سالِ نو مبارک، مگر؟

سالِ نو مبارک، مگر؟

  

پولیس حکام نے اِس بار پیشگی اعلان کیا ہے کہ جو لوگ نئے سال کے حوالے سے ہلڑ بازی اور غیر اخلاقی، غیر قانونی حرکات کے مرتکب ہوں گے وہ نئے سال کی رات حوالات میں گزاریں گے، ہر سال کی طرح نیا عیسوی سال منانے والوں نے تیاریاں کر رکھی ہیں، تاہم اِس بار سابقہ معمول سے ہٹ کر پولیس بھی خبردار ہے۔ مغربی دُنیا میں جو ہوتا ہے وہ ان کا اپنا معاشرتی چلن ہے،لیکن ہم جو اپنی اعلیٰ اور ارفع تہذیبی اقدار رکھتے ہیں، بھی خرافات میں مبتلا ہو جاتے ہیں،ممنوعہ مشروب کی فروخت اور نرخوں کے حوالے سے خبریں شائع ہوتی ہیں،نوجوان ہلا گلا کرنے کے لیے اپنی تیاریاں کرتے ہیں، موٹر سائیکلوں کے سائیلنسر اتار کر چلانا اور رات بارہ بجے زور زور سے ہارن بجا کر شور کرنا بھی ان کا مشغلہ ہے اور کراچی جیسے شہر میں تو سمندر کنارے خرمستیاں ہوتی ہیں۔ 31دسمبر کی شب(بارہ بجے) ایسا احساس ہوتا ہے کہ یہ سب ”دیوانے“  ہو گئے ہیں،ان کو نہ اپنا خیال ہوتا ہے اور نہ سوئے ہوئے شہریوں کے آرام کی پروا، پولیس بھی ہر سال ان کو روکنے کی کوشش کرتی اور پھر ان کے درمیان آنکھ مچولی بھی ہوتی ہے، تاہم اِس بار پیشگی اعلان سے یہ احساس ہوا کہ کم از کم پنجاب اور لاہور کی حد تک سختی کی جائے گی،کراچی میں تو انتظامیہ نے عوام کو کلفٹن ساحل جانے کی بھی اجازت دے دی، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون جیتتا ہے۔ لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ بڑے مضبوط ارادے سے بدنظمی کو روکنے کے احکام دے چکے اور خود نگرانی کرنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔آج جب یہ سطور قارئین کی نظروں سے گزریں گی تو اِس حوالے سے بھی خبریں ہوں گی اور علم ہو جائے گا کہ اِس سال انتظامیہ کتنی کامیاب ہوئی۔دنیا بھر میں نئے سال کی خوشیاں منانے کے لیے حدود و قیود پر زور دیا جا رہا ہے۔ نیو یارک سے لندن اور پیرس تک ویرانی کا راج ہے کہ کورونا وائرس لامحدود اجتماعات کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستان بھی اس وبا کے نرغے میں ہے۔اخلاقی اقدار کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کا تحفظ بھی لازم ہے،اس لیے غیر معمولی سختی سے کام لینا مجبوری بن چکا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -