داتا دربار ہسپتال میں مستقل ایم ایس کا عہدہ خالی، مریض مفت علاج سے محروم

  داتا دربار ہسپتال میں مستقل ایم ایس کا عہدہ خالی، مریض مفت علاج سے محروم

  



لاہور (جاویداقبال)پنجاب میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام چلنے والے صوبے کے واحد داتادربار آئی ہسپتال میں مستقل میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا عہدہ کئی ماہ سے خا لی ہے۔جس کے باعث ہسپتال مسائل کی آماجگاہ بن گیا محکمہ نے ایک آئی کے ڈاکٹر کو قائم مقام ایم ایس کا چارج دیا لیکن ہسپتال کھنڈرات میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے اور مفت علاج معالجہ اس ہسپتال میں غریب مریضوں کے لیے ایک خواب بن گیا ہے، انڈیا سے اسمگل شدہ اور غیر رجسٹرڈ لینزز کا مریضوں پر غیرقانونی استعمال ہوتا ہے جو غریب مریضوں کو مہنگے داموں لگائے جارہے ہیں اس امر کا انکشاف پیشنٹ پرو ٹیکشن کونسل آف پاکستان کی طرف سیکرٹری اوقاف اور وزیر اوقاف کو کی گئی تحریری شکایات میں کیا گیا ہے شکایات میں کہا گیا ہے کہ آئی کے ڈاکٹر عبدالحمید کو جب سے ہسپتال کے قائم مقام ایم ایس کا چارج دیا گیا ہے غریب مریضوں اور ملازمین کے مسائل میں سو فیصد اضافہ ہوگیا ہے کسی مریض کو ایک روپے کا بھی مفت علاج معالجہ فراہم نہیں کیا جا رہا، 500 سے پندرہ سو روپے کی مالیت کا لنیز 10سے 15ہزار میں مریضوں کی آنکھوں میں لگایا جاتا ہے اس کا منافع مخصوص کمپنی،ہسپتال انتظامیہ اور میڈیکل سٹوروں کے درمیان میں تقسیم ہوتا ہے، مریضوں اور ان کے لواحقین کو صاف پانی بھی میسر نہیں ہے فلٹریشن پلانٹ موجود ہیں مگر اس میں فلٹر ہی تبدیل نہیں کرائے گئے۔کونسل نے وزیر اوقاف اور سیکرٹری اوقاف سے مطالبہ کیا ہے کہ مریضوں کے لیے مسائل کا باعث بننے والے ایم ایس کو فی الفور برطرف کیا جائے۔اس حوالے سے قائم مقام ایم ایس ڈاکٹر عبد الحمید سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ہسپتال کو اچھے طریقے سے چلا رہا ہوں مستقل ایم ایس میں نے نہیں وزیر اوقاف اور سیکرٹری اوقاف نے لگانا ہے اگر مجھے مستقل نہیں کیا جا رہا تو یہ ان کی نااہلی ہے جن لیزز کی آپ بات کر رہے ہیں یہ مجھ سے پہلے کے یہاں پر استعمال ہو رہے ہیں۔وزیر اوقاف سعید الحسن بات کی تو انہوں نے کہا کہ تحقیقات کرائیں گے غریب مریضوں کے لیے مسائل بننے والا انسان چاہے وہ ایم اایس ہو یا کوئی اور اس کو برداشت نہیں کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1