سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر احتجاج کے جرم میں سزا یافتہ محمد سلطان کو برین ٹیومر، ہسپتال میں بھی ہتھکڑیاں نہ کھولی گئیں

سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر احتجاج کے جرم میں سزا یافتہ محمد سلطان کو برین ٹیومر، ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر احتجاج کے جرم میں سزا یافتہ محمد سلطان کو برین ٹیومر، ہسپتال میں بھی ہتھکڑیاں نہ کھولی گئیں

  



ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں امیر اور غریب کیلئے انصاف کے الگ نظام کی تلخ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، یہاں امیر اور طاقتور کو نہ صرف تمام سہولتیں ملتی ہیں بلکہ انہیں بیرون ملک بھی منتقل کیا جاتا ہے لیکن غریب آدمی اسی گلے سڑے نظام میں پڑا سڑتا رہتا ہے۔

گزشتہ برس ایک پروفیسر کی میت کو ہتھکڑیاں لگانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں لیکن اب نئے سال کے پہلے دن اس شخص کی ایسی ہی تصاویر وائرل ہوئی ہیں جس کا جرم سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر احتجاج کرنا تھا۔

ضلع بھکر سے تعلق رکھنے والے محمد سلطان کو 2014 میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے دوران پولیس نے گرفتار کیا ، انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اسے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

قید کے دوران ہی سلطان برین ٹیومر میں مبتلا ہوا ۔ ورثا کی انسانی ہمدردی کی درخواست پر سلطان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیاگیا، سلطان کو علاج کیلئے نشتر ہسپتال تو منتقل کردیا گیا لیکن موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا اس بد نصیب کی آپریشن سے پہلے بھی ہتھکڑیاں نہیں کھولی گئیں۔

سلطان کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی جانب سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ٹوئٹر پر ’ جسٹس فار سلطان‘ کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اس ہیش ٹیگ کے ذریعے لوگ اس نظام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں جو طاقتور کے گھر کی لونڈی بنا رہتا ہے لیکن غریب اور کمزور کیلئے کسی فرعون سے کم نہیں ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /ملتان