نیا سال مبارک!

نیا سال مبارک!
نیا سال مبارک!

  

اس بار نئے سال کی مبارکباد دینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ دنیا بھر میں نئے سال کا انتظار اس امید پر کیا جا رہا ہے کہ 2020ء میں کورونا کی وجہ سے زندگی جس طرح مفلوج ہو گئی تھی، 2021ء میں بحال ہو جائے گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو اور یہ موذی وبا اس نئے سال میں قصہئ پارینہ بن جائے۔ نیا سال اگرچہ کیلنڈر بدلنے سے تعلق رکھتا ہے لیکن انسانی زندگی پر اس کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ایک سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں اور ہر دن ایک نئی صبح کے ساتھ نئی امیدیں اور توقعات لے کر طلوع ہوتا ہے حالات ٹھیک ہوں تو یہ دن پل جھپکتے ہی گزر جاتے ہیں، مشکلات درپیش ہوں تو ایک ایک دن پہاڑ بن جاتا ہے گزرے سال میں ایسا ہی ہوا۔ کورونا نے زندگی کو گویا ایک بوجھ بنا دیا، جسے اتارنا عذاب بن گیا گزرے برس کے آخری ماہ اس لئے بھی مشکلات میں گزرے کہ کورونا ویکسین آنے کی تاریخ 2021ء میں دی جاتی رہی۔ ہر شخص یہی دعا مانگتا رہا کہ وہ ویکسین اور نیا سال آنے تک اس وبا سے بچا رہے۔ آج سے یہ نیا سال شروع ہو گیا ہے اور پوری انسانیت دست بدعا ہے کہ یہ دنیا کے لئے خیر و عافیت کا سال ثابت ہو، معمول کی زندگی پھر لوٹ آئے، گہما گہمی اور شہروں کی چکاچوند فضا پھر سے بحال ہو جائے۔

پاکستان بھی 2020ء میں مشکلات کا شکار رہا۔ کورونا کی وجہ سے بھی اور کچھ حکومتی پالیسیوں اور ناکامیوں کے باعث بھی عوام کو ایک تکلیف دہ سال گزارنا پڑا مہنگائی کا عذاب پوری شدت سے عوام پر ٹوٹا۔ کورونا کی وجہ سے بے روز گاری تو بڑھی ہی تھی، لیکن اس پر مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق جس طرح مہنگائی نے عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھینا اس کی گواہی ہر کوئی دے رہا ہے۔ حکمران بھی تسلی دے رہے ہیں اور عوام بھی پر امید ہیں کہ نئے سال میں ان کے یہ دکھ درد بھی دور ہو جائیں گے، مہنگائی کم ہو گی حکومت اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی اور حالات عوام کے حق میں بہتر ہو جائیں گے۔ بظاہر ایسا لگتا نہیں کیونکہ سال کے آخری دنوں میں بھی حکومت نے بجلی کی قیمت بڑھا دی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی کم نہ کیں۔ جب بجلی منگی ہوتی ہے تو باقی چیزیں بھی مہنگی ہو جاتی ہیں، بلوں کی صورت میں عوام پر براہِ راست بوجھ بھی پڑتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان تو چند روز پہلے یہ تشویشناک خبر سنا چکے ہیں کہ مہنگی بجلی خرید کر سستی قیمت پر فراہم نہیں کر سکتے انہوں نے قیمتیں بڑھانے کا واضح عندیہ بھی دے دیا ہے، اس تناظر میں یہ توقع رکھنا کہ نیا سال بہتری لائے گا ایک حسرت کے سوا کچھ نہیں۔

بعض لوگ نئے سال کی مبارکباد پر چڑ جاتے ہیں مثلاً میں نے کل ایک دوست کو نئے سال کی مبارکباد دی تو وہ پھٹ پڑے۔ کس چیز کی مبارکباد دے رہے ہو، کیا چینی سستی ہو گئی ہے، آٹا سستا ملنے لگا ہے، بجلی گیس کے بل کم آنے لگے ہیں لوگوں کو انصاف کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔ غریبوں کو عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا حق مل گیا ہے پولیس نے ظلم بند کر دیئے ہیں بیورو کریسی نے کرپشن چھوڑ دی ہے سیاستدان ملک اور عوام کی فکر کرنے لگے ہیں۔ حکومت نے عوام دوست فیصلے شروع کر دیئے ہیں۔ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ آپ مجھے نئے سال کی مبارک دے رہے ہیں میں ابھی ایک ڈاکٹر سے ہو کر آیا ہوں۔ اس نے دو ہزار روپے اپنی فیس لی اور پانچ ہزار کے ٹیسٹ لکھ دیئے جو اس کی لیب سے کرانے ہیں، دوائیاں وہ بعد میں لکھے گا، کیا ایسے ڈاکٹروں کو نئے سال میں خوف خدا آئے گا۔ ہونا تو کچھ بھی نہیں بس بیس کی بجائے اکیس لکھا جائے گا، باقی سارے کام سارے ظلم اور سارے دھندے وہی، تو کس بات کی مبارکباد قبول کروں۔ مجھے بالکل توقع نہیں تھی یوں لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ کل شیدے ریڑھی والے کے پاس جانا ہوا تو کہنے لگا بابو جی نئے سال میں کچھ عوام کی حالت بھی سدھرے گی؟ مجھے تو نہیں لگتا کہ کوئی بہتری آئے گی۔ میں نے کہا شیدے مایوسی گناہ ہے۔

کہنے لگا۔ ”بیٹا پچھلے ایک سال سے ایم اے کر کے فارغ بیٹھا ہوا ہے کوئی نوکری نہیں ملتی ریڑھی پر میں اسے کھڑا نہیں کرنا چاہتا کہ اتنا پڑھ لکھ کر بھی وہ میرے جیسے ان پڑھ بندے جیسا کام کرے۔ عمران خان نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا، کب پورا کرے گا یہ وعدہ جب مدت ختم ہو جائے گی؟“ اب ایسے لوگوں کو آپ نئے سال کی مبارکباد کیسے اور کس امید پر دے سکتے ہیں۔ نئے سال میں سیاست کا چلن تو وہی رہے گا جو پچھلے تقریباً تین برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ وہی الزام تراشیاں اور وہی جھوٹے سچے دعوے۔ وہی ایک دوجے کو نیچا دکھانے کی کوششیں اور  وہی حکومت گرانے اور بچانے کی رسہ کشی، بس عوام کا اس سارے معاملے میں کبھی کبھار ذکر آ جاتا ہے وگرنہ یہ سیاست شرفاء کا ایک مشغلہ ہے، جو وہ جاری رکھے ہوئے ہیں پی ڈی ایم پچھلے سال کی تاریخیں دیتے دیتے اگلے سال میں آ گئی ہے، دسمبر 2020ء تک عمران خان کو گھر بھیجنے کے دعوے کرنے والے اب فروری مارچ کی تاریخیں دے رہے ہیں۔

ان کے لئے تو نیا سال اسی صورت میں مبارک ہو گا جب حکومت کی چھٹی ہو جائے گی، وگرنہ تو یہ سال بھی ان کے لئے ایک آسیب ہی رہے گا جو عمران خان کی صورت میں ان پر مسلط ہے۔ سال کے آخری دنوں میں پی ڈی ایم کے لئے کچھ اچھی خبریں نہیں آئیں۔ خواجہ آصف گرفتار ہوئے اور شیڈول بھی تتر بتر ہو گیا۔ ان حالات میں نیا سال کس طرح پی ڈی ایم کے لئے مبارک ثابت ہوتا ہے یہ ایک مشکل سوال ہے۔

مزید :

رائے -کالم -