وزیراعلی ٰ کی صوبہ بھر میں ٹیوب ویلز کی سولر ائز یشن کیلئے اقدامات مزید تیز کرنے کی ہدایت 

وزیراعلی ٰ کی صوبہ بھر میں ٹیوب ویلز کی سولر ائز یشن کیلئے اقدامات مزید تیز ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ آبنوشی کو صوبہ بھر میں ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کیلئے اقدامات مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے اس سلسلے میں نئے ٹیوب ویلوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ کم ولٹیج کا مسئلہ حل کیا جا سکے، جس کی وجہ سے صوبے کی متعدد واٹر سپلائی سکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ محکمہ آبنوشی خیبرپختونخوا نے سال 2019 کے دوران نکاسی آب اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں، جن کا مقصد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خاتمہ کرنا ہے کیونکہ آلودہ پانی دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ محکمہ آبنوشی کے بتائے گئے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 268 واٹر سپلائی سکیمیں اور نکاسی آب کی 243 سکیمیں مکمل کی گئی ہیں۔ پہلے سے موجود 14 اور نئے 9 ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کی گئی ہے، 67 واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی اور ڈی آئی خان شہر کیلئے سیوریج سکیم کا فیزI مکمل کیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈی آئی خان شہر کیلئے سیوریج سکیم کا فیزII، رحمان آباد، شکردرہ اور ضلع کوہاٹ کیلئے واٹر سپلائی سکیموں پر کام جاری ہے۔ محکمہ آبنوشی کی ترقیاتی سکیموں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفینگ کے دوران وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ ضلع لکی مروت اور ڈی آئی خان میں واٹر سپلائی سکیموں کی سولرائزیشن اور بحالی عمل میں لائی گئی ہے جو اس سے پہلے کم ولٹیج کی وجہ سے غیر فعال تھیں۔ سولرائزیشن کے منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 600 واٹر سپلائی سکیمیں مکمل کی گئی ہیں، جس سے سالانہ 600 ملین روپے کی بچت ہو رہی ہے اور نیشنل گرڈ کو 18 میگاواٹ بجلی کی بچت بھی آئی ہے۔ وزیراعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ صوبے میں واٹر سپلائی سکیموں کی کل تعداد 5959 ہے جن کے ذریعے صوبے کی مجموعی آبادی 26.64 ملین میں سے 18.7 ملین آبادی کو سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ موجودہ واٹر سپلائی سکیموں کی مجموعی کوریج 70.4 فیصد ہے۔واٹر چارجز اور ریکوری کے ذریعے محاصل میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے اس مقصد کیلئے خصوصی مہمات کے انعقاد کے ساتھ 4200 غیر قانونی کنکشنز بھی ہٹائے گئے ہیں۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے محکمہ آبنوشی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ جاری شدہ وسائل کا 83 فیصد خرچ کیا جا چکا ہے، جبکہ نئے اضلاع کیلئے ماسٹر پلان بھی تیار کیا جارہاہے۔ محکمہ آبنوشی نے متعدد پائلٹ پراجیکٹس بھی شروع کررکھے ہیں جن میں پانی کا تحفظ اور مصنوعی ری چارج بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کے تحت بارش کے پانی کو صاف کرکے بور کے ذریعے گراؤنڈ واٹر کی سطح کو اُٹھانے کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔خدمات کی فراہمی کو بہتر کرنے کیلئے بھی متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ اب شہری پانی کا کنکشن لینے کیلئے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ خراب پمپنگ مشینری کی 24 گھنٹوں کے اندر تبدیلی یقینی بنائی گئی ہے جبکہ صارفین کی شکایات کے جلد ازالے کیلئے ون ونڈ و آپریشن کی سہولت سمیت محکمہ کے ہر ڈویژن میں سٹیزن فسلٹیشن سنٹر قائم کئے گئے ہیں۔ معیار کو بہتر کرنے کیلئے سٹریٹ پیمنٹ ڈیزائن تبدیل کیا گیا ہے اور جی آئی پائپ کو بھی ایچ ڈی پی ای اور پی وی سی پائپ سے تبدیل کیا جائے گا۔ محکمہ آبنوشی کے مکمل کردہ میگا منصوبوں میں ایبٹ آباد میں گریوٹی کی بنیاد پر واٹر سپلائی سکیم مکمل کی گئی ہے جس پر  4280 ملین روپے لاگت آئی ہے۔ اسی طرح320 ملین روپے کی لاگت سے گولین گول سے چترال ٹاؤن واٹر سپلائی سکیم،160 ملین روپے کی لاگت سے دروش (چترال) واٹر سپلائی سکیم اور 785 ملین روپے کی لاگت سے گریوٹی واٹر سپلائی سکیم بٹ خیلہ مکمل کی گئی ہے۔ محکمہ کے تحت جاری میگا منصوبوں میں دریائے سندھ سے شکردرہ اور رحمان آباد کی واٹر سپلائی سکیمیں، لاواغر ڈیم سے کرک شہر واٹر سپلائی سکیم، لاواغر ڈیم سے کرک کی مختلف یونین کونسلز کیلئے سکیمیں، ڈی آئی خان کیلئے سیوریج اور ڈرینج کی سکیمیں، اُتلا ڈیم کی تعمیر اور ایبٹ آباد میں گریوٹی فلو واٹر سپلائی سکیم کی بحالی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گریوٹی فلو واٹر سپلائی سکیم مانسہرہ، گریوٹی کی بنیاد پر واٹر سپلائی سکیمیں برائے مینگورہ، حویلیاں، ٹانک اور سی پیک کے ذریعے 800 سکیموں کی سولرائزیشن کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ صوبہ بھر میں پانی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے واٹر سپلائی سکیموں کا معائنہ بھی شروع کیا گیا ہے اور پانی کے تحفظ کیلئے منصوبے تیار کئے جارہے ہیں۔ پانی کی 3667 لیکجز کی مرمت کی گئی ہے جبکہ صوبے میں 2156 آبی ذخائر کی صفائی اور تطہیریقینی بنائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں پانی کے معیار کی نگرانی کیلئے 8 ٹیسٹنگ لیبارٹریز بشمول  دو سب لیبارٹریز اور ایک موبائل لیبارٹری قائم کی گئی ہے جبکہ 8 موبائل لیبارٹریز کا قیام تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ واٹر کوالٹی اور ریسرچ کیلئے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اسی طرح 5 اضلاع کیلئے واٹر کوالٹی پروفائل تیار کی گئی ہیں، پانی کے ذخائر اور صارفین تک پہنچنے والے پانی دونوں سطح پر نمونوں کا معائنہ بھی عمل میں لایا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ صارفین تک صاف اور شفاف پانی پہنچ رہاہے یا نہیں۔پانی کا معیار یقینی بنانے کیلئے معائنوں کی ماہانہ رپورٹس باقاعدگی سے تیار اور پیش کی جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ اقدامات پر اطمینان کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبنوشی کو درکار 1200 ملین روپے کی سپلمنٹری گرانٹ ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی جس سے جون2020 تک 300 سکیموں کی تکمیل یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے محاصل میں اضافہ کیلئے ٹھوس اقدامات کرے اور اس کے ساتھ تمام سکیموں کی سو فیصد ای بڈنگ بھی یقینی بنائی جائے۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی گزشتہ روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات ہو ئی جس میں صوبائی اسمبلی کے پارلیمانی اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی حکمت عملی اور پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے میں یکساں ترقیاتی اقدامات اُٹھا رہی ہے، جس میں پسماندہ علاقوں اورخصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کیلئے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم ماضی کا حصہ بن چکی ہے،موجودہ نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں تمام تر اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کا مرکز و محور عام آدمی ہے۔ عوام کو درپیش مسائل کا ازالہ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ محمود خان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے نظام کی تبدیلی کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کو متعد دقوانین کے ذریعے دیر پا بنایا ہے۔ صوبائی حکومت تمام محکموں کو نئے قوانین کے تحت رولز کی جلد تشکیل کیلئے ہدایات جاری کر چکی ہے۔ ہم صوبے میں شفاف حکمرانی کا ایک دیر پا نظام قائم کرنے کیلئے شروع دن سے کوشاں ہیں تاکہ حقدار کو حق کی فراہمی یقینی ہو سکے۔

مزید : صفحہ اول


loading...