تعلیمی بجٹ کیلئے مختص کردہ 70فیصد کی شرح کو تیسرے سال بھی جاری رکھا جائے،ثناء احمد

 تعلیمی بجٹ کیلئے مختص کردہ 70فیصد کی شرح کو تیسرے سال بھی جاری رکھا ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پشاور کی سول سائٹی کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو سال سے لڑکیوں کی تعلیمی بجٹ کیلئے مختص کردہ 70فیصد کی شرح کو تیسرے سال بھی جاری رکھا جائے اور لڑکیوں کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے وسائل اور ان کا بہتر استعمال یقینی بنایا جائے پشاور پریس کلب میں غیر سرکاری سماجی تنظیم   بلیو وینز  کے پروگرام کورڈینیٹر قمر نسیم  اور چائلڈ رائٹس موومنٹ کی صوبائی کوآرڈینیٹر ثناء احمد نے دیگر سول سوسائٹی نمائندگان کے  ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم انحطاط کا شکار ہے اور اس سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے وسائل کی فراہمی اور ان کا بروقت استعمال ناگزیر ہے  انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک اعشاریہ آٹھ ملین بچے تعلیم کے حق سے محروم ہے جن میں 64 فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے, اس کے ساتھ ہی پرائمری اور سیکنڈری دونوں ستونوں پر لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکولوں کی کمی ہے, جس کو دور کئے بغیر لڑکیوں کی تعلیم کو بہتر بنایا جانا ممکن نہیں قمر نسیم پروگرام کورڈینیٹر  بلیو وینز نے کہاکہ کرونا وائرس کی وجہ سے معاشرتی, معاشی اور سماجی تفریق میں اضافہ ہوا ہے جس نے لڑکیوں کی تعلیم اور سیکھنے کی صلاحیت کو برے طریقے سے متاثر کیا ہے. انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو اس حوالے سے ہنگامی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ لڑکیاں بلاتفریق اپنی تعلیم اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو استعمال کرسکیں.انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیم کے لئے مختص کردہ وسائل مؤثر طریقے سیاستعمال نہیں ہو سکے تاہم حکومت خیبر پختونخوا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو مل کر ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے جو لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو سول سوسائٹی نمائندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی بجٹ میں مختص کردہ  70 فیصد کی شرح کو تیسرے سال بھی لڑکیوں کی  تعلیم کے لیے جاری رکھا جائے اور پہلے سے موجود فنڈز کے استعمال کو بہتر طریقے سے یقینی بنایا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -