مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کا خطرہ،امریکا اور ایران آمنے سامنے لیکن ترکی نے کس ملک میں فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے ؟بڑی خبرآگئی

مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کا خطرہ،امریکا اور ایران آمنے سامنے لیکن ترکی نے ...
مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کا خطرہ،امریکا اور ایران آمنے سامنے لیکن ترکی نے کس ملک میں فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے ؟بڑی خبرآگئی

  



انقرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشرق وسطیٰ پر جنگ کے سائے منڈلانے لگے۔عراق میں پرتشدد مظاہروں کے بعد امریکا اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں ایسے میں ترکی نے لیبیا میں جاری خانہ جنگی میں اپنا کردار اداکرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی فوجیں طرابلس بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ اردو پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجی لیبیا کے درالحکومت طرابلس بھیجنے کی کوشش کررہا ہے اور اس ضمن میں پارلیمنٹ سے منظوری کی تیاریاں جاری ہیں۔

ترکی کے بقول اس کے اس اقدام کا مقصد لیبیا کی وفاقی حکومت کے وزیراعظم فائز السراج کی مدد کرنا ہے۔ترک وزیر دفاع حلوصی آکارکے مطابق وزارت دفاع نے اس حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث اور منظوری سے قبل ہی فوجیوں کو طرابلس بھجوانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں تاکہ منظوری کی صورت میں اس پر فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔منگل کے روزایک ٹی وی کو دیئے گئے بیان میں آکار نے کہا کہ ان کا ملک لیبیا کے برادر عوام کو لاحق خطرات پر بے نیاز نہیں رہ سکتا۔

حلوصی آکار کے مطابق لیبیا میں وفاق کی حکومت کے ساتھ سکیورٹی اور عسکری تعاون کے جس سمجھوتے پر دستخط کیے گئے ہیں وہ تربیتی شعبے میں تعاون تک محدود ہے اور اس میں فوجی کارروائی شامل نہیں۔ ترک وزیر دفاع کے مطابق مذکورہ یادداشت کے تحت ترکی کی فوج کی سرگرمیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائیں گی۔

واضح رہے ترک فوجیوں کو لیبیابھیجنے کے معاملہ پربحث کیلئے ترکی کی پارلیمنٹ نے پیر کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کررکھا ہے۔

دوسری جانب ترک ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ترکی نے اپنے ہمنوا شامی عسکری گروپوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیرین نیشنل آرمی (انقرہ کی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کی ایک عسکری تشکیل جو شمالی شام کے علاقوں میں سرگرم ہے) کے عناصر کو تیار رکھے تا کہ انہیں لیبیا بھیجا جا سکے۔

مزید : عرب دنیا /بین الاقوامی