پیپلز پارٹی کی پھرتیاں اور محدود آپشن  

پیپلز پارٹی کی پھرتیاں اور محدود آپشن  
پیپلز پارٹی کی پھرتیاں اور محدود آپشن  

  

سال 2020 ء کی سب سے بڑی سیاسی پیش رفت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کا قیام ہے، 29دسمبر  کا دن اس حوالے سے بہت اہم ثابت ہوا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے طور پر الگ لائن لے لی، ایسا نہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے اس اتحاد کے بارے میں لوگوں کو زیادہ خوش فہمیاں تھیں، یہ سمجھا جارہا تھا کہ پیپلز پارٹی اس اتحاد کی لڑی کی سب سے کمزور کڑی ہے، لیکن جو کچھ پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہوا وہ اندازوں سے کہیں زیادہ تھا، اگرچہ“ مثبت خبروں“ والے ہاتھوں نے میڈیا پر پنجے گاڑ رکھے ہیں اور بہت جھوٹ نشر ہوتا ہے، اطلاعات کو مخصوص رنگ دے کر سامنے لایا جاتا ہے، مگر پیپلز پارٹی کے اس اجلاس کے دوران جو کچھ  ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا میں بتایا گیا وہ پیپلز پارٹی کے اپنے حلقوں نے ہی فراہم کیا تھا،اس اجلاس میں استعفیٰ پالیسی مسترد کرنے کے ساتھ لانگ مارچ کا آپشن بھی پیچھے دھکیل دیا گیا،نواز شریف کی لندن موجودگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ تک کہا گیا کہ لانگ مارچ تب ہو گا جب نواز شریف واپس آئیں گے، مولانا فضل الرحمن پر سب سے زیادہ نکتہ چینی کی گئی، کہا گیا کہ کوئی پیپلز پارٹی کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش نہ کرے، 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو شھید کی برسی پر مولانا فضل الرحمن کی عدم شرکت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ جو اپنی پارٹی کے مقامی رہنماوں کے کہنے پر برسی کی تقریب میں شرکت کی دعوت چھوڑ سکتا ہے وہ ہمیں اسمبلیاں چھوڑنے کا کہہ رہا ہے، دلچسپ بات یہ ہے جس روزپیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے حوالے سے یہ فیصلہ کن قدم اٹھایا، اسی دن کے اخبارات میں وزیر داخلہ شیخ رشید کا بیان چھپا ہوا تھا کہ آصف زرداری نے کرمنالوجی (جرائم)میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے،

خیر سیاست میں ہر جماعت کو حالات کے مطابق اپنے فیصلے خود کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، پی ڈی ایم ویسے بھی کسی کا کسی پر احسان نہیں ہے، 2018ء کے انتخابات اور اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا شکار جماعتوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اکٹھا ہوکر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا تھا،  اپنے زخم سہلاتی  پیپلز پارٹی بھی اسی لیے اس کا حصہ بنی تھی، دیکھتے ہیں اب اس نئی چال سے اسے کیا حاصل ہوتا ہے، اس سے پہلے تو 2018ء کے آر ٹی ایس الیکشن کا حصہ ہونے کے باوجود اسے بڑی بری طرح رگڑا لگا، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کرنے کا سنجیدہ پلان تھا،سپیکر سراج درانی کو اسلام آباد سے نیب کے ذریعے گرفتار کرایا گیا،آصف زرداری، ان کی ہمشیرہ اور صوبائی وزرا تک جیلوں میں ڈالے گئے،خورشید شاہ آج تک اندر ہیں،پیپلز پارٹی سے زیادہ بہتر کون جانتا ہے کہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو بھی کرپشن کیس میں گرفتار کرنے کا منصوبہ تھا، وہ تو بھلا ہو اپوزیشن کی چند جماعتوں کی جارحانہ سیاست اور عمران حکومت کی ناقص کارکردگی کا کہ پیپلز پارٹی کو ریلیف دینا مجبوری بن گئی،

پی ڈی ایم کے قیام سے تو گویا پیپلز پارٹی کو نئی زندگی مل گئی، آج اگر آصف زرداری یہ کہہ کر راستہ الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم پی این اے (1977ء) والے پاکستان قومی اتحاد والا کردار ادا نہیں کرنا چاہتے تو اس بات میں کتنا وزن ہے، یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اس تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیا الحق کا مارشل لا لگ گیا تھا،آصف زرداری کے تازہ ارشاد کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ موجودہ حکومتی بندوبست کو آئینی اور جمہوری سمجھتے ہیں، سوال تو یہ ہے کہ پھر سلیکٹر اور سلیکٹڈ کے طعنے کیوں مارے جاتے ہیں،پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تمام ممبر جماعتوں نے مسائل کی جڑ سلیکٹروں کو ٹھہرایا تو پیپلز پارٹی کیوں ہاں میں ہاں ملاتی رہی۔ 

 2014ء سے شروع ہونے والا یہ کھیل ہر طرح کے قواعد و ضوابط سے آزاد ہے، پاکستان کا یہ بے رحم حکومتی ڈھانچہ پہلی بار اس وقت دباؤ کا شکار نظر آیا جب پی ڈی ایم بنا اور پھر اس کا بیانیہ پذیرائی حاصل کرنے لگا،اب اگر پیپلز پارٹی الگ ہوکر اسی نظام کے تحت نوکری کرنا چاہتی ہے تو اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ پیپلز پارٹی نے جو کچھ کیا پی ڈی ایم کی قیادت بڑی حد تک اس سے پیشگی آگاہ تھی،بالکل ایسے ہی جیسے وہ تحریک چلانے اور ریاستی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، اسی لیے جب جے یو آئی میں چند چلے ہوئے کارتوسوں کا ضمیر جگایا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے فوری طور پر پارٹی سے بھی نکال باہر کیا،پیپلز پارٹی کی سہولت کاری کے سبب ارباب اختیار پر دباو کچھ کم ہوا تو خواجہ آصف کو دھر لیا گیا،پارٹی کی مرکزی قیادت کے اجلاس کے موقع پر خواجہ آصف کی گرفتاری باقی سب کے لیے  بھی پیغام ہے کہ سب کو جیل میں ڈالا جا سکتا ہے،اسی طرح مفتی کفایت اللہ کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ بھی آنے والے حالات کی منظر کشی کر رہا ہے، حکومت کے اس فیصلے پر مفتی کفایت اللہ کا ردعمل بہت دلچسپ ہے، انہوں نے اپنے خلاف مقدمے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ن لیگ شہباز شریف والی لائن لے لیتی تو مشکلات میں نہ پھنستی،مفاہمت کے چیمپئن شہباز شریف اپنے بیٹے سمیت جیل کاٹ رہے ہیں، گھر کی خواتین تک اشتہاری قرار پا چکیں، اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات بنا کر رکھنے کا ایک اور حامی خواجہ آصف بھی رگڑا گیا، پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے زیادہ یہ کس کو پتہ ہو گا کہ لڑے بغیر کچھ حاصل نہ ہو گا، اور ہر لڑائی کے لیے قیمت چکانا پڑتی ہے،سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کا اتحاد مضبوط اور ذہن ہر طرح کے تذبذب سے پاک ہو،پی ڈی ایم کو پیپلز پارٹی کا معاملہ اسی تناظر میں دیکھنا ہو گا۔پی ڈی ایم کے اتحاد اور بیانیے سے ہٹنا پیپلز پارٹی کو مہنگا پڑے گا۔

مزید :

رائے -کالم -