ایران کے حامی مظاہرین کا بغدادمیں امریکی سفارتخانے پر دھاوا، ٹاور نذر آتش

ایران کے حامی مظاہرین کا بغدادمیں امریکی سفارتخانے پر دھاوا، ٹاور نذر آتش

  



 بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)عراق کے شہر بغداد میں منگل کو ہزاروں مظاہرین اور ملیشیا کے جنگجوؤں نے امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا  مظاہرین  سفارتخانے کے باہر جمع ہوسفارت خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جب مظاہرین نے سفارت خانے کی بیرونی دیوار عبور کی تو اندر تعینات امریکی فوجیوں نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی مگر انہیں روکنے میں ناکام رہے۔ مظاہرین نے سفارتخانے کے ایک ٹاور کو بھی بظاہر نذرِ آتش کر دیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ایران نے ایک امریکی کانٹریکٹر کو ہلاک اور کئی کو زخمی کیا۔ ہم نے بھرپور جواب دیا اور ہمیشہ دیں گے۔ اب عراق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ اسے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عراق اپنی فورسز کے ذریعے سفارتخانے کی حفاظت کرے گا۔‘اس سے پہلے روئٹرز نے عراقی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ بغداد میں امریکی سفیر اور سفارتی عملے کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔مظاہرین اتوار کو عراق اور شام کی سرحد کے قریب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دھاوا بولنے کی کوشش امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ملیشیا جنگجوؤں کے جنازوں کے بعد ہوئی جس کے بعد وہ سخت سیکیورٹی والے بغداد کے گرین زون کی جانب مارچ کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے تک پہنچ گئے۔اس کے علاوہ مظاہرین نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی، پانی کی بوتلیں سفارتخانے پر ماریں، اور باہر لگے سیکیورٹی کیمرے توڑ دیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے دیواروں اور کھڑکیوں پر کتائب حزب اللہ کی حمایت میں وال چاکنگ بھی کی۔ان مظاہرین میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے رہنما قیس الخزالی اور کئی دیگر سینیئر ملیشیا رہنما بھی موجود تھے جبکہ عمارت کے گرد موجود باڑ پر کتائب حزب اللہ کے پرچم آویزاں کر دیے گئے۔روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ملیشیا رہنما قیس الخزالی نے کہا کہ 'امریکیوں کی عراق میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ برائیوں کی جڑ ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ نکل جائیں۔'خزالی عراق کے سب سے بااثر اور پسند کیے جانے والے ملیشیا رہنماؤں میں سے ہیں جبکہ وہ ایران کے سب سے اہم اتحادیوں میں شامل ہیں۔ملیشیا کمانڈر جمال جعفر ابراہیمی عرف ابو مہدی المہندس اور بدر آرگنائزیشن کے رہنما ہادی العامری بھی اس مظاہرے میں موجود تھے۔

امریکی سفارتخانہ

مزید : صفحہ اول