وقف املاک ایکٹ مسترد، اتحاد تنظیمات مدارس کاتحریک چلانے کا اعلان

   وقف املاک ایکٹ مسترد، اتحاد تنظیمات مدارس کاتحریک چلانے کا اعلان

  

 اسلا م آباد (این این آئی)اتحادتنظیمات مدارس دینیہ اورسیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین نے وقف املاک ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کردیا،وقف کرنے والے شخص کیلئے سہولتیں پیدا کرنے کے بجائے رجسٹریشن کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں،مدارس ومساجدکوغیر ملکی قوتوں کی ایما پر کسی قسم کی دہشت گردی،منی لانڈرنگ سے جوڑنا اور ان کی کردار کشی کرنا، تاریخی بددیانتی ہی نہیں بدترین اخلاقی جرم ہے،پاکستان میں مذہبی پابندیاں قبول نہیں ایسی کوششوں کی مزاحمت کریں گے،حکمران ریاست کو بالادستی کانام دے کر دینی مدارس کو تباہ کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان خیالات کااظہارسینیٹرساجدمیر، مفتی منیب الرحمن، مولانامحمدحنیف جالندھری، لیاقت بلوچ،مولانا فضل الرحمن خلیل،علامہ یاسین ظفر ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا محمدحنیف جالندھری نے متفقہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ وقف املاک ایکٹ 2020 جسے انتہائی غیر پارلیمانی اور نامناسب طریقے سے پاس کیا گیا ہے، اس کو تمام شرکا نے متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی بنیادوں پر قائم وقف املاک، رفاہی ادارے، دینی مدارس اور مساجد کا آزاد سلسلہ برصغیر میں صدیوں سے جاری ہے، وقف املاک ایکٹ 2020 دینی تعلیمات سے متصادم ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے وقف کو کسی صورت بھی اس کے مصرف کے علاوہ نہیں برتا جاسکتا، جبکہ موجودہ ایکٹ میں اس کا دروازہ کھول کر وقف کی افادیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔موجودہ ایکٹ میں وقف املاک کو بیچنے اور نیلامی کرنے کی گنجائش پیدا کرکے،کرپشن اور قبضہ کے ذریعے ان قومی اداروں کو برباد کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ دینی مدارس کے تمام وفاق ہائے تعلیم پر مشتمل اتحادِ تنظیمات مدارس پاکستان بھی اس کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کر تے ہیں۔

ایکٹ مسترد

مزید :

صفحہ آخر -