فلم تو ابھی شروع ہوئی ہے!

فلم تو ابھی شروع ہوئی ہے!
 فلم تو ابھی شروع ہوئی ہے!

  



2019ء میں ریاست، سیاست پر چھائی رہی اور آخر آخر میں تو ریاستی ادارے ایک دوسرے کے سامنے بھی آن کھڑے ہوئے۔ اس پورے سال کے دوران لگ بھگ 36پرائیویٹ ٹی وی چینلز ریاست کا موقف آگے بڑھاتے پائے گئے جبکہ ایک اکیلا پی ٹی وی حکومت کا طرفدار نظر آیا۔

ریاستی اداروں میں دھکم پیل یقینی طور پر 2020ء میں بھی ہوتی نظر آئے گی جس کا مطلب ہے کہ نئے پاکستان کا خواب مزید تاخیر کا شکار ہوگا، ایسے میں اگر عوام نے بلاول بھٹو کے ساتھ مل کر الوداع الوداع، سلیکٹڈ الوداع کا نعرہ لگانا شروع کردیا تو خوشحال پاکستان کاخواب مزید کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔

2019ء عمران خان کی 23سالہ جدوجہد کو ایکسپوز کرگیا۔ ان سے ان کے چاہنے والوں نے جتنی امیدیں باندھی تھیں، کارکردگی کے محاذ پر ایک ایک کرکے ادھ موئی ہو کر جاگریں، اب لوگوں نے امید کرنا بھی چھوڑ دیاہے، اب تو یہ کہنا بھی چھوڑ دیا ہے کہ اس کو وقت ملنا چاہئے، یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی پریس کانفرنس کرکے نہیں کہہ رہے کہ حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کیلئے چھ ماہ کا وقت کم ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عوام نے کرپشن کے خاتمے کے لئے عمران خان کو ووٹ دیا تھا، لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ خالی کرپشن کے خاتمے سے ملک ترقی نہیں کرے گا، اس کے لئے کام کرنا پڑتاہے۔نون لیگ اس راز کو جلد پاگئی تھی اور 2013ء سے 2018ء کے دوران تمام تر نامساعد اور غیرموافق حالات کے باوجود اس نے کارکردگی پر کوئی کمپرومائز نہ کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج وزیر اعظم عمران خان سے لے کر ہر چیف منسٹر ان کے شروع کئے گئے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگاتا نظر آرہا ہے۔ چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2019ء کے دوران عوام پر آشکار ہوگیا کہ خالی ایماندار قیادت کے لانے سے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ ایسی حکومت کی مثال اس بچے کی ہے جو پوری ایمانداری کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہو، مگر اسے یہ تک معلوم نہ ہو کہ جس کو ہاتھ میں پکڑے بیٹھا ہے اس کو اسٹیئرنگ کہتے ہیں۔

2019ء پاکستان کی معیشت کے لئے بھی کوئی خاص اچھا سال ثابت نہیں ہوا۔ اکتوبر 2018ء میں وزیر اعظم عمران خان کا بیان آیا تھا کہ Pakistan is desperate for loansاس کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کی جانب سے پاکستان کی مالی مدد کی گئی۔ یہ دیکھ کر امریکہ بہادر بیچ میں کود آیا اور آئی ایم ایف کو اشارہ دے کر جہاں 6ارب ڈالر کا قرضہ دلوایا وہیں پر پاکستان کو دوبارہ سے گھسیٹ کر اپنے کیمپ میں لے گیا اور سال کے آخر میں وزیر اعظم عمران خان ترکی، ملائشیا اور ایران سے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرتے نظر آئے۔ ایسا لگتا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پاکستان کو امریکہ کے کیمپ سے باہر لانے کی سنجیدہ کوشش کررہے تھے، اسی لئے ان کے خلاف عالمی سطح پر ایک سازش کا تانا بانا بنا گیا اور جب ان کو رخصت کیاگیا تو وزیر اعظم عمران خان کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کہتے پائے گئے کہ سی پیک منصوبے پر نظر ثانی کی جائے گی۔ 2019ء کے دوران ہی اپریل کے مہینے میں وزیر اعظم عمران خان کے اوپننگ بیٹسمین اسد عمر کو اس لئے وزارت خارجہ سے سبکدوش ہونا پڑا کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے میں غیر ضروری تاخیر کی تھی۔

شاید انہیں ڈر ہوگا کہ کہیں وزیر اعظم عمران خان آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے پر خودکشی نہ کرلیں، مگر پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور جولائی کے مہینے میں آرمی چیف کو اکنامک ڈویلپمنٹ کونسل کارکن بنالیا گیا جنھوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے قبل بزنس کمیونٹی کو جی ایچ کیو میں اکٹھا کرکے مژدہ جانفزا سنایاکہ نیب سے ان کا پیچھا چھڑوادیا جائے گا، ایسا ہی ایک پیغام بیوروکریسی کو بھی بھیجا گیا اور سال 2019ء کا سورج نیب کے منہ زور گھوڑے کو لگامیں ڈال کر ختم ہوگیا۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا 2020ء میں سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوگا، کیا بیوروکریسی کام پر جت جائے گی اور پی ٹی آئی حکومت کے لئے نیک نام کمائے گی، کہیں یہ دو طبقے بھی تو بلاول بھٹو کے ساتھ مل کر الوداع الوداع، سلیکٹڈ الوداع کے نعرے لگاتے نظر تو نہیں آئیں گے؟ اس حکومت کے چیلنج ابھی ختم نہیں ہوئے بلکہ سچ پوچھئے تو فلم تو ابھی شروع ہوئی ہے!

مزید : رائے /کالم