حکومت چوبرجی والے جہاز میں بیٹھی ہے

حکومت چوبرجی والے جہاز میں بیٹھی ہے
حکومت چوبرجی والے جہاز میں بیٹھی ہے

  

ایک زمانہ تھا جب نوسرباز سادہ لوح لوگوں کو دبئی بھیجنے کا جھانسہ دے کر چوبرجی گراؤنڈ میں کھڑے جہاز میں بٹھا کر نودوگیارہ ہو جایا کرتے تھے اور وہ سادہ لوح لوگ کئی کئی گھنٹے اس جہاز میں بیٹھے رہتے تھے تاآنکہ انہیں کوئی پاس سے گزرنے والا بتایا کرتا تھا کہ یہ  وہ جہاز نہیں ہے جو فضا میں بلند ہو کر انہیں دبئی لے جائے گا بلکہ یہ اس جہاز کا replica ہے جس کا جھانسہ دے کر انہیں لوٹ لیا گیا ہے اور وہ بیچارے روہانسے ہو کر اس جہاز سے اتر کر روتے دھوتے اپنے گاؤں واپس لوٹ جایا کرتے تھے۔

جب وزیراعظم اڑھائی برس کا عرصہ گزرنے کے بعد عوام کو بتاتے ہیں کہ بغیر تیاری کے کسی کو حکومت نہیں دینی چاہئے اور یہ کہ پہلے ایک سال کے دوران تو انہیں پاور منسٹری سے درست اعدادوشمار ہی نہیں مل پائے تھے تو لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بھی اسی چوبرجی والے جہاز میں سوا ر ہے جس نے کہیں اڑان نہیں بھرنی ہے۔ 

سیاست میں کبھی دروازے بند نہیں کئے جاتے اور کوئی سیاسی جماعت دروازے بند رکھنے کی متحمل ہو بھی نہیں سکتی، مگر پی ٹی آئی واحد سیاسی جماعت ہے جو نہ صرف چوبرجی والے جہاز میں بیٹھی سمجھ رہی ہے کہ وہ فضا میں بلند ہوکر منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے بلکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس جہاز کے تمام دروازے بھی اندرسے سختی کے ساتھ بند کر رکھے ہیں۔

یہ پی ٹی آئی کا ’میں نہ مانوں‘ والا رویہ ہی ہے جس کی وجہ سے اب اس کے اتحادیوں نے اس جہاز کی کھڑکیاں توڑ کر کودنے کی کوشش شروع کردی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور قاف لیگ ایک ایک کرکے چھلانگیں لگا کر باہر آجائیں گی اور پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر زبردستی پی ٹی آئی والوں کو جہاز سے اتار کر گھر بھیجیں گی۔ 

اگر ہمارے قارئین میں سے کسی کو چوبرجی والے جہاز کی مثال پسند نہیں آئی ہے اور اس کی طبع نازک پر گراں گزر رہی ہے تو وہ حکومت کی حالت کو سمجھنے کے لئے اس simulatorکو ذہن میں لائیں جس میں بٹھا کر خلا نوردوں کو خلا میں بھیجنے سے پہلے تربیت دی جاتی ہے۔بظاہر اس simulatorکا ماحول ہر اعتبار سے آئیڈیل ہوتا ہے اور زیر تربیت خلا نورد اپنے آپ کو خلامیں ہی محسوس کر رہا ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک انچ بھی خلا کی طرف بڑھانہیں ہوتا۔پی ٹی آئی حکومت بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کی شکار ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اسے ہر ادارے کی حمائت حاصل ہے، عوام اس کے ساتھ ہیں، اور ان کے شیخ چلی کے خواب ایک دن ضرور حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو بیس اوور کا کھیل کھیل کر نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کی شکست سے بچنا تھا اور کھلاڑیوں کے دیدہ زیب لباس، خوبصورتی سے ترچھی ہوئی داڑھیوں اور وکٹ پر خالی بلا چلانے کے پوز بنانے سے یہی لگتا تھا کہ ہم یہ میچ بچا پائیں گے مگر پھر پوری ٹیم ایک ایک کرکے ڈھیر ہوتی چلی گئی۔ پی ٹی آئی کے وزراء کا حال بھی انہی کھلاڑیوں جیسا ہے، کسے یاد نہیں ہے کہ جناب علی زیدی نے ایک مرتبہ کراچی کا کچرا صاف کرنے کا نعرہ لگایا تھا اور پھر ٹھس ہو گئے تھے۔ کچھ ایسا ہی حال وزیراعظم کے کراچی پیکیج کا ہوا ہے۔مختصر یہ کہ انتخابات سے پہلے پاور پوائنٹ پریذنٹیشنز کے ذریعے اس نے اپنا زور بازو عوام کو دکھایا مگر جب اقتدار مل گیا تو تب سے ایک simulator میں بند ہو چکی ہے اور عوام کو باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ بس خلا میں پہنچنے ہی والی ہے لیکن عوام دیکھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کارکردگی کے حوالے سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ پائی ہے اور اڑھائی برس کا عرصہ گزرگیا ہے۔ 

سچ پوچھئے تو لگتا ہے کہ حکومت اپنے بیانئے کی قید ی بن چکی ہے اور اس کے باوجود کہ ملک کے دو بڑے ”چور اور ڈاکو جناب آصف زرداری صاحب اور میاں نواز شریف صاحب“ اس کے احتساب کے دائرے سے باہر ہیں جس کا غلغلہ مچایا جاتاہے مگر حکومتی لوگوں کی باتیں سنیں تو لگتا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف دونوں ہی کسی کال کوٹھڑی میں پڑے ہوئے ہیں اور جنا ب عمران خان کے فیصلے کے منتظر ہیں کہ آیا وہ انہیں این آر او دیتے ہیں یا نہیں۔ اس سے ہمیں یاد آیا کہ نواب آف بہاولپور ایک مرتبہ عید کے موقع پر جیل گئے اور قیدیوں کی رہائی کا سامان کیا۔ رہا ہونے والے قیدیوں کے بارے میں انہیں بریفنگ دی جارہی تھی۔ایک قیدی کو سامنے لایا گیا اور نواب صاحب کو بتایا گیا کہ اسے ان کے والد گرامی نے قید کیا تھا۔ اس پر نواب صاحب بولے کہ اسے مت رہا کرو کیونکہ یہ مرحوم ابا کی نشانی ہیں۔ ان کو دیکھ کر میں اپنے والد محترم کو یاد کرلیا کروں گا۔ چنانچہ اس قیدی کو دوبارہ سے قید میں ڈال دیا گیا۔خواجہ آصف کو نیب کی قید میں ڈلوانے کا مقصد بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے کہ نواز شریف نہ سہی، ان کے قریبی ساتھی ہی سہی، کم از کم وزیراعظم اپنے حامیوں کو یہ تو کہنے والے بنیں گے کہ وہ ٹبر دے ٹبر کھاجائیں گے اور ڈکار نہیں ماریں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم کب پی ٹی آئی حکومت کو چوبرجی والے جہاز سے نیچے اتار کر بتاتی ہے کہ یہ وہ جہاز نہیں ہے جس نے نئے پاکستان کا سفر طے کرنا تھا۔ حکومت سازی اتھلیٹوں اور سنگروں کا کام نہیں ہوتا، وہ شکلیں اور ہوتی ہیں اس لئے عوام کی جان چھوڑئیے اور ملک کو آگے بڑھنے دیجئے۔

مزید :

رائے -کالم -