مودی سرکار کے خلاف کسان احتجاج 

مودی سرکار کے خلاف کسان احتجاج 
مودی سرکار کے خلاف کسان احتجاج 

  

متنازع زرعی قوانین کی وجہ سے مودی کے خلاف بھارت بھر میں کسانوں کے مظاہرے جاری ہیں۔ دلی اور اس کے ارد گرد کاشتکار ایک ماہ سے زائد عرصے سے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ کسان خودکشیاں کر رہے ہیں، مگر  تاحال سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔شدید سردی کے باوجود کاشتکار پُرجوش ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت تحریک چلا رہے ہیں۔ دلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی احتجاجی کسانوں کی حمایت میں کہا کہ متنازع زرعی قوانین سے کسانوں کو نہیں، مودی کے کاروباری یاروں کو فائدہ ہو گا۔کانگریسی لیڈر پریانکا گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی سرکار جو الفاظ کسانوں کے بارے میں کہہ رہی ہیں وہ گناہ ہیں، متنازع قوانین کو واپس لیا جانا چاہیے۔ سماجی لیڈر انا ہزارے نے بھی مودی سرکار  کے خلاف اور کسانوں کے حق میں احتجاج کا اعلان کیا ہے، یوں مظاہروں کا دائرہ کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ناکام ہونے کے باوجود کسان مودی سرکار کے سامنے ڈٹے ہوئے  ہیں اور کسان مخالف قوانین کی واپسی تک احتجاج  ختم نہ کرنے لیے پْرعزم ہیں۔

کسانوں نے مودی کے ریڈیو پروگرام”من کی بات“ کے دوران برتن بجا کر احتجاجی نعرے لگائے۔سنگھو بارڈر پر دھرنا دیئے کسانوں نے چمچے، تھالیاں، پلیٹیں بجا کر مودی حکومت سے متنازع زرعی قوانین واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مودی سرکار کی جانب سے پہلی بار واضح طور پر مطالبات ماننے سے انکار کیا گیا ہے،جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ بھارتی کسان یونین کے سربراہ کے مطابق جب تک حکومت بل واپس نہیں لے گی، تب تک دھرنا جاری رہے گا۔ 

 کئی دہائیوں سے معاشی بدحالی اور قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث کسانوں کی خودکشیاں بھارت کا مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ کے مطابق 2018 ء میں 10 ہزار 350 کسانوں اور زرعی مزدوروں نے خود کشی کی جو کہ بھارت میں ہونے والی مجموعی خود کشیوں کا 8 فیصد بنتی ہیں۔ مودی سرکار کے خلاف کسانوں کے احتجاج میں گزشتہ برسوں میں معاشی تنگی اور قرضوں کی وجہ سے خود کشی کرنے والے  سیکڑوں کسانوں کی بیوائیں بھی احتجاج میں شریک ہو گئی ہیں۔دہلی کے مضافات میں دھرنے پر بیٹھی ایک کسان کی بیوہ ہرشدیپ کور نے کہا کہ اگر یہ سیاہ قانون واپس نہ لیے گئے تو مزید کسان گھروں سے نکلیں گے۔ مزید مائیں اور بہنیں بیوہ ہوں گی۔ نئی دلی کی سرحد کے نزدیک ایک اور شخص نے ان کسانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اپنی جان دے دی۔ اس شخص کی شناخت امرجیت سنگھ کے نام سے ہوئی ہے، جو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھا اور اس کا تعلق ریاست پنجاب کے علاقے جلال آباد سے تھا۔ اس وکیل نے زہر پی کر خودکشی کی،جبکہ اس کے پاس سے اس کا تحریر کردہ خط بھی ملا ہے۔ اپنے خط میں اس شخص کا کہنا تھا کہ وہ کسانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے خود کشی کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک سکھ رہنما کسانوں سے اظہارِ یکجہتی اور مودی حکومت کے مظالم سے تنگ آ کر خود کشی کر چکے ہیں۔ 2016 ء میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ 2022ء تک وہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کردیں گے۔ورلڈ بینک کے مطابق بھارت میں 40 فیصد سے زائد لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔دیہی علاقوں میں گھریلو آمدنی سے متعلق حالیہ برسوں کے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، لیکن دیہی آمدنی کے ایک اہم حصے زرعی اجرت سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں، جن کے مطابق 2014 ء اور 2019ء کے درمیان ترقی کی شرح میں کمی آئی ہے۔

بھارت نے 2013ء اور 2016ء میں سروے کیے جن کے مطابق اس دورانیہ میں کسانوں کی آمدنی میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو،امگر آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013 ء سے 2016 ء کے درمیان صحیح معنوں میں کسانوں کی آمدنی میں صرف 2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسانوں کی آمدنی ایسے گھرانوں کی آمدنی کا صرف ایک تہائی ہے جو کاشتکاری سے وابستہ نہیں ہیں۔زرعی پالیسی کے ماہر دیویندر شرما کا خیال ہے کہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا  اور یہ ممکن ہے کہ اس میں کئی دہائیوں سے کمی واقع ہو رہی ہو۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان میں کئی مقامات شدید موسم سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ خشک سالی کی وجہ سے کسانوں کی آمدنی مزید متاثرہوئی ہے۔2017 ء میں ایک سرکاری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 2015 ء کے مقابلے میں 2022 ء میں کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے لیے اسے ہر سال 10.4 فیصد کی شرح سے ترقی کرنا ہوگی۔اس کے علاوہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کو کاشتکاری کے شعبے میں 6 عشاریہ 39 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت تھی،مگر سرکاری اور غیر سرکاری سرمایہ کاری کے متعلق اعداد و شمار سے واضح ہے کہ اس میں کمی ہوئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -