں پتنگ سازی کا سامان تیار ہوتا رہا ہے جس میں مختلف سائز کی پتنگیں، بڑے بڑے سائز کے گڈے اور کیمیکل سے تیار ڈور شامل ہے،، تمام تر کوششوں اور مسلسل آگاہی مہم چلانے کے باوجود اس خطرناک اور جان لیوا کھیل کا سلسلہ تھم نہ سکا جس میں شہر کے 50 تھانوں کی حدود میں پتنگ بازی کا سلسلہ سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں دو کم سن بچوں سمیت 6 افراد کی گردنوں پر پتنگ بازی کے دوران استعمال ہونے والی ڈور نے خاموش تلوار کی طرح وار کیا، بجلی کی تاروں سے چھو جانے پر 87 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں 15 افرادکو ڈاکٹروں کی جانب سے مستقل طور پر معذور قراردیاگیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کسی ایک بھی قاتل پتنگ باز کو موقع سے گرفتار نہیں کر سکی ہے اور محض ”خانہ پری“ کے طور پر پتنگ بازوں کے خلاف کارروائی کر کے اعلیٰ افسران اور حکومت کو مطمئن کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ سٹی ڈویژن اور کینٹ ڈویژن میں پتنگ بازی کا سلسلہ عروج پررہا ہے جس میں کینٹ ڈویژن میں 825 اور سٹی ڈویژن میں 580 مقدمات رجسٹرڈ کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ماڈل ٹاؤن اور صدر ڈویژن میں بھی پتنگ بازی کا سلسلہ نہیں رُک سکا۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن رائے بابر سعید نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ پتنگ بازی کے خلاف سال بھر بھرپور مہم چلائی گئی ہے۔ پتنگ سازی اور پتنگ بازی کی روک تھام کے لئے پتنگیں اور ڈوریں تیار کرنے والے مختلف کارخانوں اور اڈوں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔تاہم پتنگ سازی اور پتنگ بازی کا سلسلہ کسی حد تک کم ہوا ہے۔

جس میں سال بھر میں لاہور پولیس کی جانب سے چلائی جانے والی مہم بھرپور کامیابی رہی ہے اس میں والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر پتنگ بازی کے حوالے سے قابو پائیں تاکہ اس خطرناک کھیل کے سلسلے کو روکا جا سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1