کاٹلنگ،10 سالہ لڑکے کے اندھے قتل کا ڈراپ سین،ملزم گرفتار

کاٹلنگ،10 سالہ لڑکے کے اندھے قتل کا ڈراپ سین،ملزم گرفتار

  

کاٹلنگ (نمائندہ پاکستان)مردان،تھانہ کاٹلنگ پولیس نے 10 سالہ بچے محمد اسماعیل کے اندھے قتل کا معمہ حل کردیا۔بچے کو قتل کرنے والی ملزمہ گرفتار۔ڈی پی او ڈاکٹرزاہداللہ کا میڈیا پریس کانفرنس۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کاٹلنگ کی حدود نہر غاڑہ سے تعلق رکھنے والے سید ممتاز علی شاہ نے مورخہ 24 دسمبرکو اپنے 10 سالہ بچے محمد اسماعیل کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ کاٹلنگ میں درج کرائی جس پر پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے گمشدہ بچے کی تلاش و پتہ براری شروع کی کہ اس دوران مورخہ 25 دسمبر کو مذکورہ بچے کی نعش گھر سے کچھ فاصلہ پر پانی کے نالے سے برآمد ہوئی۔ضلعی پولیس سربراہ ڈاکٹر زاہداللہ نے بچے کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے واردات میں ملوث عناصر کو ٹریس کرنے کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن محمد آیاز اور ایس پی آپریشن رحیم حسین یوسفزئی کی سربراہی میں ایس ایچ اوتھانہ کاٹلنگ محمد ریاض خان و دیگر تفتیشی افسر ان پر مشتمل سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دیا۔ جنہوں نے موقع واردات کی جیوفینسنگ کی،85 مکانات کی پروفائیلنگ مکمل کی اورمتعدد افراد کو انٹاروگیٹ کیاگیا۔دوران انٹاروگیشن بچے کے قتل میں ملوث ملزمہ سمیرا زوجہ انداز خان جو کہ مقتول بچے کی ہمسایہ اوران کے کرایہ کے مکان میں رہائش پزیر تھی نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو بتایاکہ  مقتول بچہ گھر میں بہت لاڈلہ تھا اور شرارتیں کرتا تھا مقتول بچہ اسماعیل بسا اوقات ملزمہ کے بچو ں کو بھی مارتا تھا۔ وقوعہ کے روز مقتول بچہ ان کے گھر آیا تھا جس کی شرارتوں سے تنگ آکراس نے بچے کو گلے سے پکڑا اور اسکے گلے کو دبایا جس سے وہ جاں بحق ہوا۔ملزمہ نے مزید بتایا کہ اس نے مقتول بچے کو اٹھا کر کمرے میں پڑی چارپائی پر ڈال کر کمبل میں چھپایا۔ رات کو اس نے نعش کو چپکے سے قریبی نالے میں پھینک دیا۔ملزمہ نے فنگر پرنٹس مٹانے کیلئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو رگڑا جس سے وہ زخمی ہوگئی۔ملزمہ کی نشاندہی پر اسکے گھر سے وقوعہ میں استعمال ہونے والی چارپائی، کمبل اور مقتول بچے کے جوتے بھی برآمد کرلئے گئے ہیں۔ڈی پی او ڈاکٹر زاہداللہ نے اس اندھے قتل کیس کو کامیابی کیساتھ ٹریس کرنے پرپولیس ٹیم کے لئے نقد انعام و توصیفی اسناد کا بھی اعلان کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -