بلاول بھٹو زرداری نے اتحادی جماعتوں کے نظریات کو دفن کر دیا؟

بلاول بھٹو زرداری نے اتحادی جماعتوں کے نظریات کو دفن کر دیا؟
 بلاول بھٹو زرداری نے اتحادی جماعتوں کے نظریات کو دفن کر دیا؟

  

مَیں نے گزشتہ ماہ مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کا ایجنڈا کیا ہے؟ کے عنوان سے کالم لکھا تو میرے جے یو آئی اور مسلم لیگ(ن) کے دوستوں نے سخت ردعمل دیا اور کہنے لگے دیکھتے جاؤ آگے آگے ہوتا ہے کیا،مریم بی بی اور مولانا فضل الرحمن پاکستان کی تاریخ بدلنے جا رہے ہیں،الیکشن میں اداروں کی مداخلت کا پتہ ہمیشہ کے لئے صاف ہونے جا رہا ہے، ان میں دو تین جو میاں نواز شریف کے جانثار ہیں ان کا موقف تو جان لیوا تھا، فرماتے ہیں: میاں اشفاق صاحب جمہوریت کو آزاد کرنے کا وقت آ گیا ہے پی ڈی ایم کے حوالے سے آپ کے اندازے غلط ثابت ہوں گے۔ پاکستان میں ترکی کی روایت دہرائی جائے گی، پاکستانی عوام مریم بی بی کی قیادت میں ٹینکوں کے آگے لیٹنے کے لئے تیار ہیں، اب اشاروں کی سیاست ختم ہو گی، سخت ترین جملوں میں مسلم لیگی کارکن اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، آپ صحافت میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے، فوج میں بھی سب اچھا نہیں ہے،عمران خان کے ساتھ دو مزید استعفے آئیں گے، مَیں نے جذباتی (ن) لیگی دوست سے سوال کیا آپ مسلم لیگ(ن) کی تاریخ سے آگاہ ہیں، کیا اس نے فوری جواب دیا آپ فوج کی گود میں جنم لینے کا طعنہ دیں،مَیں نے پھر سوال کیا، گیارہ جماعتوں کی تحریک کامیاب ہوتی ہے تو آپ وزیراعظم کس کو بنائیں گے۔

کیا مہنگائی سے تنگ عوام کو پی ڈی ایم ریلیف دِلا سکے گی، عمران خان تو ایک کروڑ نوکریوں اور50 لاکھ گھروں کا وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ کیا پی ڈی ایم کا وزیراعظم سب کچھ کرے گا، میرے سوال کے جواب میں میرے دوست فرمانے لگے: وزیراعظم کس کو بنائیں گے یہ بعد کا مسئلہ ہے ہمارا پہلا ایجنڈا جمہوریت کو بچانا ہے،عمران خان سے استعفیٰ لینا ہے فوج کی مداخلت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہے، مَیں نے ہمت کرتے ہوئے پھر سوال کر دیا، میرے دوست آپ کا ایجنڈا ہے؟ یا بھارت کا؟ بھارتی ٹی وی چینل ہر وقت پاکستان اور اس کی فوج کو توڑتے اور بدنام کرتے نظر آ رہے ہیں، کیا لانگ مارچ کے ذریعے تختہ الٹنے کی نئی روایات قائم کرنا چاہتے ہیں، کیا مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ عمران خان کو نئی زندگی نہیں دے گا، دوسرا مجھے بتائیں مذاکرات کا آپ نے دروازہ بند کر دیا ہے تو پھر سارے مطالبات کس سے کر رہے ہیں۔

میرے سوال کے جواب میں میرے دوست نے کہا آپ اتنے معصوم نہ بنیں آپ سب کچھ جانتے ہیں ہمارا مطالبہ کس سے ہے،مَیں نے معصومیت سے جواب دیا فوج اور عمران دونوں تباہی کے ذمہ دار ہیں، دونوں کے ساتھ بیٹھنا بھی نہیں چاہتے، مذاق نہ کریں کیا آپ کے مطالبات انڈیا پورے کروائے گا،جواب ملا حوصلہ کریں۔ تحریک کا اگلا مرحلہ استعفے اور پھر لانگ مارچ۔مَیں نے فوری سوال کیا کس کے استعفے،آپ کے دونوں ارکان اسمبلی تو یوٹرن لے چکے ہیں۔ مریم بی بی کی استعفے سپیکر کے منہ پر مارنے کی ہدایت کے باوجود تحریری طور پر استعفوں کو جعلی قرار دے کر واپس لے چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے مریم بی بی اور مولانا فضل الرحمن کے ایجنڈے کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے ضمنی الیکشن اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے اسمبلیوں میں رہ کر تحریک عدم اعتماد لائیں گے، اپریل کے بعد لانگ مارچ کریں گے اور ساتھ ہی استعفے دینے کے عمل کو میاں نواز شریف کی واپسی سے مشروط کرنے اور میاں نوازشریف کو لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے مطالبے کی خبریں بھی عام ہیں۔ میرے دوست کو جواب نہیں آ رہا تھا۔ فرمانے لگے آپ ابھی سندھ میں ہیں آپ نہیں جانتے31دسمبر کی رات کو مولانا فضل الرحمن اور مریم بی بی نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

مولانا اور مریم بی بی اس بات سے آگاہ ہیں جے یو آئی کی طرح مسلم لیگ(ن) میں فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی سولو فلائٹ کے چکر میں ہے اس کے باوجود  مولانا فضل الرحمن اور مریم بی بی پی ڈی ایم کے فیصلوں کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ آپ فکر نہ کریں پی ڈی ایم کے آج کے ہونے والے اجلاس میں پاکستانی عوام کو سرپرائز ملے گا۔ پی ڈی ایم کو توڑنے والوں کو بھی شرمندگی ہو گی اور فاروڈ بلاک بنانے کی سازشیں کرنے والوں کو بھی منہ کی کھانا پڑیں گی میرے بار بار سوالات نے میرے دونوں دوستوں کو پریشان کر دیا تھا،مَیں نے کہا چلو چھوڑو سب باتیں آپ  یہ بتاؤ مریم بی بی بے نظیر شہید کی برسی پر جا کر جو قوم کو سرپرائز دے چکی ہیں اور مسلم لیگ(ن) کی جنرل جیلانی(مرحوم) سے شروع ہونے والی سیاست و نظریات کو دفن کر چکی ہیں کیا اس سے بھی بڑا سرپرائز آنے والا ہے۔ میرے دوست غصے میں فرمانے لگے اب آپ صحافی بن گئے ہیں اب 1990ء نہیں ہے، 2021ء شروع ہو گیا ہے نئی نسل آ گئی ہے۔

دائیں بائیں سرخ سبز اور نظریاتی لڑائی لڑنے کا وقت نہیں رہا،اب پاکستان بچانا ہے عمران خان رہا تو کچھ نہیں بچے گا، مَیں نے دونوں دوستوں کی صاف گوئی اور سادگی پر کہا اتنا بتا دیں دایاں بازو،بایاں بازو سرخ، سبز اور نظریات کی سیاست کیا صرف ووٹ لینے کے لئے تھی؟ کیا مولانا فضل الرحمن،مولانا ساجد میر، مولانا انس نورانی کا اسلامی نظام کے لئے جدوجہد، عورت کی حکمرانی حرام، کشمیر کی آزادی کے لئے جہاد سب وقتی تھا۔ میرے سوال کا جواب صرف میرے دوستوں کی مسکراہٹ تھی، میرے ذہن میں جیالوں کا مقبول نعرہ گونجنے لگا، جس میں آصف علی زرداری سب پر بھاری، لگا کرتا تھا۔ مَیں سوچنے پر مجبور تھا آصف علی زرداری تو بھاری تھا ہی اس کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری بھی کم نہیں ہے، کم از کم پی ڈی ایم میں شامل دس جماعتوں پر تو بھاری ہے، اس نے دانش مندی دور اندیشی سے قیام پاکستان سے اب تک دائیں بائیں، سرخ سبز اور نظریات کے نام کی سیاست کرنے والوں کی سیاست کو نہ صرف دفن کر دیا ہے، بلکہ پیپلزپارٹی جو سندھ تک محدود ہو گئی تھی اس کو ملک بھر کی پارٹی کم از کم نوجوانوں میں متعارف ضرور  کرا دیا ہے۔ میری خاموشی اور سوچنے پر میرے دوست کہنے لگے میاں صاحب پریشان نہ ہوں پی ڈی ایم کا آج اجلاس ہونے دیں  سرپرائز ملیں گے، میں نے صرف اتنا کہا بھائی ابھی مزید سرپرائز ملیں گے؟

مزید :

رائے -کالم -