انڈیا کی ہائی برڈ وار کا ایک اور پہلو

انڈیا کی ہائی برڈ وار کا ایک اور پہلو
انڈیا کی ہائی برڈ وار کا ایک اور پہلو

  

سب سے پہلے دوست یاروں اور رشتے داروں کو سالِ نو مبارک!…… خدا کرے کہ یہ سال (2021ء) پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کا سال ثابت ہو۔(آمین)

دو روز پہلے وزیراعظم عمران خان نے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ انڈین پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جائے اور بی جے پی حکومت کی فاشسٹ حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں اور کارروائیوں کو بے نقاب کیا جائے…… وزیراعظم نے یہ باتیں ایک ہائی پاور اجلاس کے دوران کہیں جس میں کئی اہم وزراء شامل تھے اور جس کا موضوع بھارتی میڈیا کی ان کاوشوں کا جواب دینا تھا جو بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف بروئے کار لائی جا رہی ہیں …… بظاہر یہ موضوع گھسا پٹا معلوم ہوتا ہے۔ گزشتہ 74برسوں سے پاکستان یہی ’رٹ‘ لگا رہا ہے لیکن کیا اس پاکستانی واویلا کا کچھ اثر بھی ہوا ہے؟ میرے مطابق اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ازل سے تا امروز، چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی ستیزہ کار رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی ازل اگست 1947ء میں شروع ہوئی تھی اور ابدنجانے کہاں جا کر ختم ہو۔ میری پیدائش 1947ء سے پہلے کی ہے۔ پاکستان وجود میں آیا تو میں پرائمری سکول کا طالب علم تھا۔

لہٰذا بچپن سے لڑکپن، پھر جوانی اور اب بڑھاپے میں یہی کچھ سننے اور دیکھنے کو ملا ہے کہ انڈیا پاکستان کے خلاف جارحیت کر رہا ہے اور پاکستان اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔ عمران پہلے پاکستانی چیف ایگزیکٹو نہیں ہیں جنہوں نے پاکستانی میڈیا کو انڈین پراپیگنڈے کا جواب دینے کو کہا ہے۔ ہم تو آنے والے کل میں نہیں ہوں گے لیکن انڈو پاک دشمنی نجانے آئندہ کتنی نسلوں تک چلتی رہے گی! اس لئے نژادِ نو کو ہم بزرگوں سے زیادہ چوکس اور خبردار رہنا پڑے گا کیونکہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے دشمنیوں، کشیدگیوں اور عداوتوں کے تیور بدل رہے ہیں۔ چونکہ دونوں قوموں کے پاس جوہری بم اور میزائل آ گئے ہیں اور دونوں کے پاس ان کو استعمال کرنے کے لئے جدید ڈلیوری سسٹم بھی موجود ہیں اس لئے باور کیا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں گرم جنگ تو شاید نہ ہو لیکن ’سرد جنگ‘ کے امکانات ظاہر و باہر ہیں۔ ایک سرد جنگ تو وہ تھی جو مغربی بلاک اور سویت بلاک میں 45برس تک (از 1945ء تا1990ء) جاری رہی لیکن اس کے بعد کی سرد جنگ کو ایک اور نام سے یاد کیا گیا اور اس کا نام ’ہائی برڈ  وار‘ رکھا گیا۔

آپ نے منگولوں کی تاریخ پڑھی ہوگی۔چنگیز خاں اور ہلاکو کی افواج نے ہائی برڈ وار کی ایک نئی اور اولین قسم ایجاد کی تھی۔ شکست خوردہ دشمن کی سپاہ کے سرکاٹ کر ان کے مینار بنائے جاتے تھے اور ان کو پہیے لگا کر متحرک عمودی برجوں کی شکل دے دی جاتی تھی۔ پہیوں پر رواں دواں یہ بُرج جن کو ’کلاہ مینار‘ کہا جاتا تھا، منگول حملہ آور فوج کے آگے آگے تقریباً دو تین میل کی دوری پر اس ملک / شہر کی طرف دھکیل کر لے جائے جاتے تھے جس پر یلغار کرنی مقصود ہوتی تھی۔ اہلِ شہر ان کلاہ میناروں کو دیکھ کر لرز جایا کرتے اور ان کی سپاہ بھی بددل ہو جاتی تھی۔ یہی بددلی تھی جس کو بعد میں نفسیاتی جنگ کا نام دیا گیا اور آج اس کو ’ہائی برڈ وار فیئر‘کہا جانے لگا ہے…… وزیراعظم پاکستان اسی جانب اشارہ کر رہے تھے۔ بلجیم میں ڈس انفولیب (Disinfo Lab) پر تو پچھلے دنوں آپ نے بہت کچھ سن رکھاہو گا۔ راقم السطور نے بھی ایک کالم میں اس کی تفصیل بتائی تھی۔ حکومت نے ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیرخارجہ کی طرف سے ایک مشترک کانفرنس منعقد کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے ایک ضخیم اور مبسوط ڈوزیئر (فائل) ترتیب دی ہے جس میں آڈیو اور وڈیو مواد کے ذریعے انڈیا کی ان کارستانیوں کو بے نقاب کیا ہے جن کے ذریعے وہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے کے ہزار جتن اور صد ہزار حیلے کرتا رہا ہے۔ یہ کام وہ گزشتہ 15برسوں سے کر رہا ہے۔ اور تو اور اقوامِ متحدہ تک اس کی رسائی ہے اور وہ اس عالمی ادارے کو بھی چکمہ دے کر پاکستان دشمنی کا ثبوت دے رہا ہے…… یہ ثبوت پاکستان نے نہیں، مغربی ملکوں کی ایک تنظیم نے دیئے ہیں جس کو Disinfo Lab کا نام دیا گیا ہے…… ویسے تو امریکہ اور یورپی ممالک کے رویئے پاکستان کے خلاف رہے ہیں (اور ہیں) لیکن بعض اوقات لق و دق صحراؤں میں نخلستان بھی اُگ آتے ہیں!

انڈیا، اپنی ہائی برڈ وار کے جو شواہد بناتا، تیار کرتا رہا اور دنیا کے سامنے پیش کرتا رہا ہے اس کا ایک تازہ ثبوت وہ کتاب ہے جو چند روز پہلے بھارت میں شائع ہوئی ہے۔اس کا عنوان ہے:

National Security and Conventional Race (Spectre of Nuclear War)

اس کتاب کے مصنف کا نام ڈاکٹر این سی آستھانہ(N.C. Asthana) ہے جو انڈین پولیس سروس (IPS) کا ایک ریٹائرڈ آفیسر ہے۔ یہ کتاب حال ہی میں نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے اور اس کا بڑا شہرہ ہے۔ کئی بھارتی دفاعی تجزیہ نگار اس پر نقد و نظر کررہے ہیں۔ اس کا لب لباب صرف ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے جو یہ ہے: ”انڈیا کے ہاں اس کے ملٹری اور سٹرٹیجک اہداف (اپنے حریفوں کے خلاف) کا کوئی واضح تصور موجود نہیں اور وہ آئندہ کسی بھی جنگ میں نہ پاکستان کو شکست دے سکتا ہے اور نہ چین کو“…… اس کتاب میں مصنف اپنے تجزیئے کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے استدلال کرتا ہے کہ انڈین میڈیا جو آج بھارت کے ’عظیم اور مہان‘ ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹ رہا ہے اس کا کوئی عسکری جواز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا، کبھی پاکستان یا چین کو میدانِ جنگ میں شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ اس لئے انڈیا کو چاہیے کہ وہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خواہ مخوا پیسہ ضائع نہ کرے، ہوش کے ناخن لے اور قومی خزانے کو نقصان نہ پہنچائے۔ ایسا کرنے کی بجائے انڈیا کے پاس جو دوسری آپشنز ہیں ان کو استعمال کرے اور ان چیلنجوں کا مقابلہ کرے جو اس کو چین اور پاکستان کی طرف سے درپیش ہیں۔ اپنی اندرونی سیاسی صورتِ حال کو بہتر اور مستحکم بنائے اور ملٹری حل کی بجائے نان ملٹری حل کی طرف توجہ مرکوز کرے، وغیرہ وغیرہ۔

ڈاکٹر آستھانہ جو ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہے اور جس کی عمر 61برس ہو چکی ہے، وہ جب سروس میں تھا تو تب بھی اس کے کالم اخباروں میں شائع ہوتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ 48کتابوں کا مصنف ہے۔ وہ حکومت اور بیورو کریسی پر تنقید کرنے کے لئے ایک جانا پہچانا نام بھی ہے۔ وہ اپنے کالموں میں بتاتا رہتا ہے کہ حکومت (مودی سرکار) گزشتہ چھ سات برسوں سے جنگ و جدل کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بھارتی جنتا کا ایک بڑا حصہ مودی کے پیچھے ہے اور وہ پاکستان اور چین کو ’سبق‘ سکھانے کے لئے بے قرار رہتا ہے۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ ناقابلِ شکست قوت ہے اور پاکستان اور چین دونوں کو بیک وقت نیچا دکھا سکتا ہے۔ آستھانہ لکھتا ہے کہ پچھلے پانچ برسوں میں انڈیا نے جدید ہتھیاروں کی خریداری پر 14بلین ڈالر خرچ کئے ہیں جن میں 36عدد رافیل طیاروں کی رقم شامل نہیں۔ انڈیا آنے والے دس برسوں میں 130بلین ڈالر جدید ہتھیاروں کی خرید پر ’ضائع‘ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آستھانہ آخر میں نتیجہ نکالتا ہے کہ پاکستان اور چین دونوں جوہری قوتیں ہیں۔ انڈیا ان کو شکست نہیں دے سکتا۔ جنگ جب بھی شروع ہوئی وہ روائتی ہتھیاروں سے شروع ہو گی اور پاکستان بمقابلہ انڈیا چونکہ ایک کمزور ملٹری قوت ہے اس لئے وہ جلد ’جوہری دہلیز‘ تک آ جائے گا اور پھر ’دمادم مست قلندر‘ کا سماں پیدا ہو جائے گا!…… اگر بھارت کسی ناگہانی یلغار کی توقع لگائے بیٹھا ہے اور سرجیکل سٹرائیک یا کولڈ سٹارٹ سٹرٹیجی کا سوچ رہا ہے تو وہ ایام اب ’لد‘ گئے!

قارئین گرامی! بظاہر یہ کتاب اور اس میں لکھے گئے افکار و خیالات کوئی نئے نہیں۔ ایک طویل مدت سے یہ تمام آپشنز اور تمام آراء بھارتی اور پاکستانی دفاعی حلقوں میں ڈسکس ہوتی رہی ہیں۔ لیکن ایک معروف بھارتی مصنف کی طرف سے اس قسم کے خیالات پہلی بار منظر عام پر آئے ہیں۔ اس لئے میرے نزدیک یہ کتاب ہائی برڈ وار فیئر کی ایک نئی صورت ہے جس کا مدعا یہ ہے کہ پاکستان جنگ کے لئے اپنی چوکسی ’نرم‘ کر دے۔ یہ بھی ایک قسم کی نفسیاتی جنگ ہے کہ دشمن کو یہ باور کروایا جائے کہ وہ ’ناقابلِ شکست‘ ہے۔ جب کوئی حریف اس زعم میں مبتلا ہو جائے کہ اس کا ’ازلی حریف‘ اس سے مقابلے سے کترا رہا ہے تو وہ لازماً اپنی تیاریوں اور خبرداریوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے…… اور میرے خیال میں یہی اس کتاب کا مدعا ہے!

لگتا ہے کہ ڈاکٹر آستھانہ سے یہ کتاب لکھوائی گئی ہے۔ ایک پولیس آفسیر کو ملٹری کی ہائرکمانڈ، ہتھیاروں کی تاثیر، فیصلہ سازی کی پراسس، جنرل ہیڈکوارٹر میں موصول ہونے والی اطلاعات و معلومات، اپنے اور دشمن کے ٹروپس کی مقدورات (Capabilities) اور محدودات (Limitations) سے کماحقہ آگاہی نہیں ہوتی۔ آستھانہ نے جو 48 عدد کتب لکھی ہیں ان کے موضوعات نہ تو بین الاقوامی دفاع سے متعلق ہیں اور نہ انڈو پاک یا انڈوچائنا عسکری تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں …… مزید برآں یہ کہ ڈاکٹر آستھانہ کی اس تصنیف کو انڈین میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا پر اس کے (تصنیف کے) قد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو ’خوش فہمی‘ اور ’لاپرواہی‘ اور ’کم کوشی‘ سے دوچار کر دیا جائے!

مزید :

رائے -کالم -