مذاکرات کیسے؟

مذاکرات کیسے؟
مذاکرات کیسے؟

  

اب فنکشنل مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر محمد علی درانی کو اصرار ہے کہ قومی مذاکرات کے لئے پس پردہ کاوشیں جاری ہیں جو نظر بھی آ رہی ہیں، لیکن معروضی حالات یہ ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے ایسے کوئی آثار نہیں کہ ان کو مذاکرات کی ضرورت ہے۔یہاں تو شیخ رشید نے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کا پاکستانی پاسپورٹ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، نواز شریف لندن میں مقیم ہیں، 16فروری کے بعد تجدید کی ضرورت ہے، تاہم وزیرداخلہ نے اس سے پہلے ہی منسوخی کا اعلان کر دیا ہے،حالانکہ ابھی تک تو یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ نواز شریف لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر سے رجوع کریں گے۔ وزراء کے مطابق نواز شریف بے وطن ہو کر رہ جائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس پر احتجاج بھی کیا ہے، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود تین مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہنے والے کو برطانوی حکومت سے درخواست کے لئے مجبور کر رہی ہے کہ موجودہ حالات میں تو نوازشریف واپس آنے سے رہے، تاہم کہتے ہیں ”جھلا کرے، کولیاں، تے رب کرے سولیاں“(یعنی مجذوب تو غلط کرتا ہی ہے، البتہ سوہنا رب سہولتیں فرما دیتا ہے) اب یہ نوازشریف اور ان کی جماعت پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، ابھی ایک ماہ اور چودہ روز باقی ہیں، اس عرصہ میں کیا ہوتا ہے، کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا، البتہ اگر کچھ بھی نہ ہوا تو پھر قائد مسلم لیگ کے پاس دو ہی راستے ہوں گے۔ ایک یہ کہ وہ واپسی کا سفر اختیار کرکے جیل جائیں اور پھر عدالتوں سے ریلیف کی توقع رکھیں، دوسرا راستہ وہ ہے، غالباً جسے وہ پسند نہیں کریں گے، وہ یہ کہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر لیں، ہر دو صورتوں میں یہ سب اچھا نہیں ہو گا اور مزید خلفشار کی صورت ہو گی،تاہم بعض حضرات کہتے ہیں کہ سعودی عرب اس مرتبہ نوازشریف کو پھر سے اپنا مہمان بننے کی دعوت دے سکتا ہے کہ ان دنوں سرکار کچھ روٹھے روٹھے سے ہیں، بہرحال ابھی کپ اور لب کے درمیان بہت سی رکاوٹیں ہیں۔

ہمیں تو بات کرنا تھی مذاکرات کی کہ اسی کا چرچا ہے، اس سلسلے میں پہلی بات  تو یہ عرض کر دیں کہ 1977ء میں جب بھٹو حکومت اور قومی اتحاد کے درمیان محاذ آرائی شدید تھی، 9اپریل کو ریگل چوک میں گولی چل چکی تھی، ایسے ماحول میں  14اپریل کا وہ منظر آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ گورنر ہاؤس کے لان میں لگے بڑے شامیانے میں قریباً ڈیڑھ دو ہزار جیالے جمع تھے۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی، ان کا مطالبہ تھا کہ بھٹو ان کے درمیان آئیں، ذوالفقار علی بھٹو گورنر ہاؤس کی گیلری سے دیکھ رہے تھے بالآخر انہوں نے پیغام بھیجا کہ جیالے ذرا تحمل اختیار کریں، چنانچہ ایسی یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد بھٹو ان کے درمیان آئے تو وہ سب پھر سے بپھر گئے اور بڑھ بڑھ کر اسلحہ مانگنے لگے اور یہ اجازت مانگی کہ مظاہرین سے مقابلہ کرنے دیا جائے یہاں ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار کہا ”گرے ہاؤنڈز میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں“ انہوں نے کارکنوں کا مطالبہ نا منظور کیا اور ان کو ردعمل سے  منع کر دیا، یوں آمنے سامنے کی لڑائی اور خونریزی نہ ہوئی۔ اس کے علاوہ مذاکرات کے لئے خود بھٹو صاحب نے بھی پیش قدمی کی، وہ چل کر نوابزادہ نصراللہ سے نکلسن روڈ پر ان کے دفتر/ رہائش پر آئے اور ان سے بات چیت کے لئے کہا،

نوابزادہ نصراللہ کا جواب تھا کہ قیادت صدر سمیت جیل میں ہے وہ کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکتے اور یہی جواب ان کو ذیلدار پارک اچھرہ میں مولانا مودودی سے ملا، اس کے باوجود یہ بھٹو ہی تھے جنہوں نے سردار عبدالقیوم کو نظر بندی سے نکال کر مذاکرات کا مشن سونپا اور وہ کامیاب ہوئے جس بناء پر فریقین کے درمیان راولپنڈی کے وزیراعظم ہاؤس میں مذاکرات ہوئے کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے اختلاف رائے ہے، تاہم ان مذاکرات کے باوجود مارشل لاء لگ گیا اور جنرل ضیاء اقتدار پر قابض ہو گئے، یہاں تو صورت حال ہی مختلف ہے کہ فریقین پیشکش مسترد کر چکے، وزیراعظم عمران خان اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کرتے ہیں اور بلاول، مریم کہتے ہیں،پہلے وزیراعظم مستعفی ہوں، ایسے میں ضرورت کسی تیسرے فریق بلکہ مقتدر قوت کی ہے کہ وہ عمران خان کو اس پر آمادہ کریں اور اپوزیشن کو بھی پیغام بھیجیں، جہاں تک محمد علی درانی کا تعلق ہے انہوں نے پیر پگارو صبغت اللہ راشدی (راجہ سائیں) کی بات کی ہے،

اگرچہ ان پیرپگارو نے خود کچھ نہیں کہا، لیکن یہ جی ڈی اے کے سربراہ اور تحریک انصاف کے حلیف ہیں، اسی طرح سندھ میں مسلم لیگ(فنکشنل) اور پیپلزپارٹی دو کنارے ہیں، بقول پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو یہ مل نہیں سکتے، لہٰذا جب حالات یہ ہیں تو مسلم لیگ فنکشنل کی ثالثی یا مفاہمتی کوشش مشکل ہی سے بارآور ہو سکتی ہے، البتہ یہ الگ بات ہے کہ محمد علی درانی کو مقتدر طبقے کی حمائت حاصل ہو، اگر ایسا بھی ہے تو پھر بھی فریقین براہ راست یقین دہانی حاصل کرنا چاہیں گے۔ایسی صورت میں محمد علی درانی کی ضرورت نہیں رہتی اور مقتدر قوتیں یہ فریضہ خود ہی سرانجام دے سکتی ہیں، اگرچہ محاذ آرائی کی موجودہ صورت حال میں مقتدر قوت کو کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہونا چاہیے اور مذاکرات کے لئے ہدایت ہو ہی جائے تو بہتر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -